HomeHistoryWas Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part...

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 5

79 / 100

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 5

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 5
Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 5

انہوں نے یکم مارچ کی شام حکومت سے رابطہ کر کے پھر کہا کہ اگر انہیں قومی اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ مل جائے تو وہ عوامی جذبات کو سنبھال لیں گے۔ لیکن ان کی اس درخواست کو ان کی اس بات کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ اس کے عد شیخ مجیب نے آخری سیاسی راستہ اختیار کیا اور دو مارچ کو مشرقی پاکستان میں سول نافرمانی یا عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی۔

اس تحریک کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں کاروبارِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا اور حکومتی مشینری بالکل مفلوج ہو گئی۔ جنرل یحیٰ خان نے حالات کو سنبھالنے کیلئے اعلان کردا اسمبلی کا اجلاس پچیس مارچ کو بولا لیا۔ اعلان کر دیا کہ پچیس مارچ کو وہ اجلاس ہوگا اس میں اقتدار مبینہ طور پر اور بظاہر ان کو منتقل کیا جانا تھالیکن تب تک حالات بہت بگڑ چکے تھے۔

اب شیخ مجیب اپنی مرضی کی شرائط پر اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔ سات مارچ کو ڈھاکہ کے پلٹن گراؤنڈ میں دس لاکھ افراد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی شرائط پیش کر دیں۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے مارشل لاء ہٹانے، اقتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کرنے اور مشرقی پاکستان میں فسادات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں تو وہ پچیس مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت پر غور کریں گے۔

لیکن ان مطالبات کے ساتھ انہوں نے بنگالی عوام کو عدم تعاون کی تحریک کو تیز کرنے کیلئے بھی کہا۔ تقریر کے آخر میں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ ا جو جدوجہد ہو گی وہ ہماری آزادی کی جدوجہد ہو گی۔یہ تقریر جنرل یحیٰ کی حکومت کیلئے کھلی وارننگ تھی۔ شیخ مجیب نے واضح کر دیا تھا کہ اقتدار منتقل نہ ہوا تو اب آزادی کانعرہ لگ جائے گا۔

لیکن افسوس دوستو کہ جنرل یحی نے اس وارننگ کو بھی سیریس نہیں لیا۔دوستو آج شیخ مجیب کی سات مارچ والی تقریر کو بنگلہ دیش میں آزادی کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شیخ مجیب نے سات مارچ کو براہِ راست آزادی کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اگر یہ آزادی کا اعلان ہوتا تو شیخ مجیب قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت پر غور کرنے کی بات نہ کرتے۔

دوسرا یہ کہ آزادی کا اعلان ہوتے ہی بنگالیوں اور پاک فوج میں جنگ چھڑ جاتی لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ شیخ جیب نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اصل اعلان ریکارڈ کروا کر محفوظ رکھا ہوا تھا جسے وہ کسی نازک موقع پر ہی سامنے لانا چاہتے تھے۔ یہ نازک موقع جلد ہی آ گیا۔ جنرل یحیٰ نے مشرقی پاکستان میں حالات بگڑتے دیکھ کر فوجی آپریشن کا حکم دے دیا۔

افسوس ک بات دیکھئے کہ پچیس مارچ کو اسمبلی کا اجلاس ہونا تھا لیکن اس کی جگہ رات کو مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کردیا گیا۔ آپریشن شروع ہوتے ہی اگرچہ شیخ مجیب الرحمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن ان کے ریکارڈڈ پیغام کو نشر ہونے سے جنرل یحیٰ نہیں روک سکے۔ یہ پیغام ایسٹ پاکستان رائفلز کے وائرلیس سسٹم کے ذریعے چٹاگانگ اور مشرقی پاکستان کے کئی حصوں میں نشر کر دیا گیا۔

اس اعلانِ آزادی کے بعد ہی بنگالیوں نے پاک فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے پھر جو ہوا وہ تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ اس جنگ کا نتیجہ سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کو پاک فوج کے ہتھیار ڈالنے کی شکل میں سامنے آیا۔ اس جنگ کے دوران شیخ مجیب پاکستان میں قید رہے۔ جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے کے چند روز بعد جنرل یحیٰ اقتدار سے ہٹ گئے اور ذالفقار علی بھٹو صدر بن گئے۔

انہوں نے آٹھ جنوری انیس سو بہتر کو شیخ مجیب الرحمان کو رہا کر کے لندن بھیج دیا۔ جہاں سے پہلے وہ بھارت اور پھر ڈھاکہ پہنچے اور آزاد بنگلہ دیش کی حکومت سنبھال لی۔ دوستو شیخ مجیب کے بارے میں اب آپ یہ اندازہ خود لگا لیں یہ ساری کہانی جاننے کے بعد کہ کیا وہ واقعی غدار تھے یا محبِ وطن تھے یا صرف ایک ایسے مقبول لیڈر تھے جو اپنی کمیونٹی کے حقوق کی جنگ لڑ رہے تھے۔

لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شیخ مجیب الرحمان کو پاکستان سے دور کرنے میں کئی واقعات کا ہاتھ تھا۔ اگر بنگالی کو شروع میں ہی قومی زبان مان لیا جاتا، جگتو فرنٹ کا مشرقی پاکستان کو خودمختاری دینے کی شرائط ان کا مطالبہ تسلیم کرلیا جاتا. فضل الحق کی حکومت نہ گرائی جاتی، انیس سو چھپن کے آئین کے تحت الیکشن ہو جاتے یا پھر فاطمہ جناح کو دھاندلی سے نہ ہرایا جاتا تو شیخ مجیب اور ان کی طرح کے بہت سے بنگالی پاکستان سے باغی نہ ہوتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ مجیب نے مغربی پاکستان کے خلاف سخت لہجہ اپنا رکھا تھا۔ لیکن ان کے مقابلے میں ٹانگیں توڑ دینے اور ادھر تم ادھر ہم کے نعرے بھی کچھ کم خطرناک نہیں تھے۔ پھر شیخ مجیب کو میجورٹی کے ڈبل میجورٹی کے باوجود حکومت نہ دینا اور فوجی آپریشن کردینا ایسے خطرناک فیصلے تھے جن کے نتیجے میں پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔

کچھ لوگ یہدلیل بھی دیتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمان اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنا چھے نکاتی فارمولا مغربی پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ شاید اسی لئے جنرل یحیٰ اور ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی مخالفت کی۔ لیکن اس دلیل کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر یہ آئینی مسئلہ تھا تو اسے حل کرنے کا فورم پارلیمنٹ تھا، اور پارلیمنٹ کے اجلاس کا ہی تو شیخ مجیب بار بار مطالبہ کر رہے تھے!

وہ میدان جنگ تو نہیں مانگ رہے تھے میدان جنگ تو جنرل یحییٰ کا بدترین فیصلہ تھا،جو انہوں نے دیا اور بدقسمتی سے وہ اس میں بھی شکست کھا گئےاور پاکستان کو شرمندگی کا ایک ان مٹ داغ دے گئے۔ دوستو ہم یہ نہیں کہتے کہ شیخ مجیب کبھی الگ وطن کی حمایت میں نہیں تھے۔ انیس سو ستر کی الیکشن کیمپین میں انہوں نے جس طرح مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش قرار دیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کم از کم خودمختار بنگال تو ہر صورت میں چاہتے تھے۔

لیکن جذباتیت کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو یہ بہتر تھا کہ ایک جیتے ہوئے شیخ مجیب کو ایسا کرنے کا موقع دیا جاتا۔ یاد رکھیں کہ وہ اسمبلی ایک دستو ساز اسمبلی ہونا تھی جس کا وہ الیکشن جیتے تھے۔ جس نے پاکستان کا آئین بنانا تھا۔ جس نے یہ طے کرنا تھا کہ صوبوں کو کتنی خودمختاری دی جائے گی اور مرکز کے پاس کتنے اختیارات ہوں گے۔

سو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر یہ سب باتیں کرنے کو ابھی بہت وقت تھا۔ لیکن اس وقت کے مغربی پاکستان کے لیڈرز نے دواندیشی نہیں دکھائی اور بھارت کو وہ کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا جس کے نتیجے میں بنگال، جسے الگ ہونا ہی تھا، وہ الگ ہوا تو ناقابل بیان تلخ یادیں بھی چھوڑ گیا اور المناک طریقے سے الگ ہوا، ایک خونی علحدیگی ہوئی جس سے بچا جا سکتا تھا۔

لیکن دوستو شیخ مجیب نے شاید جلد بازی میں بنگلہ دیش تو بنا لیا لیکن وہاں وہ بھی سکون سے حکومت نہیں کر سکے۔ ان کا بنگلہ دیش کو سونار بنگلہ یا گولڈن بنگال بنانے کا وعدہ پورا نہ ہو سکا جو انہوں نے الیکشنز میں کیا تھا۔ چند برس میں ہی بنگالی عوام ان سے بھی مایوس ہو گئے اور فوج نے بغاوت کر دی ان کے خلاف۔ پندرہ اگست انیس سو پچھتر کے روز بنگالی فوج کے کچھ جونیئر افسر ٹینکوں پر سوار ہو کر ڈھاکہ میں صدارتی محل پہنچے .

اور شیخ مجیب، ان کی بیوی، تین بیٹوں اور دو بہوؤں کو ہلاک کر دیا۔ اس قتلِ عام میں شیخ مجیب کی دو بیٹیاں شیخ ریحانہ اور شیخ حسینہ واجد محفوظ رہیں کیونکہ وہ اس وقت جرمنی میں تھیں۔ شیخ مجیب تو جان سے چلے گئے لیکن ان کی پولیٹیکل لیگیسی یا سیاسی وراثت ان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد کی شکل میں اب بھی موجود ہے۔

لیکن اگر دوستو آپ انیس سو اکہتر کی نگ کی تفصیلی کہانی نقشوں کے ساتھ دیکھنی ہے تو دیکھو سنو جانو کی یہ مکمل سیریز ضرور دیکھئے پھر کیا آٹومن ایمپائر دوبارہ قائم ہو سکتی ہے اس بات کا جواب آپ کو اس ویڈیو میں مل جائے گا.

شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کی اس وقت وزیراعظم ہیں۔ دوستو یہ وہ مختصر کہانی ہے جسے جاننے کے بعد اب آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ شیخ مجیب غدار تھے یا اپنے لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ حقوق چاہنے والے ایک مقبول لیڈر تھے۔ آپ اپنی رائے کامنٹس میں ضرور دیجئے۔

..یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments