HomeHistoryWho Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل...

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 1

82 / 100

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 1

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 1

سعودی عرب کا بانی شاہ عبدالعزیز جب ایک بار اپنا جانشین نامزد کرنے پر غور کر رہا تھا تو اس نے حسرت سے کہا کاش میرے پاس پرنس فیصل جیسے ایک نہیں، تین بیٹے ہوتے۔ شاید وہ ایسا اس لیے کہتا تھا کہ اس کے نزدیک پرنس فیصل اس کے بعد بادشاہ بننے کی سب سے زیادہ اہلیت رکھتا تھا۔ وہ اپنے انتالیس، تھرٹی نائن بیٹوں میں سے اسے ہی اپنا جانشین بنانا چاہتا تھا۔

لیکن اسےیہاں ایک مسئلہ درپیش تھا۔ وہ یہ کہ قاعدے کے اعتبار سے وہ اپنے سب سے بڑے بیٹے ہی کو ولی عہد نامزد کر سکتا تھا۔ اور یہ بیٹا پرنس فیصل نہیں، بلکہ سعود بن عبدالعزیز تھا۔ یہ پرنس فیصل سے صرف تیس منٹ بڑا تھا۔

شاہ عبدالعزیز اپنے بڑے بیٹے کو جب ولی عہد بنا رہا تھا تو ان دنوں بھی بڑبڑاتا رہتا تھا کہ کاش پرنس سعود ہوتا ہی نہ ، بھلے پرنس فیصل جیسے دو تین بیٹے اور ہو جاتے۔ دوستو آخر ایک سلطنت قائم کرنے والا بادشاہ اپنے بڑے بیٹے کے بارے میں ایسا کیوں سوچتا تھا؟ اورپھر جب اس کا ان چاہا ولی عہد بادشاہ بن گیا تو سعودی سلطنت اور آل سعود کے ساتھ کیا بیتی؟

میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی مختصر سیریز ’’شاہ فیصل کون تھا‘‘ کے تیسرے حصے میں ہم آپ کو یہی سب دکھا رہے ہیں انیس سو تریپن، نائنٹین ففٹی تھری میں جب سعودی عرب کے بانی اور پہلے بادشاہ عبدالعزیز السعود کا انتقال ہواتو اسی کا نامزد ولی عہد بڑا بیٹا سعود بن عبدالعزیز سعودی تخت پر بیٹھ گیا۔

شاہ سعود بادشاہ بننے سے پہلے ہی ایک پر لطف زندگی کا عادی ہو چکا تھا۔ اس کی ایک سو کے لگ بھگ بیویاں اور لونڈیاں تھیں چوبیس محلات تھے اور ان محلوں میں کیڈلک گاڑیوں کے نت نئے ماڈلز قطاروں میں کھڑے آل سعود اور وہابی روایات کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ شراب کا بھی شوقین تھا اور دولت بھی بے دریغ خرچ کیا کرتا تھا۔

سو اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ وہ بادشاہ بنا اور اس نے خود کو ذرا بھی تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ اس نے تخت سنبھالتے ہی جو پہلے احکامات دئیے ان میں مزید نئے عظیم الشان محلات کی تعمیر جدید طیاروں اور نئی گاڑیوں کی خریداری شامل تھی۔

وہ اتنا فضول خرچ تھا کہ دارالحکومت ریاض کو سپلائی ہونے والی بجلی کا آدھا حصہصرف سعود بن عبدالعزیز شاہ سعود کے محلات میں ائرکنڈیشنگ پر خرچ ہوتا تھا۔ سعود بن عبدالعزیز کی عیاشیاں اور بیڈ گورننس سعودی عرب کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہورہی تھی۔ انیس سو تریپن، نائنٹین ففٹی تھری میں جب سعود بن عبدالعزیز بادشاہ بنا تو سعودی عرب کا قرض دو سو ملین ڈالرز، یا بیس کروڑ ڈالرز تھا۔

لیکن چند برس کے اندر ہی یہ قرض بڑھ کر چار سو اسی ملین ڈالرز ہو گیا۔ یعنی دوگنا، ڈبل سے بھی زیادہ ہو گیا۔ ادھر سعودی تیل سے حاصل ہونے والا ریونیو جو انیس سو چون میں تین سو چالیس ملین، چونتیس کروڑ ڈالرز تھا وہ دو برس بعد کم ہو کر صرف دو سو نوے ملین، انتیس کروڑ ڈالرز رہ گیا۔

قرضے بڑھنے اور آمدنی کم ہونے سے ڈالر کے مقابلے میں سعودی ریال کی قیمت بھی آدھی کم ہو گئی۔ شدید معاشی مشکلات کی وجہ سے حکومت کو کئی سرکاری پراجیکٹس روکنا پڑ گئے لیکن سعود بن عبدالعزیز کے حکم پر اس کے محلات کی تعمیر جوں کی توں جاری رہی۔ سو چکا چوند کرتے محلات تو تعمیر ہوتے رہے لیکن عوامی فلاح کے اکثر پراجیکٹس بے رنگ ڈھانچوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔

بلکہ اس سے بھی زیادہ شاہ سعود نے سعودی شہزادوں کا بتیس ہزار ڈالرز سالانہ وظیفہ یا تنخواہ بھی مقرر کر دی۔ اس تنخواہ کے علاوہ شہزادوں کو مختلف الاؤنس بھی ملا کرتے تھے۔ اب یاد رکھیں کہ شہزادے بھی آل سعود کے کوئی ایک دو چار نہیں تھے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اور بہت زیادہ شادیوں کی وجہ سے آئے دن ان کی تعداد بڑھتی ہی رہتی تھی۔

ان شاہانہ اخراجات اور خراب معیشت نے سعودی عرب کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا تھا۔ حد تو یہ ہو گئی تھی کہ سعودی عرب میں ہی کام کرنے والی آرامکو کمپنی نے بھی اسے قرض دینے سے انکار کر دیاتھا۔ جب سعودی عرب نے قرض کیلئے عالمی بینکوں کا پھر دروازہ کھٹکھٹایا تو وہاں سے بھی ٹکا سا جواب مل گیا، یعنی انکار۔

سعود بن عبدالعزیز کی نااہلی سے نہ آلِ سعود خوش تھے اور نہ ہی آلِ محمد بن عبدالوہاب۔ یعنی الاشیخ مطلب وہ علماء جو آلِ سعود کے ساتھ سترہ سو چوالیس، سیونٹین فورٹی فور سے اقتدار میں تھے وہ بھی شاہ سعود کے طور طریقوں سے عاجز آ چکے تھے۔

آل سعود کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے اگرچہ شاہ سعودسعودی شہزادوں کو وظائف تک دے رہا تھا مگر پھر بھی یہ شہزادے اس کے خلاف ہونے لگے تھے۔ سعود بن عبدالعزیز کی بیڈ گورننس کی وجہ سے شاہی خاندان میں اختلافات اس حد تک پہنچ چکے تھے کہ غیر ملکی طاقتوں نے بھی اب ان سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا تھا۔

برٹش انٹیلیجنس نے تو شاہی خاندان کو دباؤ میں رکھنے کے لیے اس کے اندر اختلافات اور سعود بن عبدالعزیز کی عیاشیوں کی خبریں نمک مرچ لگا کر ویسٹرن میڈیا کو لیک کرنا شروع کر دیں تھیں جہاں وہ شائع ہوتی تھیں۔ ان خبروں سے سعودی عرب کے وقار کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا اور ایسا تاثر مل رہا تھا کہ یہ ریاست شاید اب زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی۔

اب ان حالات میں سرکاری علماء اور شاہی خاندان کے لوگوں کو ایک ایسے مسیحا کی تلاش تھی جو سعودی عرب کی ڈوبتی کشتی کو طوفانوں سے نکال لائے۔ ان کی نظر میں یہ مسیحا تھا۔۔۔ ولی عہد پرنس فیصل بن عبدالعزیز جو تین ہزار سعودی شہزادوں میں سب سے مختلف تھا اور حکومت کرنے کی زبردست صلاحیت بھی بظاہر رکھتا تھا۔

آلِ سعود بھی اسے پسند کرتے تھے اور علماء بھی لیکن دونوں کی وجوہات دوستو اپنی اپنی تھیں مختلف تھیں۔ آلِ سعود یعنی سعودی شاہی خاندان میں پرنس فیصل کو اس کے ماضی کے فوجی اور ڈپلومیٹک مشنز کی وجہ سے پسند کیا جاتا تھا جن کا ذکر ہم پہلی ویڈیو میں کر چکے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف سعودی علماء پرنس فیصل کو اس لئے پسند کرتے تھے کہ اس وقت شاید آلِ سعود میں وہ واحد شخص رہ گیا تھا جو اب اب بھی مذہب سےبہت قریب تھا۔ پرنس فیصل کو نمودونمائش یا دولت جمع کرنے کا بھی کوئی خاص شوق نہیں تھا۔ وہ پکا نمازی تھا اور سادہ زندگی گزار رہا تھا۔

اس نے اسموکنگ، شراب نوشی اور جوئے کی عادت بھی چھوڑ دی تھی۔ جہاں سعود بن عبدالعزیز یعنی شاہ سعود کی زندگی میں ایک سو کےلگ بھگ بیویاں اور لونڈیاں تھیں اور اس کے والدعبدالعزیز کے بارے میں بھی کہا جا تا ہے کہ اس کی بائیس سےچوبیس بیویاں تھیں وہیں شاہ فیصل کی صرف تین بیویاں ریکارڈ پرتھیں۔

جن میں سے ایک سے اس کی علیحدگی ہوئیدوسری اس کی زندگی میں وفات پا گئی،جبکہ زندگی کا بڑا حصہ شاہ فیصل نے اپنی ایک ہی بیوی چہیتی بیوی عفت کے ساتھ ہی گزرا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments