HomeHistoryWho Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل...

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 2

82 / 100

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 2

Who Was Shah Faisal bin Abdulaziz of Saudi Arabia | شاہ فیصل بن عبدالعزیز کون تھا | Part 2

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ پرنس فیصل اپنے بڑے بھائی اور بادشاہ شاہ سعود بن عبدالعزیز کے مزاج سے بالکل مختلف تھا۔بلکہ وہ اپنے والد کے مزاج سے بھی کافی حد تک مختلف تھا تو اب پرنس فیصل کے کارناموں اور اس کی مذہب سے قربت کو دیکھتے ہوئے آلِ سعود کے ایک طاقتور دھڑے اور علماء نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ سعود بن عبدالعزیز کو تخت سے ہٹاکر پرنس فیصل کو حکمران بنائے گے۔

یا کم از کم بادشاہ کے اختیارات چھین کر پرنس فیصل کو دے دیے جائیں گےاور شاہ سعود بن عبدالعزیز کو رسمی بادشاہ کے طور پر سامنے رکھا جائے۔ آلِ سعود کا جو دھڑا پرنس فیصل کا حامی تھا اس میں طاقتور سعودی شہزادے پرنس خالد اور پرنس فہد بھی شامل تھے۔ یہ دونوں مستقبل میں سعودی عرب کے بادشاہ بھی بنے۔

اس کے علاوہ پرنس فیصل کا ایک چچا عبداللہ بن عبدالرحمان بھی اس دھڑے کا حصہ تھا۔ پرنس فیصل کے حامیوں نے علماء کی مدد سے بادشاہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے اختیارات پرنس فیصل کے حوالے کر دے۔ یہ لوگ سعود بن عبدالعزیز سے اختیارات چھیننے کیلئے زبردستی کرنے پر بھی تیار تھے لیکن پرنس فیصل اس کیلئے راضی نہیں تھا۔

پرنس فیصل اپنے بڑے بھائی کا احترام کرتا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ اگر آج میں نے اپنے بھائی سے زبردستی اختیارات چھینے تو اس سے ایک غلط روایت قائم ہو گی۔ اور آل سعود میں بھائی، بھائی کا دشمن بن جائے گا۔ پرنس فیصل سمجھتا تھا کہ آلِ سعود کی اصل طاقت ان کاخاندانی اتحاد اور اتفاق ہی ہے۔ اگر یہ اتفاق اتحاد قائم نہ رہا تو سلطنت بھی قائم نہیں رہ سکے گی۔

اس لئے پرنس فیصل نے یہ شرط رکھ دی کہ اگر حکومتی اختیارات اسے ملنا ہی ہیںتو یہ اختیار خود بادشاہ اس کے حوالے کرے، اختیارات چھینے نہ جائیں یعنی ایسا بندوبست کیا جائے۔ پرنس فیصل کی خواہش کے مطابق علماء اور سعودی شہزادوں نے سعود بن عبدالعزیز پر دباؤ ڈالا اور آخر کار انیس سو اٹھاون میں اس حوالے سے ایک تاریخی سمجھوتہ ہو گیا۔

چوبیس مارچ انیس سو اٹھاون، نائنٹین ففٹی ایٹ کو سعود بن عبدالعزیز نے یہ اعلان کیا کہ وہ اپنے اختیارات اپنے بھائی اور ولی عہد پرنس فیصل کے حوالے کر رہا ہے۔ جب وہ یہ اعلان کر رہا تھا تو اس کے ایک طرف پرنس فیصل بیٹھا تھا اور دوسری طرف عبداللہ بن عبدالرحمان۔یوں دوستو پرنس فیصل کو تمام شاہی اختیارات مل گئے۔

اب سعودی حکومت میں وہ آل ان آل تھا اور سعود بن عبدالعزیز صرف نمائشی بادشاہ تھا۔ شاہی اختیارات سنبھالنے کے بعد پرنس فیصل کے سامنے اب دو بڑے چیلنج تھے۔ پہلا چیلنج تھا تباہ حال سعودی معیشت کو کھڑا کرنا اور دوسرا تھا ریاست کو ماڈرن بنانے کا چیلنج۔ لیکن اس سب سے اہم تھا کہ اسے آل سعود کے محلوں کو دھماکوں سے اڑا دینا تھا۔

یہ کیا کہانی تھی؟ کہا جاتا ہے کہ پرنس فیصل نے اپنے ایک مصری مشیر سے پوچھا کہ جب اتنے زیادہ شاہی محلات کا خرچ چلانا ہو تو پھر اخراجات کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟ مشیر نے جواب دیا یور میجسٹی ان محلوں کو دھماکے سے اڑا دیاجائے۔ پرنس فیصل نے آلِ سعود کے محلوں کو دھماکے سے تو نہیں اڑایا لیکن تمام نئے محلات کی تعمیر روک دی۔

اس کے بعد پر آسائش گاڑیوں کی امپورٹ پر پابندی لگا دی اور غیر ضروری پراجیکٹس کیلئے پیسہ دینا بھی بند کر دیا۔ آپ کو دوستو شاید یہ بات سن کر حیرت ہو کہ پرنس فیصل نے سعودی معیشت ٹھیک کرنے کیلئے دوسرے ملکوں کے علاوہ پاکستان سے بھی اکانومی کے ایکسپرٹس بلائے تھے۔

ان ایکسپرٹس کی ڈائریکشن میں سعودی معیشت نے تیزی سے ترقی کی اور تیل کی پیداوار بھی تیزی سے بڑھی۔ صرف ایک سال کے اندر اندر یعنی انیس سو انسٹھ، نائنٹین ففٹی نائن تک سعودی عرب میں تیل کی پیداوار دس فیصد، ٹین پرسنٹ بڑھ گئی۔ اب ایک طرف پرنس فیصل شاہی اخراجات کو کنٹرول کر کے ملک کی آمدنی بڑھا رہا تھا تو دوسری طرف وہ اداروں کو بھی ٹھیک کر رہا تھا۔

صرف زبانی احکامات ہی نہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی وہ یہ کر رہا تھا۔ وہ دن میں تقریباً سولہ گھنٹے ایکٹو رہتا اور اپنے دفتر میں زیادہ وقت کام کرتے ہوئے گزارتا۔ پرنس فیصل نے سعودی عرب میں تمام سرکاری محکموں کو پرانے طریقوں سے ہٹا کر دنیا میں رائنج نئے جدید طریقے سے منظم کیا جس کی وجہ سے سرکاری مشینری زرہ بہت طریقے سے کام کرنے لگی۔

فوج کو جدید تربیت اور ہتھیار ملنے لگے جس سے ملک میں پہلی بار کچھ استحکام کچھ سٹیبلٹی کے آثار وہاں کے لوگوں کو دیکھنے کو ملے۔پرنس فیصل کی اس کامیاب معاشی پالیسیوں اور اس کی سادگی نے سعودی عوام کو بہت متاثر کیا۔ لوگ اس کے طرزِ زندگی کی مثالیں دینے لگے۔

بادشاہ شاہ سعود بن عبدالعزیز کے چوبیس محلوں کے مقابلے میں پرنس فیصل نے جدہ میں صرف ایک نسبتاً کم خرچ محل تعمیر کرایا تھا۔ لیکن اسے بھی بعد میں سرکاری گیسٹ ہاؤس ڈیکلیئر کر دیا گیا تھا۔ یوں دوستو اکانومی والے چیلنج میں تو پرنس فیصل سرخرو ہو گیا تھا لیکن دوسرا چیلنج کچھ زیادہ ٹرِکی تھا، تھوڑا مشکل تھا۔

وہ چیلنج تا سعودی معاشرے کو ماڈرن بنانا۔لیکن وہ ماڈرن کیوں بنانا چاہتا تھا؟ اس کی تین بنیادی وجوہات تھیں۔ پہلی تو تھی اس کے بچپن کا وہ خواب جو ان نے لندن میں دیکھا تھا۔ ہم نے پرنس فیصل کی پہلی ویڈیو میں آپ کو دکھایا تھا کہ جب فیصل تیرہ، چودہ برس کی عمر میں لندن گیا تھا تو اس نے فیصلہ کیا تھا کہ ایک روز وہ اپنے ملک کو بھی اسی جیسا ماڈرن بنائے گا۔

تو اب بچپن کا یہ خواب پورا کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ یہ تو ہوگئی ایک وجہ دوستو۔ دوسری وجہ تھی مصر کا صدر جمال عبدالناصر۔ اب دیکھئے کہ جنرل محمد مجیب اور جمال عبدالناصر مصر میں بادشاہت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ایک فوجی انقلاب کے ذریعے تبدیلی لے کر آئے تھےجس میں بعد میں جمال عبدالنصر مصری صدر بن گیا۔

عرب نوجوان اسے اپنا آئیڈیل حکمران مانتے تھے۔ کیونکہ وہ عوام کو حقوق ٹرنسفر کر رہا تھا وہ مصر کو جدید خطوط پر ترقی دے رہا تھا۔ عرب کے دیگر نوجوانوں کی طرح پرنس فیصل بھی جمال عبدالناصر سے بہت متاثر تھا۔ جب جمال نے انیس سو چھپن، نائنٹین ففٹی سکس میں نہرِ سویز کو نیشنلائز کیا تو پرنس فیصل نے اس کی حمایت کی تھی۔

مغربی میڈیا میں تو پرنس فیصل کو عرب نیشنلسٹ اور ناصرائیٹ یعنی جمال عبدالناصر کا حامی بھی قرار دیا جانے لگا تھا۔ تو پرنس فیصل چاہتا تھا کہ وہ بھی سعودی عرب کو مصر ہی کی طرح ماڈرن بنائے۔ لیکن پرنس فیصل صرف جمال عبدالناصر سے متاثر ہو کر ہی یہ کام نہیں کر رہا تھا یہ الاحات نہیں لا رہا تھابلکہ وہ خوفزدہ بھی تھا۔

وجہ یہ تھی کہ مصر کے انقلاب سے متاثر ہو کر کئی سعودی شہری بھی آلِ سعود کے خلاف ایسا ہی انقلاب برپا کرنے کا سوچ رہے تھے۔ چیسا کہ مصر میں بادشاہت کے خلاف جمال عبدالنصر لا چکا تھا۔ تو آپ کو بتائیں کہ انیس سو پچپن، نائنٹین ففٹی فائیو میں ایک ایسی ہی سازش تیار بھی ہوئی تھی۔

ہوا یہ تھا کہ سعودی فوج کے کچھ افسران جنہیں مصر کی سپورٹ حاصل تھی مدد حاصل تھی انہوں نے بادشاہ سعود بن عبدالعزیز کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کرتے یہ سازش بے نقاب ہوئی اور پکڑی گئی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments