HomeHistoryWas Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part...

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 3

81 / 100

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 3

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 3
Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 3

وہ انیس سو اکسٹھ تک وقفے وقفے سے جیل میں آتے جاتے رہے۔ نیس سو انسٹھ میں ایک بار جب وہ رہا ہوئے تو انہوں نے اپنے دوستوں کے سامنے ایک انکشاف کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب سے ایک آزاد بنگال کیلئے کام کریں گے۔ یعنی انیس سو اٹھاون کا مارشل لاء وہ تیسرا واقعہ تھا جو شیخ مجیب الرحمان کو علیحدگی کی طرف دھکیلنے کا باعث بنا۔دوستو انیس سو اکسٹھ میں جب شیخ مجیب کو دوبارہ رہائی ملی تو کچھ ہی عرصے بعد ان کا سیاسی کیریئر جو تھا وہ ایک ٹرننگ بنا۔

ہوا یہ کہ انیس سو تریسٹھ میں عوامی لیگ کے سربراہ حسین شہید سہروردی جو بیروت میں جلا وطن تھے وہ انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی عوامی لیگ کی قیادت اور مشرقی پاکستان کا سیاسی مستقبل دونوں شیخ مجیب کے ہاتھوں میں آ گئے۔ عوامی لیگ کا سربراہ بننے کے چند برس بعد تک شیخ مجیب نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے لگے کہ وہ پاکستان توڑنا چاہتے تھے۔ بلکہ اس دوران انہوں نے ایک ایسا کام کیا جو پاکستان کو بچانے والا تھا۔

انہوں نے ایوب خان کے خلاف دارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کر دی۔ یہی نہیں وہ محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم بھی بھرپور طریقے سے شریک ہوئے اور یہ مہم چلاتے رہے۔ لیکن انیس و پینسٹھ میں جب صدارتی الیکشن ہوئے تو فاطمہ جناح کو دھاندلی سے بدترین دھاندلی سے ہرا دیا گیا۔ اب دیکھا جائے تو انیس سو پینسٹھ کے صدارتی الیکشن پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کا آخری موقع تھا.

لیکن یہ بھی جنرل ایوب کی ہوس اقتدار کی نظر ہو گیا۔اگر محترم فاطمہ جناح صدر بن جاتیں یا یہ الیکشن فری اینڈ فئیر ہو جاتے نظر آتے تو مشرقی پاکستان کے عوام اورشیخ مجیب بھی مطمئن ہو جاتے کیونکہ وہ فاطمہ جناح کو بہرحال لیڈر تسلیم کرتے تھے۔ لیکن بدترین دھاندلی اور فاطمہ جناح کی مسلسل کردار کشی سے جنرل ایوب خان اور ان کے حواریوں نے پاکستان بچانے کا یہ آخری موقع ضائع کر دیا۔

فاطمہ جناح کی ہار کے بعد شیخ مجیب کے سیاسی کیریئر کا اب ایک اور اہم واقعہ پیش آیا جو کے اگرتلہ سازش کیس ہے۔ اگر تلہ سازش کیس کا لبِ لباب یہ تھا ک شیخ مجیب الرحمان نے مبینہ طور پر انیس سو چونسٹھ میں بھارتی شہر اگرتلہ میں انڈین انٹیلیجنس کے افسروں سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں یہ منصوبہ بنا تھا کہ پاک فوج کے بنگالی یونٹس کی بغاوت کے ذریعے بنگلہ دیش ایک الگ ملک قائم کیا جائے گا۔

مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کر دیا جائے گابھارت نے اس مقصد کیلئے شیخ مجیب الرحمان اور ان کے ساتھیوں کو مبینہ طور پر بھاری رقوم بھی دیں تھیں۔ اگرتلہ سازش کیس کا مقدمہ جون انیس سو اڑسٹھ میں ڈھاکہ چھاؤنی میں شروع ہوا۔ اس میں شیخ مجیب سمیت پینتیس لوگ نامزد تھے لیکن حکومت اس سازش کو عدالت میں ثابت نہیں کر سکی۔ اگلے برس بائیس فروری کو اگرتلہ سازش کیس ختم کر کے شیخ مجیب کو رہا کر دیا گیا۔

شیخ مجیب الرحمان کی پارٹی عوامی لیگ کا سرکاری موقف آج بھی یہ ہے کہ اگرتلہ سازش کیس جھوٹ کا پلندہ تھا۔ تاہم کچھ ہسٹورینز مانتے ہیں کہ یہ واقعہ سچ تھا۔ برطانو مصنف آئین ٹالبوٹ بھی لکھتے ہیں کہ شیخ مجیب نے اگرتلہ میں بھارتی انٹیلیجنس افسران سے ملاقاتیں کی تھیں یا ایک ملاقات تو کی تھی۔ اس کے علاؤہ عوامی لیگ کے کچھ اور لوگوں کے بھی بھارتی انٹیلیجنس سے رابطے تھے۔

بنگلہ دیش کے سابق ڈپٹی اسپیکر شوکت علی نے بنگلہ دیش بننے کے بعد اعتراف کیا تھا کہ وہ شیخ مجیب کی قیادت میں مسلح انقلاب کے ذریعے مشرقی پاکستان کو الگ کرنا چاہتے تھے۔ بہرحال حقیقت جو بھی ہو لیکن شیخ مجیب نے انیس سو اکہتر سے پہلے براہِ راست علیحدگی کی بات کبھی نہیں کی تھی۔ وہ پاکستان کو متحد رکھتے ہوئے بنگالیوں کو ان کے حقوق دلانے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کے چھے نکات بھی انہی کوششوں کا حصہ تھے۔

شیخ مجیب الرحمان نے اپنے مشہورِ زمانہ چھے نکات پہلی بار انیس سو چھیاسٹھ میں پیش کئے تھے۔ ان نکات میں انہوں نے صرف دفاع اور خا رجہ امور کو مرکزی حکومت کے حوالے کرنے اور باقی تمام امور صوبوں کے ذمہ ڈالنے ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی الگ کرنسی، الگ فارن ریزروز یعنی الگ اسٹیٹ بینک اور الگ پیرا ملٹری فورس کے قیام کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ اور جانتے ہیں یہ نکات شیخ مجیب نے کہاں پیش کئے تھے اور انہیں پیش کرنے سے پہلے ان کے الفاظ کیا تھے؟

شیخ مجیب نے یہ چھے نکات فروری انیس سو چھیاسٹھ میں لاہور میں اپوزیشن کی نیشنل کانفرنس میں پیش کئے تھے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے بڑے نامور سیاستدان جیسا کہ مولانا مودودی مذہبی سیاستدان تھے اور نوابزادہ نصراللہ بھی شریک تھے۔ جب شیخ مجیب اس کانفرنس میں آئے تو انہوں نے اعلان کیا کہ میری عرض داشت میری بات کا مقصد پاکستان کے دونوں حصوں کو ایک ہی سیاسی وحدت کے طور پر برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

شیخ مجیب نے نا صرف یہ کہ کانفرنس میں یہ بات کہی بلکہ لاہور میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے تناظر میں بھی اپنے چھے نکات کو انتہائی ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی خود مختاری کی اہمیت اور افادیت کو انیس سو پنسٹھ کی جنگ نے واضح کر دیا ہے کیونکہ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کٹ گیا تھا۔

ایسی صورت حال یں مرکز اگر ایک طرف ہو تو اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ دوسرے صوبے کو اور دونوں حصوں کو ایک طرح سے کنٹرول کر سکے لیکن یہ مشرقی پاکستان کے عام کی انہوں نے کہا کےحب الوطنی ہے کہ جب رابطہ کٹ گیا تو اس کے باوجود انھوں نے ملک کی وحدت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ ہشیخ مجیب نے کہا ہمیں ومی اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھنا ہے لیکن یہ مقصد صحیح جمہوری حکومت اور علاقائی خود مختاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

دوستو یہ وہ ان کے خیالات تھے جوانہوں نے لاہور میں ظاہر کئے۔ انہوں نے اپنے چھے نکات کو اپوزیشن کانفرنس کا اعلامیہ تیار کرنے والی کمیٹی کے سپرد بھی کر دیا۔ لیکن اپوزیشن نے ان نکات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں قومی مفاد کے خلاف قرار دے دیا۔ مولانا مودودی اور نوابزادہ نصراللہ نے تو چھے نکات کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی۔ مولانا مودودی ڈھاکہ گئے اور وہاں ایک خطاب میں کہا کہ ان تجاویز پر عملدرآمد سے ملک تقسیم ہو جائے گا۔ ایسی ہی باتیں کئی اور سیاستدانوں بھی دوستو کہہ رہے تھے۔

اس حوالے سے ایک دلچسپ سازشی تھیوری بھی ہے۔ وہ تھیوری یہ تھی کہ شیخ مجیب کے چھے نکات ایوب خان حکومت کی سازش تھے۔ یہ چھے نکات ایوب خان کے سیکرٹری الطاف گوہر نے تیار کئے تھے اور ان کا مقصد اپوزیشن میں پھوٹ ڈالنا تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیخ مجیب اپوزیشن کی کانفرنس میں شرکت کیلئے ایک سرکاری بینک کی گاڑی میں آئے تھے اور محکمہ اطلاعات کی گاڑی میں واپس گئے تھے۔

بہرحال یہ سازشی تھیوری دوستو کبھی ثابت نہیں ہو سکی۔ ایک صحافی جس نے اس دور میں چھے نکات میں الطاف گوہر کے ملوث ہونے کی یہ سازشی کہانی لکھی تھی اس پر عدالت نے اس صحافی کو اسی ہزار روپے جرمانہ بھی کر دیا تھا۔

یہ سازشی تھیوری ہو یا نہ ہویہ تو حقیقت ہے کہ اتنے فاصلے پر خود مختیاری کے بغیرموجود رہنا اپنی علاقائی سلامتی برقرار رکھنا بہرحال ایک لوجیکل بات ہے جو آج بھی پاکستان کے چاروں صوبے سمجھتے ہیں اور آٹھارویں ترمیم اس کا ثبوت بھی ہے کہ علاقائی خودمختیاری ملکی سلامتی کے لیے اہم ترین چیز یے.

یہ بھی پڑھیں۔۔واٹس ایپ اسٹیٹس سے ویڈیو کیسے ڈاؤن لوڈ کریں؟

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments