HomeHistoryWas Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part...

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 2

83 / 100

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 2

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 2
Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 2

سولہ اگست کا ڈائریکٹ ایکشن کامیاب رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں قیام پاکستان کے مطالبے کو بہت طاقت ملی۔ اس واقعے کے ایک برس کے اندر پاکستان آزاد ہو گیا اور دو الگ ریاستوں کی جگہ ایک ہی پاکستان بن گیا۔ قیام پاکستان کے دوران بھی ہندو مسلم فسادات ہوتے رہے اور شیخ مجیب جس قدر ممکن ہو سکا لوگوں کی جانیں بچانے میں لگے رہے۔ دوستو دیکھئے کہ ایک پاکستان کا قیام بہت سے بنگالی لیڈرز کی توقع کے خلاف تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ شیخ مجیب سمیت یہ تمام بنگالی لیڈرز ایک آزاد مشرقی پاکستان کی مہم چلاتے رہے تھے۔ لیکن چونکہ مسلم لیگ بنگال کی اعلیٰ قیادت یعنی حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین وغیرہ نے ایک پاکستانی ریاست کو قبول کرچکے تھے ،اس لئے ان کے جو چھوٹے لیڈرز تھے دوسرے درجے کے شیخ مجیب وغیرہ انہوں نے بھی اسی کو اپنا وطن مان لیا اور دو الگ ریاستوں کی بجائے ایک پاکستان جو دو حصوں میں تھا اس کو اپنا وطن مان کر آگے چلنے لگے۔

اسی نئے وطن میں دوستو شیخ مجیب الرحمان نے ایک محبِ وطن شہری سے بظاہر ایک غدار تک کا سفر کیسے طے کیا؟ اور کیا وہ غدار تھے بھی؟ دوستو شیخ مجیب کو بغاوت یا غداری کی راہ پر ڈالنے والا پہلا مسئلہ تھا بنگالی اور اردو زبان کا جھگڑا۔ اب پاکستان میں بنگالی عوام اکثریت میں تھے ان کی تعداد زیادہ تھی،اب ان کی زبان بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دیا جانا ضروری تھا۔

لیکن ہوا یہ کہ پاکستانی حکومت نے بنگالی کی جگہ اردو کو قومی زبان بنانے کا اعلان کیا آئین بنے سے پہلے۔ بنگال کے اس وقت کے وزیراعلیٰ خواجہ ناظم الدین بھی اردو کو قومی زبان قرار دینے کے حق میں مہم چلا رہے تھے۔ اب شیخ مجیب اور ان کے ساتھی اس بات کے خلاف تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ قرار دے دیا جائے۔ لیکن جب حکومت نے ان کے مطالبے پر کان نہیں دھرے تو بنگالی طلبا نے گیارہ مارچ انیس سو اڑتالیس کو ڈھاکہ میں سرکاری عمارتوں کا گھیراؤ کر لیا۔

ان طلبا پر پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔ اس احتجاج میں شیخ مجیب الرحمان نے بھی بھرپور حصہ لیا بلکہ گرفتاری سے بھی وہ بال بال بچے۔ بنگالیوں کے احتجاج کے باوجود کچھ روز کے بعد جب قائداعظم ڈھاکہ آئے تو انہوں نے بھی اپنی تقریر میں اردو کو ہی قومی زبان قرار دینے کا اعلان کر دیا۔ قائداعظم کی تقریر کی وجہ سے وقتی طور پر بنگالی زبان کی تحریک کمزور تو ہوئی لیکن گیارہ ستمبر انیس سو اڑتالیس کو جب قائداعظم کی وفات ہوئی تو یہ تحریک پھر زور پکڑنے لگی۔

اگلے ہی برس تئیس جون انیس سو انچاس کو عوامی مسلم لیگ کے نام سے ایک بنگالی قوم پرست پارٹی قائم ہوئی جسے بعد میں عوامی لیگ کا نام دے دیا گیا۔ اس جماعت کو قائم کرنے والوں میں حسین شہید سہروردی اور مولانا بھاشانی جیسے اہم بنگالی لیڈرز کے علاوہ شیخ مجیب بھی شامل تھے۔ شیخ مجیب الرحمان اس پارٹی کے جوائنٹ سیکرٹری تھے۔

تو اب اس تنظیم نے مسلم لیگ کی اردو کو قومی زبان بنانے کی پالیسی کو ریجیکٹ کر کے بنگالی زبان کے حق میں اور بنگالی نیشنلزم کے حق میں تحریک چلانا شروع کر دی۔ بعد میں عوامی لیگ کے ساتھ بنگال کے مقبول اور منجھے ہوئے سیاستدان اے کے فضل الحق بھی شامل ہو گئے۔ یوں ایک نیا سیاسی اتحاد وجود میں آیا جسے جُکتو یا جُگتو فرنٹ کا نام دیا گیا۔ اس سیاسی اتحاد نے مشرقی پاکستان کو خودمختاری دینے کیلئے اکیس نکاتی منشور یا مینی فیسٹو پیش کیا۔

اس مینی فیسٹو میں کہا گیا تھا کہ دفاع، کرنسی، خارجہ امور اور کمیونیکیشن یعنی ٹیلیفون، ٹیلیگراف وغیرہ ان جیسے شعبے وفاقی حکومت کے پاس رہیں اور باقی تمام شعبوں میں مشرقی پاکستان کو بنگال کو خودمختاری دی جائے۔ انہی اکیس نکات کی بنیاد پر جگتو فرنٹ نے جسے یونائٹیڈ فرنٹ بھی کہا جاتا تھا انیس سو چون میں بنگال کی ریاستی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور حکمران جماعت مسلم لیگ کو اپ سیٹ شکست دے دی۔

اس الیکشن میں جگتو فرنٹ کو ستانوے فیصد ووٹ ملے۔ تین سو نو نشتوں کے ایوان میں اس نے دو سو تئیس نشستیں جیت لیں یہ ایک واضح برتری تھی۔ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ کو صرف تین فیصد ووٹ اور بمشکل نو نشستیں ملیں۔ لیکن اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جگتو فرنٹ کی کامیابی کے بعد پاکستان کی مرکزی حکومت بنگالی عوام کے مطالبات کو سیریس لیتی۔ لیکن افسوس ایسا ہونہ سکا۔

گورنر جنرل غلام محمد اور ان کے حواریوں نے جگتو فرنٹ کی انتخابی کامیابی کے جواب میں سازش کرنا شروع کی جس سے پھر خوفناک نتائج نکلے۔ الیکشن کے نتیجے میں اے کے فضل الحق جہنوں نے قرارداد پاکستان بھی پیش کی تھی وہ مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ بنے۔ پندرہ مئی انیس سو چون کو مشرقی پاکستان کی کابینہ نے حلف اٹھایا جس میں شیخ مجیب الرحمان کو وزیرِ زراعت کا عہدہ دیا گیا۔ جس روز یہ سب کچھ ہوا اسی روز ڈھاکہ کے قریب آدم جی جوٹ ملز میں بنگالی اور غیربنگالی ورکرز میں تصادم ہوا اور چار، پانچ سو لوگ مارے گئے۔

اخبارات میں ان فسادات کا الزام فضل الحق پر لگا دیا گیا۔ فضل الحق سے یہ بات بھی منسوب کی گی کہ انہوں نے امریکی اخبار دا نیویارک ٹائمز کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ بنگال کو پاکستان سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔تو دوستو مشرقی پاکستان میں فسادات اور فضل الحق کے مبینہ پاکستان مخالف بیانات کو بنیاد بنا کر تئیس مئی انیس سو چون کو گورنر جنرل غلام محمد نے جگتو فرنٹ کی حکومت برطرف کر دی۔ فضل الحق کو غدار قرار دے کر گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

اردو، بنگالی جھگڑے کے بعد یہ دوسرا واقعہ تھا جس نے شیخ مجیب کے دل میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دیا۔ اگرچہ بعدمیں فضل الحق کو اگلے برس انیس سو پچپن میں پاکستان کا وزیر داخلہ بھی مقرر کیا گیا اور وہ انیس سو چھپن تک اس عہدے پر فائز رہے۔ حسین شہید سہروردی بھی انیس سو چھپن سے انیس سو ستاون تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ اسی طرح انیس سو پچپن میں ہی شیخ مجیب بھی پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

اس کے علاوہ وہ حسین شہید سہروردی کی کابینہ میں وزیرِ صنعت بھی رہے۔ لیکن جگتو فرنٹ کی حکومت کو جس طرح برطرف کیا گیا تھا اور دونوں طرف الزام تراشی کا جو ماحول تھا اس نے نفرت کی ایسی فضاء پیدا کر دی جو پھر کبھی ختم نہ ہو سکی۔ لیکن اس سب کے باوجود شیخ مجیب اب بھی پاکستان کے ساتھ چلنے کو تیار تھے۔ وہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے رکن تھے۔ آپ میں سے شاید بہت سے دوستوں کیلئے یہ حیرت انگیز بات ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ انیس سو چھپن میں پاکستان کا جو پہلا آئین تیار ہوا اسے تیار کرنے والوں میں شیخ مجیب الرحمان بھی شامل تھے۔

شیخ مجیب اور مشرقی پاکستان کے دیگر اراکین اسمبلی کی وجہ سے ہی آئین میں بنگالیوں کا سب سے اہم مطالبہ مان لیا گیا تھا۔ یعنی بنگالی زبان کو بھی اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ تاہم آئین کے تحت قومی اسمبلی میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی نشستوں کی تعداد برابر رکھی گئی تھی۔ یعنی ایک سو پچپن نشستیں ہر صوبے کو الاٹ کی گئیں چاہے کسی کی آبادی کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ یوں بظاہر گلے شکوے ختم ہو گئے کچھ دیر کے لیے۔

دوستو انیس سوچھپن کے آئین نے ایک ہلکی سی امید پیدا کر دی تھی کہ مشرقی اور مغربی پاکستان ساتھ ساتھ چل پائیں گے۔ اس آئین کے تحت انیس سو انسٹھ میں الیکشن ہونا تھے۔ اگر یہ الیکشن ہو جاتے اور سیاسی عمل کو جاری رہنے دیا جاتا تو شاید شیخ مجیب کبھی علیحدگی کی طرف نہ جاتے۔ لیکن ہوا یہ کہ میجر جنرل اسکندر مرزا نے جنرل ایوب کی مدد سے اکتوبر انیس سو اٹھاون کو مارشل لاء لگا دیا۔ اور اسمبلی کو برطرف کر دیا آئین کو مسترد کر دیا۔

اس مارشل لا نے سیاسی عمل کے پرخچے اڑا دیئے۔ چھپن کا آئین منسوخ ہو گیا، بڑے بڑے سیاسی لیڈرز گرفتار کر لئے گئے جن میں ایک بار پھر شیخ مجیب الرحمان بھی شامل تھے۔

اگلے ہی برس تئیس جون انیس سو انچاس کو عوامی مسلم لیگ کے نام سے ایک بنگالی قوم پرست پارٹی قائم ہوئی جسے بعد میں عوامی لیگ کا نام دے دیا گیا۔ اس جماعت کو قائم کرنے والوں میں حسین شہید سہروردی اور مولانا بھاشانی جیسے اہم بنگالی لیڈرز کے علاوہ شیخ مجیب بھی شامل تھے۔ شیخ مجیب الرحمان اس پارٹی کے جوائنٹ سیکرٹری تھے۔

تو اب اس تنظیم نے مسلم لیگ کی اردو کو قومی زبان بنانے کی پالیسی کو ریجیکٹ کر کے بنگالی زبان کے حق میں اور بنگالی نیشنلزم کے حق میں تحریک چلانا شروع کر دی۔ بعد میں عوامی لیگ کے ساتھ بنگال کے مقبول اور منجھے ہوئے سیاستدان اے کے فضل الحق بھی شامل ہو گئے۔ یوں ایک نیا سیاسی اتحاد وجود میں آیا جسے جُکتو یا جُگتو فرنٹ کا نام دیا گیا۔ اس سیاسی اتحاد نے مشرقی پاکستان کو خودمختاری دینے کیلئے اکیس نکاتی منشور یا مینی فیسٹو پیش کیا۔

اس مینی فیسٹو میں کہا گیا تھا کہ دفاع، کرنسی، خارجہ امور اور کمیونیکیشن یعنی ٹیلیفون، ٹیلیگراف وغیرہ ان جیسے شعبے وفاقی حکومت کے پاس رہیں اور باقی تمام شعبوں میں مشرقی پاکستان کو بنگال کو خودمختاری دی جائے۔ انہی اکیس نکات کی بنیاد پر جگتو فرنٹ نے جسے یونائٹیڈ فرنٹ بھی کہا جاتا تھا انیس سو چون میں بنگال کی ریاستی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور حکمران جماعت مسلم لیگ کو اپ سیٹ شکست دے دی۔ اس الیکشن میں جگتو فرنٹ کو ستانوے فیصد ووٹ ملے۔

تین سو نو نشتوں کے ایوان میں اس نے دو سو تئیس نشستیں جیت لیں یہ ایک واضح برتری تھی۔ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ کو صرف تین فیصد ووٹ اور بمشکل نو نشستیں ملیں۔ لیکن اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جگتو فرنٹ کی کامیابی کے بعد پاکستان کی مرکزی حکومت بنگالی عوام کے مطالبات کو سیریس لیتی۔ لیکن افسوس ایسا ہونہ سکا۔ گورنر جنرل غلام محمد اور ان کے حواریوں نے جگتو فرنٹ کی انتخابی کامیابی کے جواب میں سازش کرنا شروع کی جس سے پھر خوفناک نتائج نکلے۔

الیکشن کے نتیجے میں اے کے فضل الحق جہنوں نے قرارداد پاکستان بھی پیش کی تھی وہ مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ بنے۔ پندرہ مئی انیس سو چون کو مشرقی پاکستان کی کابینہ نے حلف اٹھایا جس میں شیخ مجیب الرحمان کو وزیرِ زراعت کا عہدہ دیا گیا۔ جس روز یہ سب کچھ ہوا اسی روز ڈھاکہ کے قریب آدم جی جوٹ ملز میں بنگالی اور غیربنگالی ورکرز میں تصادم ہوا اور چار، پانچ سو لوگ مارے گئے۔ اخبارات میں ان فسادات کا الزام فضل الحق پر لگا دیا گیا۔

فضل الحق سے یہ بات بھی منسوب کی گی کہ انہوں نے امریکی اخبار دا نیویارک ٹائمز کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ بنگال کو پاکستان سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔تو دوستو مشرقی پاکستان میں فسادات اور فضل الحق کے مبینہ پاکستان مخالف بیانات کو بنیاد بنا کر تئیس مئی انیس سو چون کو گورنر جنرل غلام محمد نے جگتو فرنٹ کی حکومت برطرف کر دی۔ فضل الحق کو غدار قرار دے کر گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اردو، بنگالی جھگڑے کے بعد یہ دوسرا واقعہ تھا جس نے شیخ مجیب کے دل میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دیا۔

اگرچہ بعدمیں فضل الحق کو اگلے برس انیس سو پچپن میں پاکستان کا وزیر داخلہ بھی مقرر کیا گیا اور وہ انیس سو چھپن تک اس عہدے پر فائز رہے۔ حسین شہید سہروردی بھی انیس سو چھپن سے انیس سو ستاون تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ اسی طرح انیس سو پچپن میں ہی شیخ مجیب بھی پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ حسین شہید سہروردی کی کابینہ میں وزیرِ صنعت بھی رہے۔

لیکن جگتو فرنٹ کی حکومت کو جس طرح برطرف کیا گیا تھا اور دونوں طرف الزام تراشی کا جو ماحول تھا اس نے نفرت کی ایسی فضاء پیدا کر دی جو پھر کبھی ختم نہ ہو سکی۔ لیکن اس سب کے باوجود شیخ مجیب اب بھی پاکستان کے ساتھ چلنے کو تیار تھے۔ وہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے رکن تھے۔ آپ میں سے شاید بہت سے دوستوں کیلئے یہ حیرت انگیز بات ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ انیس سو چھپن میں پاکستان کا جو پہلا آئین تیار ہوا اسے تیار کرنے والوں میں شیخ مجیب الرحمان بھی شامل تھے۔

شیخ مجیب اور مشرقی پاکستان کے دیگر اراکین اسمبلی کی وجہ سے ہی آئین میں بنگالیوں کا سب سے اہم مطالبہ مان لیا گیا تھا۔ یعنی بنگالی زبان کو بھی اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ تاہم آئین کے تحت قومی اسمبلی میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی نشستوں کی تعداد برابر رکھی گئی تھی۔ یعنی ایک سو پچپن نشستیں ہر صوبے کو الاٹ کی گئیں چاہے کسی کی آبادی کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ یوں بظاہر گلے شکوے ختم ہو گئے کچھ دیر کے لیے۔

دوستو انیس سوچھپن کے آئین نے ایک ہلکی سی امید پیدا کر دی تھی کہ مشرقی اور مغربی پاکستان ساتھ ساتھ چل پائیں گے۔ اس آئین کے تحت انیس سو انسٹھ میں الیکشن ہونا تھے۔ اگر یہ الیکشن ہو جاتے اور سیاسی عمل کو جاری رہنے دیا جاتا تو شاید شیخ مجیب کبھی علیحدگی کی طرف نہ جاتے۔ لیکن ہوا یہ کہ میجر جنرل اسکندر مرزا نے جنرل ایوب کی مدد سے اکتوبر انیس سو اٹھاون کو مارشل لاء لگا دیا۔ اور اسمبلی کو برطرف کر دیا آئین کو مسترد کر دیا۔ اس مارشل لا نے سیاسی عمل کے پرخچے اڑا دیئے۔ چھپن کا آئین منسوخ ہو گیا، بڑے بڑے سیاسی لیڈرز گرفتار کر لئے گئے جن میں ایک بار پھر شیخ مجیب الرحمان بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔ بِٹ کوائن کا مستقبل کیا ہے؟

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments