HomeHistoryWhat happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part...

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 2

83 / 100

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 2

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 2

ان کے جسم پر زخموں کے بے شمار نشانات تھے جن میں سے ایک تازہ زخم وزیرستان میں پاک فوج کے آپریشن کے دوران ہی لگا تھا۔ انھیں القادہ کی مرکزی شوریٰ نے دوہزار چار سے پاکستان میں مذہبی قیادت سے ملاقاتوں اور ملک میں مذہبی بغاوت پیدا کرنے کے لیے بھیج رکھا تھا۔

وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو انتہائی مطلوب تھے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر وہ موسٹ وانٹڈ ٹیررسٹس میں شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود شیخ عیسیٰ المصری تمام خطرات مول لے کر پاکستان کے طول و عرض میں خفیہ ملاقاتیں کرنے لگے۔ وہ اپنی عربی کتاب ’’الوَلا البرا‘‘ کا اردو پشتو ترجمہ کروا کے پورے ملک میں خود پھیلا رہے تھے۔

اس کتاب میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام کے مطابق جمہوریت صریحاً کفر ہے اور پاکستانی ریاست ایک انفِیڈل، کافر ریاست ہے۔ اس کتاب میں قرآن و حدیث کے ساتھ تیرویں صدی عیسوی کے مسلم سکالر امام ابن تیمیہ کے اقوال کو جابجا کوٹ کیا گیا تھا۔ یاد رہے دوستو یہ بالکل ویسی ہی کتاب تھی جیسی جیحمان العتیبی اور عبداللہ قحطانی نے اپنے فالوورز کے لیے مرتب کی تھی۔

یہ وہی عداللہ قحطانی ہیں جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیس نومبر انیس سو اناسی، میں خانہ کعبہ کو دو ہفتوں کے لیے قبضے میں لے لیا تھا۔ جیحمان ار قحطانی کے گروہ نے جو الزامات سعودی حکومت پر لگائے تھے سو فیصد وہی الزامات اس کتاب میں پاکستانی ریاست پر لگائے گئے تھے۔

اس کتاب میں بھی سعودی عرب کی طرح پاکستان کو کفار کا مددگار ٹھہرا کر اس کے خلاف جنگ کو ہر مسلمان پر فرض قرار دیا گیا تھا۔ یاد رہے دوستو کہ اس رائے سے امام ابن تیمیہ کے زمانے سے آج تک مسلمان علما کی سب سے بڑی اکثریت اتفاق نہیں کرتی۔ جیسا کہ آپ اسی وڈیو کے آگے چل کر دیکھیں گے بھی۔

لیکن دوستو القاعدہ لیڈر شیخ عیسیٰ المصری کو یقین تھا کہ اگر وہ پاکستانی مذہبی طبقے کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں رہی، کیونکہ ی امریکہ کا ساتھ دے رہی ہے تو پاکستان میں بغاوت کروانا۔۔۔ جسے وہ عربی اصطلاح ’’خروج‘‘ سے تعبیر کرتے تھے۔۔۔

آسان ہو جائی گی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر خروج کامیاب نہ بھی ہوا تو بھی کم از کم اتنا ضرور ہو جائے گا کہ پاکستانامریکہ کی افغان جنگ میں تعاون کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ پھر ان کا یہ بھی اندازہ تھا اگر خروج کامیاب ہو جاتا ہے اور جہادی مائنڈ سیٹ کے لوگ ملک پر یعنی پاکستان قبضہ کر لیتے ہیں تو پاکستان دنیا بھر میں جہاد کے لیے القاعدہ کے جہاد کے لیے بہترین لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہو سکے گا۔

وہ اس ایجنڈے اور اپنی کتابوں کی کاپیاں لے کر پاکستان کے بڑے شہروں فیصل آباد، ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں پھر رہے تھے۔ انھوں نے ڈاکٹر اسرار احمد سے ملاقات کی جو پہلے سے اسلامی خلافت کے قیام کے حامی تھے۔ لیکن آپ جانتے ہی کہ اس کے لیے انھوں نے کبھی ہتھیار اٹھانے کی حوصلہ افزائی خود سےنہیں کی۔

اس کے بعد انھوں نے جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد سے ملاقات کی، لشکر طیبہ کے حافظ سعید سے بھی ملے۔ اور مبینہ طور پر مولانہ فضل الرحمان سے بھی ملاقات کی۔ ان س سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران انھوں نے اپنی کتاب سے ریاست پاکستان کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے مذہبی دلائل پڑھ پڑھ کر سنائے۔

سب مذہبی لیڈرز نے ان کی باتوں سے اصولی طور پر اتفاق کیا۔ شیخ عیسیٰ نے اس پر ان سے پوچھا کہ اگر آپ میری سب باتوں سے اتفاق کرتے ہیں تو کافر ریاستی اداروں کے خلاف کیوں نہیں نکلتے؟یہ وہ بات تھی جس پر ان مذہبی لیڈرز نے اتفاق نہیں کیا قاضی حسین احمد نے ان کو جواب دیا کہ اگرچہ آپ کی بات اصولی طور پر درست ہے.

لیکن موجودہ حالات میں آپ کی بات پر عمل کرنا پاکستان کے دشمنوں یعنی بھارت اور امریکہ کو خوش کرنے کے مترادف ہو گا۔ لحاظہ ان تمام مذہبی قائدین نے القاعدہ سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔لیکن یہاں سے ناکامی نے بھی شیخ عیسیٰ کو مایوس نہیں کیا اور وہ سیدھے پہنچے اسلام آباد کے مرکز میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب لال مسجد میں۔

یہاں انھوں نے غازی برادران سے ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنی کتاب سے دلائل پڑھ پڑھ کر سنائے۔ انھوں نے اسامہ بن لادن کی طرف سے پیغام دیا کہ اگر مولانا آپ ہماری باتوں سے متفق ہیں تو وہ ریاستی سیکیورٹی اداروں کے خلاف فتویٰ جاری کریں۔ ب دوستو آپ جان چکے ہیں کہ مولانا عبدالعزیز کوئی عام عالم دین نہیں تھے۔

وہ ا لال مسجد کے منتظم تھے جسے اسٹیبلشمنٹ انیس سو اسی کی دہائی سے افغانستان اور کشمیر میں جہاد کے لیے استعمال کرتی رہی تھی۔ یہاں سے جہادی نوجوانوں کو سویت روس کے خلاف لڑنے کے لیے بھرتی کیا جاتا تھا۔ اگر وہ شیخ عیسیٰ کے مطالبے کو مانتے ہوئے پاک فوج کے خلاف فتویٰ دیتے یا پاکستانی ریاست کو غیر اسلامی ڈکلئیر کرتے تو ان کے والد کے دور سے چلے آنے والے تعلقات برباد ہو سکتے تھے۔

لیکن دوستو حیران کن طور پر انھوں نے شیخ عیسیٰ المصری سے اتفاق کیا۔ پھر انھوں نے مطالبے پر وہی فتویٰ جاری کیا جس میں لکھا گیا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف آپریشن کے دوران مارے جانے والے پاک فوج کے جوانوں کو شہید نہ کہا جائے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے۔

آپ پچھلی قسط میں جان چکے ہیں کہ اس فتوے پر انھوں نے پاکستان بھر سے پانچ سو دیگر مفتی صاحبان کے دستخط بھی حاصل کر لیے تھے۔مولانا عبدالعیز غازی اس فتوے پر آج بھی قائم ہیں لیکن ساتھ میں یہ کہتے ہیں کہ یہ فتویٰ انھوں نے کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنی سوچ سے دیا تھا۔

مولانا عبدالعزیزاس کے بد چھ اپریل دوہزار سات کے خطبہ جمعہ میں مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی حدود میں نفاذ شریعت کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے حکومت کو ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی کہ اسلام آباد کی وڈیو شاپس بند کر دی جائیں۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں جہاد کے لیکچرز دیئے جانے لگے اور منسلک مدارس کے تہہ خانوں میں اسلحہ جمع ہونے لگا۔ چھ سے سات ہزار طلبہ اس وقت ان اداروں میں موجود تھے۔ اسی جذباتی ماحول میں امعہ حفصہ کی وہ سیکڑوں طالبات جنھوں نے چلڈرن لائبریری کے باہر دھرنا دے رکھا تھا، انھوں نے بچوں کی لائبریری پر قبضہ کر لیا۔

مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد میں علما اکرام پر مشتمل ایک شریعت کورٹ بنا دی اور مبینہ فحاشی کے اڈوں پر چھاپے مار کر خواتین کو اغوا کرنے اور ان کے لیے سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے حکومت کو وارننگ دی کہ ملک بھر سے پانچ لاکھ فحاشی کے اڈے اور شراب بند کر دی جائے ورنہ وہ خود ایکشن لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments