HomeHistoryWhat happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part...

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 4

80 / 100

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 4

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 4

جامعہ اشرفیہ اور بادشاہی مسجد لاہور میں لاکھوں مسلمانوں نے ان کی امامت میں نمازیں ادا کیں۔ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں خطبہ جمعہ بھی انہوں نے دیا اور کہا کہ اسلام کے لیے پاکستان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انھوں نے کسی کالعدم تنظیم کا نام لیے بغیر کہا کہ اسلام میں شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ تشدد کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جانا چاہیے۔

جمعے کے خطبے کے دوران فیصل مسجد میں چار لاکھ مسلمان موجود تھے۔ یہاں بھی انھوں نے پاکستان کو امن کا گہوارا بنانے کی دعا کروائی۔ انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کا حل مذاکرات سے نکالنا چاہیے اور دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں کھیلنا چاہیے۔

انھوں نے لال مسجد منتظمین کو مشورہ دیا کہ مساجد کو فتنہ انگیزی کے لیے استعمال نہ کریں۔ انہوں نے مساجد میں پناہ لے کر بیٹھ جانے کو بھی غلط کہا۔ وزیراعظم اور صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی انہوں نے ملاقات کی اور اس کے بعد وہ سعودی عرب واپس چلے گئے۔

لیکن دوستو امام کعبہ کے مساجد کو فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرنے والے بیان پر لال مسجد میں بہت ناراضگی پیدا ہوئی۔ اسی لیے امام کعبہ کی موجودگی کے دوران ہی لال مسجد کے باہر امام کعبہ کے فتوے کے خلاف پوسٹرز آویزاں کر دئیے گئے۔ جامعہ حفصہ میں تقریب کے دوران الزام لگایا گیا کہ حکومت انھیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے اور انھیں نامکمل معلومات فراہم کی گئی ہے۔

امام کعب کی واپسی تک معملات پرامن نہ ہونے کی وجہ سے لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت لال مسجد کے خلاف آپریشن شروع ہو جائے گا۔ اید اسی لیے، اسی دن جنوبی وزیرستان سے طالبان کے ترجمان حاجی عمر نے بیان دیا کہ اگر لال مسجد کے خلاف آپریشن کیا گیا تو وہ پاکستان کے خلاف اعلان جہاد کر دیں گے۔

طالبان ترجمان نے بتایا کہ وہ لال مسجد کے منتظمین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ دوستو طالباناور القاعدہ منسلک تنظیموں کے رابطے ہی غالباً وہ سہارے تھے جن کے بل پر مولانا عبدالعزیز اپنی سرگرمیاں بند کرنے پر تیار نہیں تھے اور نہ ہی وہ چلڈرن لائبریری کا قبضہ چھوڑ رہے تھے۔ وہ شریعت کے نفاذ سے کم کسی چیز پر راضی نہیں تھے۔

میڈیا چوبیس گھنٹے اس ایک ایشو پر لائیو کوریج کر رہا تھا۔ نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ دنیا بھر میں مسلسل اس خبر کو تشویش سے دیکھا جا رہا تھا۔ حکومت ان کے خلاف ایکشن لینا چاہتی تھی لیکن سیاسی عدم استحکام، ملک میں جاری وکلا کی پرزور تحریک اور سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ کب اور کیسے ایکشن کیا جائے؟

لیکن ایسے میں لال مسجد کے جنگجووں سے ایک ایسی غلطی ہوئی جو آخری ثابت ہوئی۔ یہ غلطی کیا تھی؟ جنرل مشرف نے کیوں کہا کہ وہ زندگی میں اتنے شرمندہ پہلے کبھی نہیں ہوئے؟لال مسجد کے تہہ خانوں میں کون تھا؟پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈو کرنل ہارون الاسلام کو کس نے گولی ماری؟

یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف پاکستان کی اگلی قسط میں، جس کے لیے آپ یہاں ٹچ کر سکتے ہیں۔ یہاں دیکھئے کہ لال مسجد کا قضیہ شروع کیسے ہوا تھا اور یہ رہی سقوط ڈھاکہ کی وہ کہانی جو شاید آپ کو ڈی ایس جے کے علاوہ اور اردو میں کہیں نہ ملے

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments