HomeHistoryWho Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل...

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 3

82 / 100

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 3

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 3

بادشاہ سعود بن عبدالعزیز تو اس واقعے کے بعد دوستو انقلاب کے لفظ ہی سے ڈرنے لگا تھا۔ وہاں ایک قصہ مشہور ہوا کہ ایک بار ایک شاہی ملازم نے بادشاہ کے سامنے کوئی لفظ بولاسعود بن عبدالعزیز نے غلطی سے اس لفظ کو ’انقلاب‘ سمجھ لیا اور ڈر کر اپنے کمرے میں چھُپ گیا۔ کچھ دیر بعد جب اس کا خوف کچھ کم ہوا تو وہ واپس آیا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قصہ داستان طرازی ہو،

افواہ ہو، بدخواہوں نے اڑائی ہو۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پرنس فیصل کا خاندان کسی بھی وقت انقلاب یا بغاوت کے خدشے سے دوچار تھا۔ کیونکہ مصر میں بادشاہت کا تختہ الٹا جا چکا تھا۔ چنانچہ کچھ انقلاب سے نمٹنے کی مصلحت اور کچھ جمال عبدالناصر کی شخصیت سے متاثر ہو کر پرنس فیصل ماڈرن اصلاحات کرنے پر تیار تھا۔

سعودی عرب کو ماڈرن بنانے کی خواہش کی تیسری اور شاید سب سے اہم وجہ تھی پرنس فیصل کی بیوی عفت۔ دوستو عفت پرنس فیصل کی چہیتی بیوی تھی۔ دونوں میں محبت کی شادی ہوئی تھی۔ پرنس اور عفت کی لو اسٹوری انیس سو تینتیس، نائنٹین تھرٹی تھری ایک مشہور کہانی تھی.

اس دور میں سولہ، سترہ برس کی عفت اپنے خاندان کے ساتھ مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے حجاز آئی تھی۔ تب پرنس فیصل حجاز کا گورنر تھااور اس نے پہلی بار عفت کو یہی دیکھا لیکن دیکھتے ہی اس کی خوبصورتی پر فدا ہو گیا۔ عفت کا خاندان پرنس فیصل کے والد شاہ عبدالعزیز کے رشتے داروں میں شامل تھا یعنی آلِ سعود ہی کا ایک حصہ تھا اور ترکی میں سیٹل تھا۔

رشتے داری کی وجہ سے پرنس فیصل کو عفت سے شادی کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ عفت نے ماڈرن ترکی کے بانی کمال اتاترک کے دور میں ترکی میں پرورش پائی تھی اور اس کی تعلیم و تربیت استنبول میں ہوئی تھی۔ اس لئے اس کے خیالات جدید سیکولر ترکی سٹائل میں ڈھلے ہوئے تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ سعودی عرب میں بھی لڑکیوں کیلئے تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔

انہیں کام کرنے کا حق دیا جائے، ریڈیو ٹی وی تک بھی انہیں رسائی ملے۔ عفت اپنے شوہر پرنس فیصل سے یہ کہتی رہتی تھی کہ وہ سعودی عرب کو ماڈرن بنانے اور خاص طور پر خواتین کی تعلیم کیلئے اقدامات ضرور کرے۔

تو اب دوستو یہ تین وجوہات یعنی عفت کے اصرار، جمال عبدالناصر کے مصری انقلاب اور اپنے بچپن کے خواب کی تکمیل کے لیے پرنس فیصل سعودی عرب کو ماڈرن بنانا چاہتا تھا لیکن جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ چیلنج ایک بہت ٹرِکی چیلنج تھا۔

اس میں مسئلہ یہ تھا کہ سعودی علماء یعنی آلِ محمد بن عبدالوہاب کے وہ علماء جو حکومت میں شامل تھے اور جن کی وجہ سے پرنس فیصل کو شاہی اختیارات ملے تھے وہ ماڈرن ازم کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان لوگوں نے سعودی عرب میں اپنے نظریات کے مطابق مذہب کو سختی سے نافذ کر رکھا تھا۔ اس دور میں لڑکیاں اسکول نہیں جا سکتی تھیں،

میڈیا میں کام نہیں کر سکتی تھیں اورسعودی عرب میں ٹی وی اور فلمز وغیرہ پر بھی مکمل پابندی تھی۔ سعودی عرب کی مذہبی پولیس فورس لوگوں کو بالجبر نماز پڑھاتی تھیسگریٹ نوشی سے روکا جاتا تھاگھروں میں گھس کر شراب کی بوتلیں اور ٹیپ ریکارڈز توڑ دیے جاتے تھے اور پردہ نہ کرنے والی عورتوں کے ٹخنوں پر چھڑیاں ماری جاتی تھیں۔

اس پولیس نے انیس سو تریسٹھ، نائنٹین سکسٹی تھری میں سعودی عرب میں پرائیویٹ سینما گھروں کو بھی ناکام بنادیا تھا۔ جوکچھ لوگ وہاں پر قائم کر رہے تھے تو اب اس طرح کے ماحول میں جہاں مذہبی اسٹیبلشمنٹ اتنی طاقتور تھی وہاں پرنس فیصل کیلئے ماڈرن ریفارمز کرنا بہت زیادہ مشکل تھا۔ شاہی اختیارات ہوتے ہوئے بھی مشکل تھا۔

لیکن ان مشکلات کے باوجود پرنس فیصل نے اپنا ریفارمز پروگرام دھیرے دھیرے آگے بڑھانا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے اس نے لڑکیوں کے اسکولزکھولنا شروع کئے۔ انیس سو ساٹھ، نائنٹین سکسٹی میں پہلی بار سعودی عرب میں لڑکیوں کے اسکول کھولے گئے جس پر علماء نے شدید احتجاج کیا۔

پرنس فیصل نے علماء سے کہا کہ اگر آپ اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلوانا چاہتے تو انہیں اسکول مت بھیجیں۔ لیکن جو لوگ اپنی بیٹیوں کو پڑھانا چاہتے ہیں کم از کم انہیں تو ایسا کرنے دیں۔ یوں پرنس فیصل نے علماء کو ٹال دیا یا کسی حد تک قائل کرنے کی کوشش کی۔

ویسے بھی لڑکیوں کیلئے اسکول الگ کھولے گئے تھے مردوں کے ساتھ وہ نہیں پڑھتی تھیں اور ان میں مردوں کو جانے کی اجازت بھی نہیں تھی اس لئے علماء زیادہ اعتراض نہیں کر سکے۔ لیکن انہوں نے پرنس فیصل کو مجبور کر کے یہ کیا کہ لڑکیوں کے تعیلمی اداروں کا کنٹرول اپنے پاس لے لیا۔ یعنی اب علما یعنی آل الشیخ لڑکیوں کی تعلیم کی نگرانی خود کرنے لگے تھے۔

علماء کی نگرانی میں چلنے والے مذہبی اسکولوں میں لڑکیوں کو پڑھنے کی تو اجازت تھی لیکن سپورٹس کی اجازت نہیں تھی، جیسا کہ فٹبال وغیرہ ان چیزوں پر مکمل پابندی تھی۔ بہرحال دوستو سخت گیرمعاشرے میں لڑکیوں کے اسکول کھل جانا ہی ایک بڑی کامیابی تھی۔ ایک اور سنگِ میل، مائل اسٹون انیس سو تریسٹھ، نائنٹین سکسٹی تھری میں بھی عبور ہوا۔

ریڈیو مکہ پر پہلی بار ایک خاتون کی آواز سنی گئی۔اس آواز پر بھی علماء نے احتجاج کیا لیکن پرنس فیصل نے دلائل سے علماء کے احتجاج کو غلط ثابت کر دیا۔یوں پرنس فیصل سعودی علماء کے دباؤ کے باوجود سعودی عرب کو ماڈرن بنانے کے پروگرام پر کام کرتا چلا گیا۔ اس کام میں اس کی بیوی عفت نے اس کا پورا پورا ساتھ دیا۔

عفت کے نام پر جدہ میں خواتین کی ایک یونیورسٹی عفت یونیورسٹی بھی قائم ہے جس کا انتظام کنگ فیصل فاؤنڈیشن چلاتی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور روزگار کے علاوہ پرنس فیصل کے سامنے ایک اور چیلنج بھی تھا جو پہلے سے بھی زیادہ مشکل تھا۔ یہ چیلنج تھا غلاموں کی آزادی۔

بیسویں صدی، ٹوئنٹیتھ سنچری میں دنیا کے بیشتر ممالک غلامی ختم کر چکے تھے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے آرٹیکل فور میں بھی لکھا گیا تھا کہ کسی انسان کو غلام نہیں بنایاجا سکتا۔ ہر قسم کی غلامی اور غلاموں کی تجارت پر مکمل پابندی ہو گی۔ لیکن اس چارٹر کی موجودگی میں بھی سعودی عرب سمیت کچھ ممالک میں اب بھی غلامی کی بری رسم قائم تھی۔

سعودی عرب نے عالمی دباؤ کی وجہ سے انیس سو انسٹھ، میں غلاموں کی درآمد، امپورٹ پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن سعودی عرب کے اندر غلامی بہر حال برقرار تھی جہاں کم از کم تیس ہزار غلام موجود تھے۔ جن میں سے بہت سے شہزادوں کے انڈر تھے پرنس فیصل کے پاس بھی کچھ غلام موجود تھےبہرحال سعودی عرب پر غلامی کے خاتمے کیلئے مسلسل عالمی دباؤ آ رہا تھا۔

انیس سو باسٹھ، نائنٹین سکسٹی ٹو میں جب بادشاہ سعود بن عبدالعزیز اور امریکی صدر کینیڈی کی ملاقات ہوئی تو اس میں بھی غلامی کے خاتمے پر بات ہوئی۔ یعنی امریکہ بھی یہ چاہتا تھا کہ سعودی عرب میں جلد از جلد غلامی ختم کر دی جائے۔ اب امریکی دباؤ کو پرنس فیصل چاہ کر بھی نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments