HomeHistoryWhat happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part...

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 1

83 / 100

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 1

What happened in Lal Masjid? | لال مسجد کا واقعہ | Part 1

دوہزار سات میں القاعدہ کا پلان تھا کہ پاکستان میں ایک ایسی بغاوت پیدا کی جائے جس کی وجہ سے وزیرستان میں ان کے خلاف آپریشن رک جائے۔ اس کے لیے انھوں نے مذہبی کارڈ کو استعمال کیا اور اپنے اہم ترین رکن شیخ عیسیٰ کو پاکستان میں علما دین سے مذاکرات کے لیے بھیجا۔

شیخ عیسیٰ نے قاضی حسین احمد، حافظ سعید، مولانا فضل الرحمان اور ڈاکٹر اسرار احمد سے ملاقاتیں کیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور ریاست کے خلاف فتویٰ دیں۔ اس مطالبے کا جواب پاکستان کے جید علما کرام نے کیا دیا؟ لال مسجد کے منتظمین نے چھ اپریل دوہزار سات کو نماز جمعہ کے خطبے میں نفاذ شریعت کا اعلان کر دیا اور ہزاروں طلبہ ڈانڈے اٹھائے،

سیاہ برقعے پہنے خواتین سڑکوں پر آ گئیں ۔۔۔ پھر کیا ہوا؟ امام کعبہ اور مفتی تقی عثمانی کی لال مسجد کو بچانے کی آخری کوششیں کیوں ناکام ہوئیں؟میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی ہسٹری آف پاکستان سیریز کی اس قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گےدوہزار سات کے شروع میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور پاکستانی انٹیلی جن س اداروں نے جنرل مشرف کو القاعدہ کے پاکستان میں تمام ایسٹس کی تفصیلات فراہم کر دی تھیں۔

ان ایسٹس کی تفصیلات میں وہ تمام مقامات اور افراد شامل تھے جو القاعدہ کے مددگار تھے۔ ان ایسٹس کی تفصیلات میں سرفہرست نام لال مسجد کا تھا۔ پھر سوات ویلی تھی اور وہاں کے ملا فضل اللہ تھے۔ پھر ان میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے صوفی محمد تھے جو باجوڑ، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے جنگجوؤں سے ملے ہوئے تھے۔

اب دیکھئے کہ ان میں سب سے اہم لال مسجد تھی، اور وہ تنہا نہیں تھی۔ لال مسجد کے ساتھ مددگار جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ سمیت وہ تمام مدارس تھے جو یہاں کے منتظمین نے پچھلے چالیس سال میں غیر قانونی طور پر قائم کیے تھے۔ یعنی گورنمنٹ سے ان کے لیے این او سی نہیں لیا گیا تھا۔ غیر قانونی مساجد اور مدارس تعمیر کرنے کو مولانا حضرات غلط نہیں سمجھتے تھے۔

انھوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ سرکاری زمین پر مساجد اور مدارس بنانا دینی فریضہ ہے۔ اگر ں یہ کام کرتی تو علما اکرام اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ کریں۔ساٹ: مولانا عبدالعزیزان مساجد اور چھوٹے بڑے مدارس کی تعداد دس سے زیادہ تھی یا اس سے کچھ زیادہ تھی اور یہاں زیرتعلیم طلبا و طالبات چھ ہزار سے آٹھ ہزار تک تھے۔

یہاں پڑھنے والوں کی بڑی تعداد کے پی کے اضلاع خصوصا مالاکنڈ اور سوات سے آئی تھی۔ فاٹا کے دوردراز علاقوں سے آنے والے طلبہ و طالبات بھی کاف تعداد میں تھے۔یہ سب وہ لوگ تھے جن کے قریب ترین رشتے داروں میں سے کوئی نہ کوئی افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کر چک تھا۔

ان میں سے اکثر تو ایسے تھے جن کے قریبی رشتے داروں میں سے کوئی نہ کوئی افغانستان یا کشمیر میں اپنی جان نچھاور کر چکا تھا۔ مطلب یہ کہ مذہب سے والہانہ وابستگی، جذبہ جہاد اور شوق شہادت کی تعلیم ان بچوں نے اپنے گھروں سے حاصل کی تھی۔ یہاں لال مسجد کے ملحقہ مدارس میں انکے اس جذبے کو اور بھی پروان چڑھایا گیا تھا۔

سو جب القاعدہ ایسٹس کی تفصیلات پاکستان کو فراہم کر دی گئیں تو ایک کے بعد ایک امریکی یا برطانوی اہلکار پاکستان کا دورے کرنے لگے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان جلد سے جلد ملی ٹینسی کو ختم کرنے کے لیے کوئی مربوط سٹریٹیجی بنائے۔

مربوط اس لیے کہ افغانستان جہاں امریکہ اور برطانوی فورسز تھیں، انھیں بھی ساتھ شامل کیا جائے تا کہ جنگجو پاک افغان سرحد کے کسی طرف بھی چھپ کر نہ بیٹھ سکیں۔ سادہ الفاظ میں یہ کہ پاکستان پر آپریشن کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا تھا ڈو موڑ کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔جنوری دوہزار سات سے ہی حکومت نے اسلام آباد میں آپریشن کا آغاز کر دیا۔

لال مسجد سے منسلک ایسی تمام مساجد اور مدارس کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا جو حکومت سے این او سی لیے بغیر تعمیر کی گئی تھیں۔ ان کی تعداد کم سے کم اسی، ایٹی تھی۔ ابھی ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن شروع ہی ہوا تھا کہ جامعہ حفصہ کی طالبات سیاہ برقعوں میں ملبوس سڑکوں پر آ گئیں۔

تین ہزار کے قریب طالبات نے بچوں کی لائبریری کے سامنے دھرنا دیا اور لامتناہی وقت کے لیے بیٹھ گئیں۔ انھوں نے مدرسے اور لائبریری پر پوسٹرز لگا دئیے کہ شریعت یا شہادت۔ وہ گرائی جانے والی مساجد کی دوبارہ تعمیر کامطالبہ کر رہی تھیں۔ وہ ان چار مساجد کی تعمیر کا مطالبہ بھی کر رہی تھیں جو گزشتہ کچھ سالوں میں سڑک کی توسیع کے دوران گرائی گئیں تھیں۔

ان کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ ان تمام مساجد کو جائز تسلیم کیا جائے جنھیں سرکار نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ حیران کن طور پر جامعہ حفصہ، جہاں کی طالبات احتجاج کر رہی تھیں، وہ مدرسہ بھی حکومت کے مطابق غیرقانونی طور پر قائم تھا۔ اسلام آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق لال مسجد کو خواتین کے مدرسے کے لیے سات مرلے جگہ الاٹ کی گئی تھی.

لیکن انھوں اٹھارہ کنال پر قبضہ کر لیا جو کہ اصل میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اور شادی ہال کی جگہ تھی۔ تو خیر دوستو لال مسجد کی طرف سے جامعہ حفصہ کی طالبات کا دھرنا تین ہفتے سے زیادہ جاری رہا۔ حکومت لال مسجد نتظامیہ کی ڈیمانڈ پر اس حد تک بہرحال متفق ہو گئی کہ وہ ایک مسجد جو حال ہی میں گرائی گئی تھی، اسے دوبارہ تعمیر کر دیا جائے گا۔

لیکن لال مسجد کے منتظم اور طلبا کا مطالبہ تھا کہ انھی مقامات پر دوبارہ مساجد بنا کر دی جائیں جہاں سے گرائی گئی ہیں۔ حکومت یہ بات نہیں مان رہی تھی۔ سو معاملہ بگڑنے لگا۔ غازی برادران نے اپنا رویہ اور سخت کر لیا۔ انھوں نے مساجد کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اسلامی نظام رائج کرنے کا مطالبہ شدومد سے شروع کر دیا.

لیکن حکومت کی طرف سے اس مطالبے کو پذیرائی نہیں ملی۔ پھر یوں ہوا کہ جمعے کے دن چھ اپریل دوہزار سات کے روز انھوں نے خطبہ جمعہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جہاں جہاں تک لال مسجد کا اثرورسوخ ہے ہم وہاں تک اسلامی شریعت کے نفاذ کا اعلان کرتے ہیں۔ پاکستان کے مرکز میں مولانا عبدالعزیز کا لال مسجد سے یہ اعلان بہت بڑی بات تھی۔

لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس اعلان کی بیک گراؤنڈ کیا تھی۔ نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے آنے والے لوگوں میں سے شاید کسی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ مولانا عبدالعزیز دراصل ہیں کس مشن پر اور ان کے پیچھے کون ہے؟

ان کے پیچھے شیخ عیسیٰ المصری سے ایک اہم ملاقات تھی۔ستر سالہ شیخ عیسیٰ المصری، جنھیں اسامہ بن لادن نے پاکستان میں ریاست کے خلاف بغاوت ابھارنے کا انچارج مقرر کیا تھا ایک ویٹرن جہادی تھے۔ وہ تھے تو عربی لیکن دو دہائیاں افغانستان اور پاکستان میں گزارنے کی وجہ سے اردو اور پشتو بھی اچھی بول لیتے تھے۔ انھیں پنجابی، پشتون اور افغان طالبان رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments