HomeHistoryWho Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل...

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 4

82 / 100

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 4

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 4

ہم نے آپ کو دوسری قسط میں دکھایا تھا کہ پرنس فیصل ایک بار یہ کہ چکا تھا اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ امریکہ سے سبھی رشتے ختم کر دیتا۔ لیکن اس وقت پرنس فیصل نے شاید وقتی غصے کی وجہ سے کہا تھا کیونکہ اس وقت امریکہ نے اسرائیل کے قیام کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ لیکن اس واقعے کو اب کئی سال ہوچکے تھے۔

ابپرنس فیصل کے پاس سارے اختیارات موجود تھے لیکن وہ امریکہ سے رشتے توڑنے کے بجائے انہیں مضبوط کر رہا تھا۔اس نے تو امریکی صدر کینیڈی سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ کے بعد ہمارا بھروسہ یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ پر ہی ہے۔

تو اب پرنس فیصل نے کینیڈی کے دباؤ پر یا پھر عالمی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے انیس سو باسٹھ، نائنٹین سکسٹی ٹو میں غلامی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان پر سعودی علماء نے ایک بار پھر سخت اعتراضات اٹھائے اور دلائل سے ثابت کیا کہ مذہب میں غلامی جائز ہے۔ لیکن پرنس فیصل نے ان کی ایک نہ سنی اور غلاموں کو آزاد کرنے کے فیصلے پر ڈٹ گیا۔

ریڈیو مکہ کے مطابق پرنس فیصل کے حکم پر کم از کم دس ہزار غلام آزاد کردیے گئے۔ پرنس فیصل اس فیصلے میں اتنا پختہ تھا کہ اس نے غلاموں کی آزادی کے لیے سعودی شہزادوں کو دس دس ملین ڈالرز، ایک ایک کروڑ ڈالرز بطور رشوت بھی ادا کیے تا کہ وہ اپنے اپنے غلاموں کو آزاد کر دیں۔

تو دوستو انیس سو باسٹھ وہ سال تھا جب ہزاروں سال بعد عرب خطے میں بھی باضابطہ انسانوں کی غلامی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم پرنس فیصل کو سعودی عرب کا ابراہم لنکن بھی کہہ سکتے ہیں۔کیونکہ تقریباً اس سےایک سو سال پہلے امریکی صدر ابراہم لنکن نے بھی بے پناہ مخالفت کے باوجود غلامی کو ختم کیا تھا اور اس کی پاداش میں اپنی جان بھی دی۔

مائی کیوریوس فیلوز اس طرح پرنس فیصل نے سعودی عرب کو اپنے ریفارمز کے ذریعے بدلنا شروع کردیا تھا۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا لیکن سعودی شاہی محلات کے بند دروازوں کے پیچھے ایک اور کشمکش بھی چل رہی تھی۔

اس کشمکش کی وجہ تھا بادشاہ سعود بن عبدالعزیز جسے پرنس فیصل نے اپنی صلاحیتوں سے ایک کونے میں دھکیل دیا تھااور وہ محض ایک نمائشی بادشاہ کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔لیکن اب یہ سمبالک بادشاہ اپنے اختیارات واپس لینے کیلئے سر توڑ کوشش کرنے لگا تھا۔

دونوں بھائیوں میں اقتدار کے حصول کی کشمکش بڑھنے لگی تھی اور پھر جلد ہی وہ وقت بھی آیا جب پرنس فیصل اور شاہ سعود کے حامی بندوقیں لے کر آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ سعودی عرب میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ ہم نے آپ کو دکھایا ہے کہ انیس سو اٹھاون، نائنٹین ففٹی ایٹ میں سعود بن عبدالعزیز نے ایک معاہدے کے تحت اپنے اختیارات پرنس فیصل کو منتقل کر دیئے تھے۔

مگر اس معاہدے کے بعد چار سال کے اندر دونوں بھائیوں میں اختلافات عروج پر پہنچ چکے تھے۔ شاہ سعود نے پہلے تو وزیراعظم کا عہدہ ختم کر کے پرنس فیصل کو چائب وزیراعظم بنا دیا۔ پھر اس نے متحرک ہوتے ہوئے سرکاری محکموں میں مداخلت بھی شروع کر دی۔ سعود بن عبدالعزیز اس بات پر بھی اعتراضات اٹھانے لگا کہ پرنس فیصل نے شاہی خاندان کے اخراجات کم کیوں کئے ہیں۔

ان سب باتوں کے علاوہ سعود بن عبدالعزیز نے اپنے بیٹوں کو اہم وزارتوں اور عہدوں پر تعینات کرنے کی کوششیں بھی شروع کر دیں تا کہ معاملات ریاست میں زیادہ سے زیادہ اپنے پنجے جما سکے۔ سعود بن عبدالعزیز کے یہ اقدامات ظاہر ہے پرنس فیصل کو پسند نہیں آ رہے تھے۔ وہ سمجھتا تھا کہ ولی عہد اورنائب وزیراعظم کے طور پر زیادہ اختیارات اسی کے پاس ہونے چاہئیں۔

اب اختلافات بڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک آ گئی کہ پرنس فیصل نے سعود بن عبدالعزیز کو بادشاہ یا شاہ کہنا ہی چھوڑ دیا۔ وہ سعود بن عبدالعزیز کے لیے بادشاہ یا شاہ کے بجائے ’وہ آدمی‘ اور ’وہ‘ کے الفاظ استعمال کرنے لگا۔ توجب شاہ سعود اور پرنس فیصل میں کشیدگی حد سے بڑھ گئی تو پرنس فیصل نے ایک سخت قدم اٹھایا۔

اس نے علماء اور طاقتور شہزادوں کی مدد سے اکتوبر انیس سو باسٹھ، نائنٹین سکسٹی ٹو میں ایک بار پھر سعود بن عبدالعزیز کو ایک نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس معاہدے کی شرائط انیس سو اٹھاون، نائنٹین ففٹی ایٹ والے معاہدے سے بھی سخت تھیں۔ نائنٹین سکسٹی و والے معاہدے میں یہ طے کیا گیا کہ اب تمام حکومتی اختیارات صرف اور صرف پرنس فیصل کے پاس ہوں گے۔

سعود بن عبدالعزیز، پرنس یصل کے فیصلوں پر صرف اپنے دستخط کرے گا اور کوئی حکم جاری نہیں کر سکے گا۔ یعنی اس معاہدے کے تحت سعود بن عدالعزیز بالکل بے اختیار ربڑ سٹمپ بادشاہ ہو گیا تھا۔ انیس سو اٹھاون والے معاہدے سے بھی زیادہ بے بس سعود بن عبدالعزیز اس معاہدے کے بعد زیادہ دن سعودی عرب میں ٹِک نہ سکااور اس نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی اور یورپ چلا گیا۔

دنیا کو دکھانے کیلئے یہی کہا گیا کہ بادشاہ علاج کی غرض سے بیرون ملک گیا ہے حکومتی اختیارات اب بھی اسی کے پاس ہیں۔ سعود بن عبدالعزیز کی غیر موجودگی میں پرنس فیصل نے اپنی نئی کیبنٹ بنائی۔ اس نے اپنے سوتیلے بھائیوں پرنس فہد اور پرنس سلطان کو بھی حکومت میں شامل کیا جو اس کے اتحادی تھے۔

اور اس نے اس کے برعکس سعود بن عبدالعزیز کے بیٹوں کوحکومتی عہدوں سے الگ کر دیا۔ اسی دور میں پرنس فیصل نے غلامی ختم کی تھی اور اپنے دس نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے کا بھی اعلان کیا تاکہ سعودی عرب کو ایک جدید ریاست بنایا جا ئےایک قبائیلی معاشرے سے آگے لے کر جایا جائے۔

بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ سعود بن عبدالعزیز کی بادشاہت ختم ہو چکی ہے اور پرنس فیصل ہی آل ان آل ہے۔ لیکن اسے زیادہ عرصہ سکون سے حکومت کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سعود بن عبدالعزیز زیادہ دیر سعودی عرب اور اقتدار سے دور نہیں رہ سکا۔

ستمبر انیس سو تریسٹھ میں سعود بن عبدالعزیز شاہ سعود اپنی مختصر جلا وطنی ختم کر کے سعودی عرب واپس آ گیا۔ اس بار وہ پرنس فیصل سے آر یا پار کی لڑائی کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو کر آیا تھا۔ اس نے واپس آتے ہی سعودی عرب کے کئی قبائل کو پیسے دے کر اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس نے اپنے حامی قبائل کو کچھ ہی عرصے میں تیس یا چالیس ملین پاؤنڈز تک کی رقم بھی ادا کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments