HomeHistoryWhat happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part...

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 3

83 / 100

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 3

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 3

مولانا عبدالعزیز اپنے بعد کے انٹرویز میں بھی اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ انھوں نے بچوں کی لائبریری پر قبضہ کیوں کیا تھا؟ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ایسا اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے، ریاست پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا تھا۔چھ اپریل ے اعلان جمعہ کے بعد سے، سر سے پاؤں تک سیاہ برقعوں میں لپٹی ہزاروں طالبات ڈنڈے لہراتی اسلام آباد کی سڑکوں پر نظر آنے لگیں۔

ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک ان کے مطابق شریعت نافذ نہیں کی جاتی وہ چلڈرن لائبریری خالی نہیں کریں گی۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے اقدامات کے خلاف بڑا احتجاج شروع کر دیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان سے قبضہ نہ چھڑوایا گیا تو دمادم مست قلندر ہو گا۔

امریکہ بھی ایک دن پہلے ورننگ دے چکا تھا کہ وہ امداد اسی صورت میں دے گا اگر پاکستان القاعدہ اور ان سے منسلک تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ آپ جان چکے ہیں کہ القاعدہ ایسٹس کی تفصیلات میں لال مسجد شامل تھی۔ اپنے خلاف آپریشن کا امکان دیکھتے ہوئے مولانا عبدالعزیز بار بار دھمکی دے رہے تھے کہ اگر ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا تو وہ خودکش حملے شروع کر دیں گے۔

اسی دنشام تک لال مسجد کے طلبہ و طالبات نے اسلام آباد کے شاپنگ سٹورز میں موسیقی اور فلموں کی دکانوں کے خلاف ایکشن لینا شروع کر دیا۔ دکانوں کو زبردستی بند کروا دیا جاتا اور دکانوں سے متنازعہ فلمز کی کیسٹس نکال کر آگ لگا دی جاتی۔

حکومت نے جب مبینہ طور پر لال مسجد کی مدد کو آنے والے سیکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا تو مولانا نے ایک بار پھر وارننگ دی کہ اگر ہمارے خلاف ریاستی طاقت استعمال کی گئی تو ہم جہاد کا اعلان کر دیں گے۔

انھوں نے بار بار کے مطالبے کے باوجود چلڈرن لائبریری چھوڑنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ ایک بار اسلامی نظام نافذ کر دیں پھر لائبریری سمیت چاہے ہمارے تمام مدارس بھی اپنے قبضے میں لے لیں۔ مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید یہ سب کر رہے تھےکیونکہ انھیں یقین دلایا گیا تھا کہ اگران کے خلاف ایکشن ہوا تو پوری القاعدہ اور منسلک تنظیمیں ان کی طرف سے لڑیں گی۔

پھر انھیں یہ بھی یقین تھا کہ اگر وہ اپنی نفاذ اسلام کی تحریک کو کامیابی سے چلا پائیں تو ساڑھے تیرہ ہزار مدارس کے اٹھارہ لاکھ طلبہ ان کے ساتھ مل جائیں گے۔ جس سے ریاست کو اپنی شرائط پر چلانا یا مذہبی طبقےکی مدد سے بغاوت کروانا ٓآسان ہو جائے گا۔دوستو لال مسجد، جامعہ حفصہ، جامعہ فریدیہ سے یہ سب کارروائیاں اسلام آباد کے عین مرکز میں ہو رہی تھیں۔

یہ سب کچھ روکنے کے لیے اور عالمی سبکی سے بچنے کے لیے حکومت نے مذہبی وزیر کو متحرک کیا۔ وزیر مذہی امور اعجاز الحق، جنرل ضیاالحق کے بیٹے تھے اور ان کا غازی برادران سے تعلق اس سویت افغان جنگ کے زمانے سے چلا آ رہا تھا۔ انھوں نے اپنا پرانا تعلق استعمال کرتے ہوئے غازی برادران کو سمجھانے کی کوشش کی۔

انھوں ے مولانا عبدالعزیز کے پاؤں پکڑے، ہاتھ جوڑے اور کہا کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں، میں ایک آگ کا سمندر دیکھ رہا ہوں۔ مولانا نے یہ سب سنا لیکن اپنے عمل میں تبدیلی سے انکار کر دیا۔

جنرل پرویز مشرف پر عالمی دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا کہ وہ لال مسجد کے منتظمین کے خلاف آپریشن کریں۔ ایسے میں چوہدری شجاعت حسین نے جنرل مشرف کو مشورہ دیا کہ مولانا عبدالعزیز کے استاد مفتی تقی عثمانی کو کراچی سے اگراسلام آباد بلایا جائے تو شاید وہ غازی برادران کو قائل کر سکیں۔

مفتی تقی عثمانی، مولانا عبدالعزیز کے روحانی استاد اور ان کے والد کے قریبی تعلق دار تھے۔ انھوں نے اپنے شاگرد سے ملاقات کی ورپوچھا کہ آپ کیا کرنا چا ہتے ہیں؟مولانا نے جواب دیا کہ وہ پاکستان میں اسلامی نظام حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے سوال کیا کہ آپ کس طرح کا اسلام چاہتے ہیں؟ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یا پھر آپ کا اپنا؟

مولانہ عبدالعزیز نے جواب دیا ظاہر ہے بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ماڈل ہمارا ماڈل ہیں؟اس پر ان کے استاد نے ذرا سخت سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ اگر آپ درست کہہ رہے ہیں تو ذرا بتائیے کہ بچوں کی لائبریری پر قبضہ، کسبیوں اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے مسجد میں بند کرنا اور فلموں کو آگ لگا کر شہر کا امن و امان تباہ کرنا پیغمبر اسلام کے کون سے حکم یا عمل سے ثابت ہے؟

کیا ہمارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی زندگی میں کبھی ایسا کچھ کیا تھا؟ یا پھر ان کے بعد کبھی ہمارے بزرگوں نے اسلام کو پھیلانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا تھا؟اس پر جواب دینے کے بجائے لال مسجد کے امام نے سر جھکا کر خاموشی اختیار کر لی۔ چند لمحوں کی خاموشی پر ان کے استاد مفتی تقی عثمانی بولے’’عبدالعزیز مجھے جواب چاہیے؟‘‘

مولانا نے کہا کہ آپ میرے روحانی استاد اور پیشوا ہیں، میں آپ سے بحث نہیں کر سکتا۔تقی عثمانی سمجھے کہ شاید مولانا نے ان کی بات مان لی ہے۔ انھوں نے اتمام حجت کے لیے پوچھا کہ کیا میں سمجھوں کہ آپ آئندہ ایسے تمام اقدامات نہ کرنے کا وعدہ کررہے ہیں؟

حیران کن طور پر مولانا عبدالعزیز نے اپنے استاد کو نفی میں جواب دیا اور کہا کہ میں جو کر رہا ہوں وہی کرتا رہوں گا کیونکہ میں اسےدرست سمجھتا ہوں۔مفتی تقی عثمانی نے حیرت سے پوچھا، اس کے باوجود کہ آپ کے پاس قرآن اور حدیث سے کوئی دلیل نہیں ہے؟اس کے جواب میں ایک بار پھر مولانا عبدالعزیز خاموش رہے۔

اب مفتی تقی عثمانی نے قدرے غصے سے کہا کہ میں نے سنا ہے آپ لوگوں سے کہتے ہیں کہ میں آپ کا استاد ہوں۔ یاد رکھیں آج سے ہمارا استاد شاگرد کا رشتہ ختم ہوا۔ آج کے بعد کسی سے مت کہیے گا کہ آپ میرے شاگردوں میں سے ہیں۔‘‘ مفتی تقی عثمانی نے یہ کہا اور اٹھ کر چل دئیے۔ مولانا عبدالعزیز نے انھیں روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی بس سر جھکائے آنسو بہاتے رہے۔

مولانا عبدالعزیز آج بھی مفتی تقی عثمانی کو اپنا استاد تو تسلیم کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ باادب ہو کر اختلاف کرنا جائز بات ہے۔ساٹ: مولانا عبدالعزیزمولانا تقی عثمانی کے ناکام مذاکرات کے بعد ایک آخری کوشش کے طور پر حکومت پاکستان نے ہنگامی طور پر امام کعبہ الشیخ عبدالرحمان السدیس سے پاکستان آنے کی درخواست کی۔ انتیس مئی دوہزار سات کے دن وہ پاکستان آئے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔ایک خط کو اپنی منزل تک پہنچنے میں 68 سال لگ گئے ۔۔

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments