HomeHistoryWho Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل...

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 5

82 / 100

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 5

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 5

جب سعود بن عبدالعزیز ان قبائل کو پیسے دے کر اپنے ساتھ ملا رہا تھا تواسی وقت سعود بن عبدالعزیز کے بیٹے پرنس فیصل کو وی عہد کے عہدے سے ہٹانے کیلئے اس پر دباؤ بھی ڈال رہے تھے۔لیکن یہ دباؤ کام نہیں کر رہا تھا بلکہ الٹا پرنس فیصل نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اب سعود بن عبدالعزیز کو بادشاہت کے عہدے سے ہر صورت مکمل طور پرہٹا کر ہی دم لے گا۔

تاہم وہ چاہتا تھا کہ یہ کام پرامن طریقے سے ہو مگر شاہ سعود پرامن طریقے سے اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں تھا۔ سو شاہ فیصل نے فوج سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یوں تھا کہ سعودی فوج بھی اس سیاسی جھگڑے کی وجہ سے اب تقسیم ہو چکی تھی۔ سعودی عرب کی ایلیٹ فورس رائل گارڈز بادشاہ سعود بن عبدالعزیز کی وفادار تھی اور نیشنل گارڈز پر پرنس فیصل کا حکم چلتا تھا۔

اب شاہ فیصل نیشنل گارڈز کو لے کر شاہ سعود کے ریاض میں قائم محل الناصریہ کی طرف چل پڑا۔ شاہ سعودکو بھنک پڑی تو اس نے آٹھ سو رائل گارڈز کو اپنے محل الناصریہ کے باہر الرٹ کھڑا کر دیا۔ گارڈز نے پوزیشنزسنبھال لیں۔ ادھر پرنس فیصل کے حامی نیشنل گارڈز کے سینکڑوں سپاہی بھی جلد ہی الناصریہ کے باہرپہنچ گئے۔

انہوں نے بھی رائل گارڈز کے سامنے پوزیشن لے لی۔ سعودی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ سعودی فورسز نے ایک دوسرے پر ہی بندوقیں تان لی تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ سعودی عرب میں اب خانہ جنگی شروع ہونے ہی والی ہے۔ تاہم اس موقع پر ایک بار پھر طاقتور سعودی شہزادوں اور علماء نے مداخلت کی۔

خانہ جنگی سے بچنے کیلئے انہوں نے شاہ سعود کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ معاملات انیس سو باسٹھ، نائنٹین سکسٹی ٹو والے معاہدے کے مطابق چلیں گے۔ یعنی سعود بن عبدالعزیز صرف نمائشی حکمران ہو گا وہ کوئی اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔ شہزادوں اور علماء کی مداخلت کی وجہ سے فوری طور پر آل سعود کر درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی لیکن دونوں طرف تلخی بڑھتی ہی چلی گئی۔

مارچ انیس سو چونسٹھ، نائنٹین سکسٹی فور میں شاہ سعود نے پرنس فیصل کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ اسے سعودی شاہ کے طور پر عزت دی جائے۔ اس کے علاوہ اس کے دو بیٹوں کو وزرا کی کونسل میں بھی شامل کیا جائے۔اس نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر اس کے مطالبات نہ مانے گئے تو رائل گارڈز پرنس فیصل کے گھر کا محاصرہ کر لیں گے۔

پرنس فیصل نے یہ خط پڑھا اور اسے اپنے چھوٹے بھائی پرنس محمد کے حوالے کر دیا۔ پرنس محمد، سعود بن عبدالعزیز یعنی بادشاہ کے پاس گیا اور اس خط کو شاہ سعود کے قدموں میں پھینک دیا۔ اس موقع پر دونوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور پرنس محمد نے غصے میں دھمکی دی کہ میں اپنی تلوار تمہارے جسم کے آر پار کر دوں گا۔

یعنی شاہ سعودکو پرنس فیصل کی طرف سے یہ کھلا پیغام مل گیا تھا کہ اب بادشاہ اپنے محل میں بھی محفوظ نہیں ہے۔اس کی زندگی بھی محفوظ نہیں ہے اگر اس نے لائنز کراس کیاب عملاً صورتحال یہ تھی کہ سعودی بادشاہ شاہ سعود بن عبدالعزیز اپنے محل میں قید تھا اور اس کی بادشاہت صرف اپنے رائل گارڈز تک ہی محدود تھی۔ باقی سارا ملک پرنس فیصل کے ماتحت تھا۔

لیکن پھر یوں ہوا کہ چھبیس مارچ کی رات سعود بن عبدالعزیز کی یہ حکومت بھی ختم ہو گئی۔ پرنس فیصل نے رائل گارڈز کی کمان سعود بن عبدالعزیز سے چھین کر اپنے وفادار کمانڈر میجر جنرل عثمان حمید کے حوالے کر دی۔ اب رائل گارڈز کی ویادت بھی پرنس فیصل کا ایک وفادار جنرل کر رہاتھا اور سعود بن عبدالعزیز تنہا رہ گیا تھا۔

اور رائل گارڈز پر بھی جواس کی حکومت قائم تھی وہ بھی ختم ہو گئی تھی۔ مارچ کے بعد چند ماہ تک حالات بظاہر پر سکون رہے۔ سعود بن عبدالعزیز الناصریہ کے محل میں بیٹھ کر سعودی قبائل کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے مصری حکومت کی مدد سے پرنس فیصل کو قتل کروانے کی سازش بھی تیار کی تھی لیکن پھر کسی وجہ سے اس سازش پر عمل نہیں ہو پایا۔

ایسا سمجھا جاتا ہے۔ ادھر جب بادشاہ سعود بن عبدالعزیز اپنی پلاننگ کر رہا تھا اور ادھر پرنس فیصل ریاض چھوڑ کر جدہ چلا گیا تھا۔ تو سیاسی محاذ پر ایک ڈیڈلاک پیدا ہو گیا مگر یہ ڈیڈلاک زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکا۔اکتوبر انیس سو چونسٹھ، نائنٹین سکسٹی فور میں پرنس فیصل ریاض واپس آ گیا۔ اس بار وہ سعود بن عبدالعزیز کو ہٹانے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو کر آیا تھا۔

سعودی شہزادے، علماء اور قبائلی رہنماؤں کے علاوہ اب فوج بھی پوری اس کے ساتھ تھی۔ ان سب کی مدد سے دو نومبر انیس سو چونسٹھ کو پرنس فیصل بن عبدالعزیز کو بادشاہ بنانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔ پرنس فیصل کو بادشاہ بنانے کی سرکاری دستاویز پر بہتر، سیونٹی ٹو شہزادوں اور بارہ علماء کے دستخط تھے۔

یوں علماء اور شہزادوں کے تعاون سے پرنس فیصل اب شاہ فیصل بن چکا تھا۔ اس نے قرآن پر حلف اٹھایا کہ وہ اسلام اور سعودی روایات کے مطابق ملک پر حکومت کرے گا۔ شاہ فیصل جو سعود بن عبدالعزیز سے صرف تیس منٹ چھوٹا تھا، اسے بادشاہت چھیننے میں گیارہ سال لگے۔سعود بن عبدالعزیز نے شروع میں کچھ عرصہ شاہ فیصل کی حکومت کی بیعت کرنے سے انکار کیا اور خود ہی کو بادشاہ سمجھتا رہا۔

جب وہ کسی طرح شاہ فیصل کی بیعت پر تیار نہ ہوا تو سعودی فورسز نے اس کے محل کو پھرگھیر لیا۔ سعود بن عبدالعزیز کو خطرہ محسوس ہوا کہ اب بھی اس نے بیعت نہ کی تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ چنانچہ اس نے گرفتاری سے بچنے کیلئے مجبوراً بے دلی سے شاہ فیصل کی بیعت کر لی۔ اس بیعت کے بعد شاہ فیصل نے سعود بن عبدالعزیز کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی۔

شاہ سعود نے اپنے بال بچوں کو ساتھ لیا، مال و اسباب ایک طیارے میں لادا اور سعودی عرب سے یونان کی طرف پرواز کر گیا۔ اس کی زندگی کے آخری چند سال زیادہ تر یونان میں ہی گزرے۔ وہیں تئیس فروری انیس سو انہتر، نائنٹین سکسٹی نائن کو اس کا انتقال ہوگیا۔یوں دوستو پرنس فیصل اورشاہ سعود بن عبدالعزیز کے درمیان اقتدار کی جو لڑائی لڑی گئی تھی اس کا ایک ورژن اور بھی ہے۔

اس ورژن کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ شاہ فیصل نے سعود بن عبدالعزیز کو صرف بیڈ گورننس کی وجہ سے نہیں ہٹایا تھا۔ صل وجہ یہ تھی کہ شاہ عبدالعزیز کی موت کے فوری بعد ہی اس کے بیٹوں میں سیاسی اختلافات شروع ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہ عبدالعزیز اپنی زندگی میں پاور شیئرنگ کا کوئی ایسا فارمولہ نہیں بنا سکا تھا جس سے اس کے بیٹے مطمئن ہو جاتے۔

اور آل سعود کے درمیان بادشاہت کا جھگڑا بلکل ختم ہو جاتا یہی وجہ تھی کہ اس کے جانشین سعود بن عبدالعزیز اور ولی عہد پرنس فیصل میں پہلے دن سے ہی اختیارات کی جنگ شروع ہو گئی تھی۔ جس میں دونوں ایک دوسرے پر مختلف الزامات لگاتے رہے اور یہی جنگ بعد میں سعود بن عبدالعزیز کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بنی اور اقتدار پرنس فیصل کو منتقل ہو گیا۔

اب تاریخ کے یہ دونوں ورژن آپ کے سامنے ہیں آپ جس پر چاہیں یقین کر لیں کہ شاہ فیصل نے پرنس فیصل نے ایک سازش کر کے لوگوں کو ساتھ ملا کر شاہ سعود کی حکومت اس کی بادشاہت ختم کی تھی یا وہ واقعی اس کا اہل تھا اور لوگ اس کی صلاحیت کی وجہ سے اس کے ساتھ تھےدونوں ورژن آپ کے سامنے ہیں لیکن تاریخی حوالوں کی موجودگی میں اتنا تو اطمینان سے کہا جا سکتا ہے.

آج جب یہ دونوں نہیں رہے کہ شاہ فیصل بہرحال شاہ سعود سے تاریخی طور پر قابل حکمران ثابت ہوا۔ لیکن پھر بھی یہ حکومت اس کیلئے پھولوں کی سیج نہیں تھی اس وقت بلکہ کانٹوں کا بسترتھی۔ سطنت سنبھالتے ہی شاہ فیصل کی طاقتور مذہبی اسٹیبلشمنٹ سے آل الشیخ سےلڑائی چھڑ گئی۔

سعودی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے ای طاقت ور رکن کی طرف سے ایک ایسا فتویٰ ایک ایسا بیان آیا جو سعودی حکومت کیلئے عالمی طور پر شرمندگی کا باعث بنا۔ اسرائیل اور شاہ فیصل میں براہِ راست دشمنی کیسے شروع ہوئی؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن شاہ فیصل کون تھا کی اگلی قسط میں۔

اگر آپ نے اب تک شاہ فیصل کی شاندار بایو گرافی شروع سے نہیں دیکھی تو یہاں اور یہاں ٹچ کر یجیئے یہاں جانئے عثمانی سلطان، محمد فاتح نے قسطنطنیہ کیسے فتح کیا تھا؟اور یہاں دیکھئے کہ یورپ ایشیا سے زیادہ ترقی یافتہ کیوں ہے؟

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments