HomeHistoryWas Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part...

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 4

80 / 100

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 4

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 4

دوستو شیخ مجیب کے چھے نکات کو اپوزیشن رہنماؤں اور ایوب حکومت نے علیحدگی کا ایجنڈا قرار دے دیا اس وقت مگر اب یہ مان بھی لیں کہ یہ علیحدگی کا ایجنڈا تھا تو بھی چھے نکات پاکستان کیلئے فائدہ مند ہی تھے۔ اگر ان چھے نکات پر اس وقت عمل ہو جاتا تو مشرقی پاکستان ایک سیاسی عمل کے نتیجے میں اگر الگ ہوتا تو ہوتا۔

اس کیلئے ایک خونی جنگ اور شکست کی ذلت آمیز جو سانحہ سہنا پڑا پاکستان کو وہ نہ سہنا پڑتا۔مای کیوریس فیلوز مغربی پاکستان میں شیخ مجیب کے چھے نکات کو بہت سی پارٹیوں نے اور دائیں بازو کی پارٹیوں نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ مرکز کی ملٹری پاور نے بھی نہی دی البتہ نیب جیسی بہت سی تنظیمیں ان کی حمایت کر رہیں تھیں

نیشنل عوامی پارٹی اس وقت پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت تھی لیکن جب جنرل یحیٰ نے اقتدار سنبھال کر انیس سو انہتر میں انتخابات کا اعلان کیا تو شیخ مجیب نے مشرقی پاکستان میں اپنی ساری انتخابی مہم انہی چھے نکات کی بنیاد پر چلائی۔ مغربی پاکستان نیب بھی ان نکات کی حمایت کر رہی تھی۔لیکن شیخ مجیب کو مغربی پاکستان سے ایک شکوہ تھا جو بہت عرصے سے تھا۔

کہ وہ ان کے نکات نہیں مان رہے اب ان کا رویہ اس الکیشن کے قریب آتے آتے زیادہ جارحانہ ہونے لگا تھا۔ اب وہ اپنی تقریروں میں مغربی پاکستان اور خاص طور پر پنجابیوں کو غاصب قرار دیتے تھے۔ عوامی لیگ نے اپنی مخالف پارٹیوں دائیں بازوں کی پارٹیوں جیسا کہ جماعت اسلامی اور کنونشن لیگ وغیرہ کو بھی میرجعفر قراردیا۔

بنگای جتھوں نے شیخ مجیب کے اشارے پر یا پھر اپنے طور پر ان جماعتوں کے حامیوں پر مشرقی پاکستان میں حملے بھی شروع کر دیے۔ جنوری انیس سو ستر کو ڈھاکہ کے پلٹن گراؤنڈ میں جماعت اسلامی کے ایک جلسے پر بھی ہزاروں افراد نے حملہ کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والوں کو ہسپتالوں میں جا کر بھی ڈرایا دھمکایا گیا۔

گیارہ جنوری انیس سو انہتر کو شیخ مجیب الرحمان نے ڈھاکہ کے پلٹن گراؤنڈ میں اپنے خطاب میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کہا۔ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ انیس سو چھپن کے آئین میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی برابر نشستوں کا اصول ماننا ایک غلطی تھی۔ اب یہ اصول بنگلہ دیش کے عوام پر ٹھونسنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس کی وہ زبردست مزاحمت کریں گے۔

اسی طرح الیکشن سے دو روز پہلے پانچ دسمبر کو انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آج سے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش ہی کہا جائے۔ دوستو یہ ساری باتیں ستر کے الیکشن سے پہلے ہو رہی تھیں۔ ان سب سے ظاہر تھا کہ شیخ مجیب الرحمان علیحدگی کی فضاء بہرحال تیار کر رہے تھے۔ یعنی انیس سو انسٹھ میں انہوں نے آزاد بنگال کا جو خواب دیکھا تھا اسے پورا کرنے کی کوششیں انہوں نے شروع کر دی تھیں۔

تاہم آزادی کا اعلان انہوں نے اب تک نہیں کیا تھا۔کیوں؟ اس کی وجہ یہ لگتی ہے ک وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں اور چھے نکات کے تحت مشرقی پاکستان کو خودمختاری مل جاتی ہے جو وہ چاہتے ہیں تو علیحدگی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور پھر وہ مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں کے حکمران بھی ہوں گے۔

ان کا ایجنڈا اس طرح کا بھی شاید ہو سکتا ہے لیکن ایجنڈا ان کا جو بھی ہو شیخ مجیب نے الیکشن سے پہلے سب کچھ کہا مگر آزادی کا نام نہیں لیا۔ وہ اب بھی الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے اور سیاسی عمل کا حصہ بننے پر تیار تھے تو جا رہے تھے نہ۔ لیکن انیس سو ستر کے الیکشن کے بعد صورتحال تیزی سے بدلی۔ اب دیکھئے کہ سات دسمبر انیس سو ستر کو جب الیکشن ہوئے تو شیخ مجیب نے مارشل لاء حکومت کے اندازوں کے برعکس لینڈ سلائیڈ وکٹری مشرقی پاکستان میں حاصل کر لی۔

سوائے دو نشستوں کے مشرقی پاکستان کی تمام نشستیں انہوں نے جیت لی۔ اس کے ساتھ انہیں قومی اسمبلی کی کل تین سو تیرہ نشستوں میں سے ریزرو سیٹس ملا کرایک سو سڑسٹھ نشستیں مل گئیں۔ وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھے لیکن انہیں حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا۔ صدر جنرل یحیٰ خان اسمبلی کا اجلاس بار بار اعلان کرتے اور بار بار اسے ملتوی کردیتے۔

وہ اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں تھے اور شیخ مجیب پر کوئی ایسا فارمولا تھوپنا چاہتے تھے جس کے تحت وہ خود صدر برقرار رہ کر کسی کو اقتدار منتقل کر سکیں۔ ادھر مغربی پاکستان نے دوستو اس طرف پیپلز پارٹی پچاسی نشستوں کے ساتھ میجورٹی میں تھی۔ اس کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو بھی وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔

بلکہ انہوں نے تو ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے ممکنہ اجلاس میں جانے والے اپنے اراکین اسمبلی کی ٹانگیں توڑدینے کی دھمکی دی تھی۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے ک مشرقی اور مغربی پاکستان میں بہت زیادہ فاصلے کی وجہ سے میجورٹی یعنی اکثریت کی حکمرانی کے اصول کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ مشرقی پاکستان کا اقتدار شیخ مجیب کو اور مغربی پاکستان میں اقتدار پیپلز پارٹی کو منتقل کرنے کی باتیں بھی کیاکرتے تھے۔

بھٹو کے ایسے بیانات کی اخبارات نے تشریح یوں کی کہ ادھر تم ادھر ہم۔ اس کے علاوہ ملتان ائرپورٹ پر تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اس کے علاوہ بھی کئی جہگوں پر لیکن ملتان کو رپوٹ ہوا کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے نعرے بھی ان کے کارکنوں نے لگائے۔

حالانکہ اسمبلی میں میجورٹی کے لحاظ سے تو ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بن ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ ان کی سیٹس شیخ مجیب سے آدھی تھیں بلکہ آدھی سے بھی کم تھیں۔ اِدھر پاکستان کی سیاست میں یہ سب ہو رہا تھا اور اُدھر ملک کے حکمران جنرل یحیٰ خان خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے بلکہ ایک طرح سے وہ بھٹو کا ساتھ دے رہے تھے۔

وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرتے جا رہے تھے۔ شیخ مجیب نے دسمبر انیس سو ستر سے مارچ انیس سو اکہتر تک تقریباً چار ماہ انتظار کیا کہ اقتدار انہیں منتقل کیا جائے۔ اسمبلی کا اجلاس بلایا جائےاور اس میں اقتدار کی منتقلی کا جو بھی طریقہ کار ہے وہ کیا جائےالیکشن کے بعد اکثریتی جماعت کو حکومت دینے کیلئے یہ عرصہ بہت ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ایسا ہوا نہیں۔

اس چار ماہ کے عرصے میں شیخ مجیب نے سخت بیانات بھی دیئے، مشرقی پاکستان میں وائلنس کے بھی بہت سے واقعات ہوئے۔ لیکن مجموعی طور پر شیخ مجیب الرحمان کی یہی کوشش رہی کہ انہیں پرامن طریقے سے قتدار منتقل کر دیا جائے۔ اس دورا تیرہ فروری انیس سو اکہتر کو ایک موقع آیا جب جنرل یحیٰ خان نے اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس تین مارچ کو ڈھاکہ میں بلا لیں گے۔

لیکن یکم مارچ کو یعنی دو دن پہلے جنرل یحیٰ نے یہ اجلاس بھی ملتوی کر دیا۔ اس اجلاس ملتوی ہونے پر بنگالی عوام مشتعل ہو گئے۔ ڈھاکہ کے گلی کوچوں میں نعرے بازی اور تصادم بہت ہوا تھا۔لیکن ان حالات میں بھی شیخ مجیب نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔ایک خط کو اپنی منزل تک پہنچنے میں 68 سال لگ گئے ۔۔ 

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments