HomeHistoryWho Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 1

Who Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 1

89 / 100

Who Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 1

Who Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 1
Who Was Karl Marx | کارل مارکس کون تھا | Part 1

یونانی دیومالا کے ایک اور ہیرو ہراکولیس جسے رومن مائتھالوجی میں ہرکولیس بھی کہتے ہیں، اُس نے پرومیتھیس کو اِس عذاب سے نجات دلائی۔ اس کہانی میں پرومیتھیئس مسلسل اذیت کے کرب سے گزرتا رہا لیکن اس نے ایک بار بھی انسانوں کی مدد کرنے پر دیوتاؤں سے معافی نہیں مانگی۔ اسی وجہ سے پرومیتھیس، انسانیت، مزاحمت اور اپنے اصولوں کے لیے ڈٹ جانے کی علامت بن گیا۔

جس نے اس میں انسانیت کے لیے تکلیف سہہ کر کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کیا سو ایک تبدیلی یا انقلاب کی خواہش کارل مارکس کو اپنے گھر سے ہی ملنے لگی تھی۔

حالانکہ رھائن لینڈ اور ٹرائیر میں کیتھولک فرقہ اکثریت میں تھا اور پروٹیسٹنٹس کی تعداد بہت کم تھیاس کے باوجود مارکس کے والد نے پروٹیسنٹ فرقے ہی کو اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ مذہب بدلنے کے باوجود مارکس کے خاندان سے دوستو یہودیت کا لیبل پھر بھی نہ ہٹ سکا اور جرمن معاشرے میں انھیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا رہا۔

چنانچہ بچپن سے ہی اس کے ذہن میں مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے خلاف ایک باغیانہ رویہ پرورش پارہا تھا۔مذہبی بنیادوں پر اس امتیازی سلوک کے علاوہ مارکس کو اپنے والد سے انقلابی خیالات بھی ورثے میں ملے تھے۔ کیونکہ اس کے والد بھی انقلاب فرانس سے متاثر تھے اور ایک پرامن جمہوری انقلاب کے لیے جدوجہد بھی کر رہے تھے۔

انہوں نے کچھ تنظیمیں بھی جوائن کی تھیں اور ان کی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے تھے۔ مارکس کے والد نے گھر میں ایک اچھی خاصی لائبریری بھی بنا رکھی تھی جس میں روسو، جان لاک اور ان جیسے دیگر بہت سے عظیم فلاسفرز کی کتابیں موجود تھیں۔ اسی لائبریری میں کارل مارکس نے یونانی اور رومن مائتھالوجیز کو بھی شوق سے اور غور سے پڑھا اور غالباً یہیں اس نے پرومیتھئس کی وہ کہانی بھی پڑھی.

ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں اسمبلیوں میں نمائندگی دی جائے، میڈیا پر حکومتی پابندیاں ختم کی جائیں، تحریر و تقریر یعنی لکھنے اور بولنے کی مکمل آزادی ہو اور بادشاہ کے اختیارات کو محدود کر کے سیاسی فیصلوں میں عوام کو بھی شریک کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں انیسویں صدی دراصل یورپ میں جمہوریت اور لبرل ازم کے ارتقا کی صدی تھی۔تو یہی وہ انقلاب کاان دنوں یورپ میں ماحول تھا.

دوستو جس میں کارل مارکس پیدا ہوا اور وہ پروان چڑھا یہ اسی انقالابی ماحول کا اثر تھا جس نے کارل مارکس کو ایک انقلابی فلسفی بنا دیا تھا لیکن مارکس کی انقلابی تربیت میں اس کے ماحول کے ساتھ ساتھ اس کے گھر کے حالات اور خاندانی بیک گراؤنڈ نے بھی بہت کردار ادا کیا۔ مارکس کا خاندان نسلاً یہودی تھا اور بہت لمبے عرصے سے ٹرائیر شہر میں رہائش پذیر تھا۔

مارکس کے آباؤ اجداد یہودیوں کے ربیِ یعنی روحانی پیشوا تھے اور یہی ان کا پیشہ تھا۔ لیکن مارکس کے والد نے یہ پیشہ چھوڑ کر وکالت کو اپنا لیا۔ ان کی وکالت خوب چمکی اورکافی دولت مند بھی وہ ہو گئے بلکہ جرمنی کے اعلیٰ طبقے میں بھی اس کے تعلقات بن چکے تھے۔ اس دور میں جرمنی سمیت پورے یورپ میں یہودیوں سے نفرت کرنااور ان کے لیے خاص قوانین بنا کر انھیں ڈسکریمینٹ کرنے کا عام چلن تھا۔

اٹھارہ سو پندرہ میں مارکس کے ماں باپ بھی ایک ایسے ہی امتیازی سلوک کانشانہ بھی بن چکے تھے۔ وہ یوں کہ ریاست پروشیا جس کے حدود میں رائن لینڈ اور ٹرائیر شامل تھے اس نے ایک متنازعہ قانون بنایا اس قانون کے تحت یہودیوں کو اعلی جرمن سوسائٹی میں اٹھنے بیھٹنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔

یہ قانون بہت یہودیوں کے لیے بہت خطرناک تھا کیونکہ اس نے ان کے لیے ترقی کے سارے راستے بند کر دیئے تھے۔ اس قانون کی وجہ سے کارل مارکس کے ماں، باپ کے پاس اب دو ہی راستے باقی بچے تھے۔ ایک یہ کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کر کے عیسائیت قبول کر لیں تاکہ ان پر جو پابندیاں لگی ہیں وہ ختم ہو سکیں۔

کارل مارکس کے والد، ہینرچ مارکس نے ملک کو مذہب پر ترجیح دی اور اپنا مذہب تبدیل کر لیا۔یعنی وہ یہودیت چھوڑ کر عیسائیت میں داخل ہو گیا۔البتہ انہوں نے عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کو اپنانے کے بجائے پروٹیسٹنٹ عیسائیت کو اختیار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے خیال میں پروٹیسٹنٹ فرقے کے لوگ کیتھولکس سے زیادہ لبرل تھے۔

انقلاب زندہ باد، انقلاب زندہ باد کے نعرے گونجا کرتے تھے۔ یہ انقلابی نعرے اس لئے گونجا کرتے تھے کیونکہ مارکس کی پیدائش سے صرف انتیس برس، ٹوئنٹی نائن ایئرز پہلے جرمنی کے ہمسائیہ ملک فرانس میں ایک زبردست انقلاب آ چکا تھا۔ اس انقلاب کے ذریعے فرانس میں صدیوں سے حکومت کرنے والے بوربن شاہی خاندان کی حکومت کا تختہ عوام نے الٹ دیا تھا۔

اس انقلاب سے فرانس کے شاہی خاندان سمیت اس مذہبی گروہ کی اجارہ داری بھی ختم ہو گئی تھی جو بادشاہ کے ساتھ مل کر صدیوں سے عوام کا استحصال کر رہا تھا۔ اس تبدیلی سے پورا یورپ متاثر تھا۔ عوام بھی اور حکمران بھی۔ عوام اس لیے متاثر تھے کہ وہ سوچتے تھے کہ اگر ایسا فرانس میں ہو سکتا ہے تو ان کے ہاں یہ تبدیلی کیوں نہیں آ سکتی؟ اور حکمران کیوں پریشان تھے؟

وہ بھی اسی لیے۔۔۔ کہ اگر فرانس میں بادشاہ کی گردن کٹنے سے کوئی نہیں روک سکا تو ان کے ملک میں ایسا ہونے سے کون روکے گا؟ وہ اس لیے ایسا سوچ رہے تھے کہ فرانسیسی انقلاب میں انقلابیوں نے بادشاہ لیوس دا سکسٹینتھ اور اس کی بیوی کی گردنیں اتار دیں تھیں تو یورپ کا یہی ماحول تھا.

جس میں یورپی ممالک کے عوام نے اپنے حکمرانوں کے خلاف مختلف تحریکیں شروع کر رکھی تھیں۔ ان انقلابی تحریکوں کے ذریعے یورپی عوام کی بڑی تعداد خاص طور پر فیکٹریوں میں کام کرنے والا مزدور طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا تھا۔ یہ لوگ بادشاہت اور چرچ کی اتھارٹی کو چیلنج کر رہے تھے۔

دوستو یونانی دیومالا کا یہی ہیرو ایک بہت بڑے فلسفی کا آئیڈیل تھا۔ جیسے پرومیتھئس نے دوسرے دیوتاؤں کو للکارا تھا ویسے ہی اس فلسفی نے بھی اس وقت کے زمینی خداؤں کو للکارا اور دنیا بھر کے غریبوں کو نجات کی راہ دکھانے کی کوشش کی۔ پرومیتھئس ہی کی طرح اسے بھی زندگی بھرسخت تکالیف کا سامنا رہا۔

جلاوطنی، قیدوبند، اپنے بچوں کی اموات اور غربت کی اذیتوں سےوہ بھی گزرتا رہا لیکن ان سب پر وہ تمام عمرکبھی نہیں پچھتایا، بلکہ وہ انقلاب کیلئے لڑتا رہا۔ اس عظیم فلسفی کو آج دنیا ’کارل مارکس‘ کے نام سے جانتی ہے۔ میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی وہ کون تھا کی منی سیریز میں ہم آپ کو اسی فلاسفر کی بائیو گرافی دکھا رہے ہیں۔

مائی کیوریس فیلوز یہ مغربی جرمنی کا شہر ٹرئیر ہے جو بیلجئم اور فرانس کی سرحد کے بالکل قریب سرسبز پہاڑی علاقے رائین لینڈ میں واقع ہے۔ اس شہر کے اندر ایک تنگ گلی کے تین منزلہ مکان میں پانچ مئی اٹھارہ سو اٹھارہ میں کارل مارکس نے آنکھ کھولی۔ کارل مارکس جس دور میں پیدا ہوا اس دور میں یورپ کے ہر دوسرے گھر میں

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments