HomeHistoryWho Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 2

Who Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 2

89 / 100

Who Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 2

Who Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 2
Who Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 2

اگرچہ وہ بچپن میں انقلابی سے زیادہ شرارتی تھا۔ وہ اپنی بہنوں کو بہت تنگ کرتا تھا۔ کبھی ان کے کندھوں پر سوار ہو کر انہیں دوڑنے پر مجبور کرتا اور کبھی کیچڑ سے کیک بنا کر انہیں کہتا کہ یہ کھا کر دکھاؤ۔ کارل مارکس کے والدین نے بارہ برس کی عمر تک اسے اسکول میں داخل نہیں کروایااور اسے گھر میں ہی پڑھاتے رہے۔

تمام انسان آزاد مرضی سے اپنی زندگی گزاریں۔ تو یہ دونظریات ان دنوں مقبول ہو رہے تھے۔ حکومت ان سب تبدیلی چاہنے والوں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھیتعلیمی اداروں اور دفاتر کی کڑی نگرانی ہوا کرتی تھی اور آئے دن یونینز کے خفیہ اجلاسوں پر چھاپے پڑتے رہتے تھے جن میں طلبہ اساتذہ اور دیگر لوگوں کو گرفتار کرلیاجاتا اور حکومت کے خلاف لٹریچر وغیرہ برآمد ہونے کا دعویٰ بھی کیا جاتا۔

اب ایک تو انقلابیوں کو شاہی طاقت روکتی تھی، لیکن بادشاہ کے ساتھ دوسری بڑی طاقت مذہبی طبقہ تھا۔ چرچ کے لوگ انقلاب کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے اور عوام کو بادشاہ اور کلیسا کی اطاعت کا درس دیتے۔ شہر کا آرچ بشپ، سینٹ سائمن جیسے سوشلسٹ فلاسفرز کے خلاف سخت تقریریں کرتا اور لوگوں کو اس کے فلسفے سے دور رہنے کے لیے واعظ دیا کرتا تھا۔

لیکن یوں تھا کہ بادشاہ کے جبر اور پادری کے واعظ کے باوجود شہر میں انقلابی خیالات رفتہ رفتہ پھیلتے ہی جا رہے تھے۔جب مارکس نے اسکول میں قدم رکھا تو وہاں بھی اس کا واسطہ انقلاب ہی سے پڑا۔ اسکول کے پرنسپل، زیادہ تر اساتذہ اور طلبہ بھی انقلابی نظریات سے متاثر تھے۔ اسی لیے یہ اسکول خفیہ پولیس کی لسٹ میں بھی شامل تھا اور سادہ لباس میں لوگ اس کی نگرانی کرتے تھے وہ چھاپے وغیرہ مار کر طلبہ اور اساتذہ کو گرفتار بھی کرتے رہتے تھے۔

لیکن اسکول لائف میں کارل مارکس کبھی انقلابی سرگرمیوں میں شریک ہی نہیں ہوا تھا۔ اس کے انقلابی خیالات اس وقت ظاہر ہوئے جب وہ ایک دوسرے شہر بون کی یونیورسٹی میں قانون اور فلسفہ پڑھنے کے لیے گیا۔ یہاں اس کا باغیانہ رویہ پہلی بار سامنے آیا اور اسے جیل بھی جانا پڑا۔ بون یونیورسٹی کے سترہ سالہ کارل مارکس میں کافی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔ وہ شراب پینے، والدین کی کمائی کو عیاشی میں اڑانے اور دوستوں سے ادھار مانگنے کا عادی ہو گیا تھا۔

اس نے ایک شرابیوں کا گینگ، ٹیورن کلب بنا لیا تھا۔ کارل مارکس اس گینگ کا صدر تھا اور یہ گینگ غل غپاڑہ کرنے اور مار پیٹ میں خاصا بدنام تھا۔ ایک بار ایسا ہواکہ کارل مارکس نشے کی حالت میں ہنگامہ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ بون یونیورسٹی نے شرابی طلبہ کو سزا دینے کیلئے ایک کمرے کی چھوٹی سی جیل مختص کر رکھی تھی۔

جس طالب علم کو سزا دینا ہوتی اسے چوبیس گھنٹے کے لیے اس کمرے میں بند کر دیاجاتا تھا۔ مارکس کو بھی یونیورسٹی حکام نے اسی جیل میں بند کر دیا۔ اب دوستو جیل میں کارل مارکس سدھرتا تو کیا، اس کے دوست کسی طرح یہاں بھی پہنچ گئے اور سب نے رات بھر تاش اور بئیر کی محفل سجائی۔ سو چوبیس گھنٹے بعد کارل مارکس رہا ہوا تو ظاہر ہے ویسے کا ویسے تھا۔

بون رہتے ہوئے اسے ٹرائیر کی یاد بھی بہت ستاتی تھی کیونکہ وہاں سرخ بالوں سبز آنکھوں والی اس کی دوست جینی رہتی تھی۔ فاصلوں نے بچپن کی اس دوستی کو محبت میں بدل دیا تھا اور کارل مارکس جینی کی یاد میں نظمیں لکھنے لگا تھا۔ اس نے جینی سے شادی کا وعدہ بھی کررکھا تھا۔ لیکن دوستو جلد ہی یوں ہوا کہ کارل ماکس کے جام اٹھاتے نظمیں لکھتے ہاتھوں نے ہتھیار تھام لیے۔

بون یونیورسٹی میں ہی مارکس نے ایک انقلابی تنظیم جوائن کر لی تھی۔ اس دور میں یعنی اٹھارہ سو تیس کی دہائی، ایٹین تھرٹیز میں جرمنی یونیورسٹیز میں کئی طرح کی طلبہ تنظیمیں موجود تھیں۔

ان میں کچھ ایسی تھیں جو حکومت کی حمایت کرتی تھیں اور انقلاب کے حامی اسٹوڈنٹس کے خلاف تھیں اور کچھ انقلابی تھیں۔ توان تنظیموں میں ایک بڑی اور طاقتور تنظیم جو حکومت کے ساتھ تھی بادشاہ کے ساتھ تھی وہ بوروشیا کارپس تھی۔ اس تنظیم کے طلبہ، انقلاب کے حامیوں پر آئے دن حملے کرتے تھے۔

لیکن جب بارہ برس کا ہو کر وہ سکول جانے لگا تو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ دنیا اس کے اپر مڈل کلاس گھر سے کافی مشکل جگہ ہے۔ پھر وہ جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا اپنے ہی گلی کوچوں میں غربت کے مارے لوگوں کو دیکھ کر دل جلانے کا ہنر بھی سیکھ گیا۔

دوستو جس دور کی ہم بات کر رہے ہیں اس وقت پورے یورپ میں انڈسٹریلائزیشن کا آغاز ہو چکا تھا۔ لیکن کارل مارکس کے علاقے ٹرائیر میں فیکٹریز نہیں لگ رہی تھیں۔ اس علاقے کی اکانومی ابھی تک زراعت، ایگریکلچر پر قائم تھی۔ شہر کے اردگرد انگور کے بڑے بڑے باغات تھے اور زیادہ تر لوگ انہی باغات میں کام کرتے تھے۔ یہ شہر ترقی میں جرمنی کے دوسرے شہروں سے بہت پیچھے تھا۔

اسی لئے یہاں غربت اور بیروزگاری بھی باقی جگہوں سے کچھ زیادہ تھی۔ یہاں تک کہ شہر میں بھکاریوں اور جسم فروشوں کی بہتات ہو چکی تھی۔ شہر کے ایک چوتھائی، ون فورتھ لوگ بھیک مانگنے پر مجبور تھے۔ ٹرائیر کے لوگ اس غربت سے جان چھڑانا چاہتے تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ حکومت اور سرمایہ دار طبقہ ان کی ترقی میں رکاوٹ بن چکا تھا۔

حکومت غریبوں پر ٹیکس بڑھا رہی تھی جبکہ امیر طبقہ جس کے باغات میں یہ غریب لوگ کام کرتے تھے وہ ان کی محنت کا مناسب معاوضہ تک انہیں دینے کو تیار نہیں تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ غریبوں کی آمدن کم سے کم ہو رہی تھی اور مہنگائی زیادہ سے زیادہ۔ عام آدمی غریب سے غریب تر جبکہ دولت مند امیر سے امیر تر ہو رہے تھے۔

دولت کی تقسیم میں اتنی بڑی ناانصافی کارل مارکس کے حساس دل و دماغ میں گہری اتر چکی تھی۔اپنے شہر میں ایک اور بات جو کارل مارکس نے نوٹ کی وہ دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم سے بھی زیادہ اہم تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ غریب عوام، دولت مند طبقے کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے بیقرار ہیں۔ وہ اس کیلئے کوشش بھی کر رہے تھے۔

ویسے بھی ٹرائیر شہر، فرانس کے بہت قریب تھا اور فرنچ ریولوشن سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ اس لئے یہاں کئی چھوٹی چھوٹی انقلابی تنظیمیں سرگرم تھیں۔ لیکن حکومتی کارروائیوں کے خوف سے یہ تنظیمیں چھپ کر، انڈر گراؤنڈ کام کرتی تھیں۔

کیونکہ یہ یورپ میں ایسا وقت تھا جب جمہوریت کی بات کرنا اور بادشاہت پر اعتراضات اٹھانا جرم تھا۔ایسا کرنے والوں کو ریاست کا باغی قرار دے کر گرفتار کر لیا جاتا تھا اسی وجہ سے مزدوروں اور طلبہ نے اپنی خفیہ تنظیمیں بنا رکھی تھیں۔ یہ انقلابی لوگ تبدیلی چاہتے تھے اور اس تبدیلی کے لیے اس وقت دو نظریات، سوشل ازم اور انارک ازم مقبولیت پا رہے تھے۔

سوشلسٹ نظریات کے حامی ایسی حکومت چاہتے تھے جو مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرے جبکہ انارک ازم کے ماننے والے ریاست ہی کو ختم کرنے کے حامی تھے تاکہ تمام انسان برابر ہو کر کام کریں اور کوئی کسی پرحکم چلانے والا نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments