HomeHistoryWas Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part...

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 1

81 / 100

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 1

Was Mujeeb-ur-Rehman a traitor? | کیا مجییب الرحمان غدار تھا | Part 1

دوستو کیسے ہیں آپ۔۔۔

یہ انیس سو چالیس سے کچھ پہلے کی بات ہے ڈھاکہ کے قریب گوپال گنج کے علاقے میں ایک گھر کے باہر ہندو مسلم فساد ہو رہا تھا۔ہوا یہ تھا کہ چند مشتعل ہندوؤں نے ایک مسلم نوجوان کو اغوا کر کے گھر میں بند کر لیا تھا۔اس نوجوانوں کو چھڑانے کیلئے آزاد کروانے کے لیے کچھ مسلمان نوجوانوں کا ایک گروہ اس گھر کے اوپر چڑھ دوڑا۔پہلے ہندوؤں سے ان کی تو تو میں میں ہوئی تکرار ہوئی پھر لاٹھیاں چلنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں طرف سے لوگ اب زخمی ہونے لگے۔اس لڑائی میں ایک سترہ، اٹھارہ برس کا مسلم نوجوان ایسا بھی تھا جو بہت بے خوفی سے ہندوؤں کا مقابلہ کر رہا تھا۔

ایک ہندو لڑکے نے جب اس پر ڈنڈے سے وار کیا تو اس نے ڈنڈا چھین کر مدِمقابل کا ہی سر پھاڑ دیا۔اس نوجوان کی بہادری کی وجہ سے دوسرے مسلم نوجوانوں کا بھی حوصلہ بڑھا. اور انہوں نے اس گھر کا دروازہ توڑ کر اپنے ساتھی کو رہا کروا لیا باہر نکلوا . لیا۔لڑنے والے اس بہادر نوجوان کا نام شیخ مجیب الرحمان تھا۔ شیخ مجیب نے یہ لڑائی تو دوستو جیت لی تھی لیکن جلد ہی وہ ایک قانونی لڑائی میں پھنس گئے۔مسلم نوجوان کو اغوا کرنے والے ہندوؤں نے شیخ مجیب اور ان کے ساتھیوں پر ہی دنگا فساد کا مقدمہ کروا دیا تھا۔

اس مقدمے میں شیخ مجیب اپنے ساتھیوں سمیت ایک ہفتے تک جیل میں رہے۔آخر شیخ مجیب سمیت تمام گرفتار مسلم نوجواں کی فیملیز نے ہندوؤں کو پندرہ سو ٹکا ہرجانے کی رقم دے کر یہ کیس واپس کروایا اور شیخ مجیب کو رہائی ملی۔لیکن اپنی رہائی تک شیخ مجیب ایک اہم فیصلہ کر چکے تھے.جو ان کی زندگی اور بنگال کی تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہونے والا تھا۔انہوں نے مسلم لیگ جوائن کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔اب وہ بنگال کو ہندو میجورٹی والے ہندوستان سے الگ کروانا چاہتے تھے۔انہوں نے دو قومی نظریہ اپنا لیا تھا۔شیخ مجیب کا مسلم لیگ سے تعارف اس واقعے سے کچھ عرصہ پہلے ہی ہوا تھا.

حسین شہید سہروردی بنگال میں مسلم لیگ کے ٹاپ لیڈرز میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے شیخ مجیب کو دعوت دی تھی کہ وہ جب بھی کلکتہ آئیں ان سے ضرور ملیں۔ تو اب ہوا یہ کہ شیخ مجیب کلکتہ جو اب کولکتہ کہلاتا ہے وہاں گئے اور حسین شہید سہروردی سے ملاقات کر کے مسلم لیگ جوائن کر لی۔ اس کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے اپنے علاقے گوپال گنج اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں بھی مسلم لیگ کی مقامی تنظیم اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصے بعد شیخ مجیب نے کلکتہ کے اسلامیہ کالج میں داخل لیا.

تو وہاں بھی وہ طلبا کے لیڈر بن گئے اور مسلم لیگ کو مضبوط کرتے رہے۔ اس کام میں انھیں قدم قدم پر حسین شہید سہروردی کی بھرپور اسپورٹ حاصل تھی۔ بلکہ وہ ایک طرح سے ان کے سیاسی شاگرد بن چکے تھے۔ یہ انہی کی سرپرستی کا نتیجہ تھا کہ چند برس میں ہی شیخ مجیب الرحمان مسلم لیگ بنگال کے کارکنوں اور لیڈرز میں ایک جانا پہچانا نام بن گئے۔ شیخ مجیب الرحمان نے مسلم لیگ میں رہتے ہوئے قیامِ پاکستان کیلئے دن رات جدوجہد کی۔ لیکن بنگال کے بہت سے مسلم لیگی لیڈرز اور کارکنوں کی طرح وہ بھی ایک بڑی غلط فہمی کا شکار تھے۔ وہ غلط فہمی کیا تھی؟ دوستو وہ غلط فہمی یہ تھی

کہ قراردادِ لاہور یا قراردادِ پاکستان جو تئیس مارچ انیس سو چالیس کو منظور ہوئی تھی اس میں ایک پاکستان کے قیام کی بات نہیں ہوئی تھی۔ اس قرارداد کے انگریزی میں لکھے گئے متن یا ٹیکسٹ میں مسلم اسٹیٹس کے قیام کا ذکر کیا گیا تھا۔جس سے یہ صاف تاثر ملتا تھا کہ ایک نہیں دو ملک یعنی دو پاکستان بنیں گے جن میں ایک مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان ہو گا۔ جبکہ مشرق میں بنگال کو مشرقی پاکستان بنایا جائے گا۔یعنی مشرقی ملک بنایا جائے گا مسلمانوں کا یہ دونوں الگ الگ ملک ہوں گے یہ اس وقت سمجھا جاتا تھا۔ یہ اس قراداد کے متن سے یہی سمجھ آتا تھا شیخ مجیب بھی یہی سمجھ رہے تھے۔

یعنی بنگال کی آزادی کی اور اسے آزاد ملک بنانے کی آزاد مسلم ملک بنانے کی۔چنانچہ وہ اپنی طرف سے مشرقی پاکستان کے قیام کے حق میں بھرپور مہم چلا رہے تھے۔ان کی جیب میں ہندوستان کا ایک نقشہ ہمیشہ موجود رہتا تھا اور پاکستان پر لکھی گئی ایک، دو کتابیں ان کی بغل میں دبی رہتیں۔وہ یہ
کتابیں اور نقشہ لے کر جلسوں میں جاتے اور حاضرین کو نقشے پر سمجھاتے کہ پاکستان کن علاقوں کو ملا کر بنایا جائے گا اور اس میں مسلمان کس طرح ہندو میجورٹی کے مبینہ ظلم و ستم سے آزاد رہیں گے وغیرہ وغیرہ۔ شیخ مجیب الرحمان نے قیامِ پاکستان کیلئے اتنی محنت کی کہ اپنی پڑھائی سے بھی غافل ہو گئے۔

یہ شیخ مجیب اور ان جیسے دیگر کارکنوں کی محنت کا ہی نتیجہ تھا دوستوکہ انیس سو پینتالیس، چھیالیس کے الیکشن میں بنگال میں مسلم لیگ کامیاب ہو جیت گئی۔ مسلم لیگ نے سب سے زیادہ ایک سو تیرہ مسلم نشستیں جیت کر بنگال میں اپنی حکومت بنا لی۔ حسین شہید سہروردی بنگال کے نئے وزیراعظم بنے گئےاس وقت اس صوبے کے سربراہ کو وزیراعظم کہا جاتا تھا۔ تواس کامیابی سے ظاہر ہے کہ شیخ مجیب الرحمان بہت خوش تھے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اور واقعہ بھی ہوا جس نے انہیں پریشان کر دیا۔ مائی کیوریس فیلوز شیخ مجیب مشرقی پاکستان کو ایک آزاد ریاست سمجھ کر اس کیلئے مہم چلا رہے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ وہ انیس سو چالیس کی قرارداد کے تحت ایسا کر رہے ہیں کیونکہ اس میں ایک مسلم اسٹیٹ کی جگہ اسٹیٹس کے قیام کی بات لکھی تھی یعنی ان کے خیال میں بنگال ایک الگ اسٹیٹ بنے گا آزاد الگ اسٹیٹ۔ لیکن ہوا یہ کہ اپریل انیس سو چھیالیس میں دہلی میں مسلم لیگ کا ایک کنونشن ہوا جس میں شیخ مجیب بھی شریک تھے۔اس کنونشن میں ایک نئی قرارداد منظور ہوئی جس میں مسلمانوں کے نئے وطن کیلئے اسٹیٹس کے بجائے اسٹیٹ یعنی ایس ہٹا دیا گیا اسٹیٹ ایک ریاست، ایک وطن کا لفظ استعمال کر لیا گیا۔ جو لفظ نیا لکھا گیا اس میں اسٹیٹس کا آخری ایس ختم تھا سسنگل اسٹیٹ تھا

شیخ مجیب اس بات پر کچھ کنفیوز تھے کیونکہ وہ تو بنگال کو مشرقی پاکستان کی شکل میں ایک الگ آزاد ملک دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خدشات اور اعتراضات اپنے کچھ لیڈرز کے سامنے رکھے لیکن ان لیڈرز نے انہیں پھر غلط فہمی میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی والی قرارداد صرف مسلم لیگ کے ایک کنونشن تک محدود ہے قراردادِ پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جو لاہور میں پاس ہوئی تھی۔ یعنی دو ریاستوں والی بات اب بھی موجود ہے یہ ان کو کہا گیا۔

شیخ مجیب نے اپنے لیڈرز کی اس وضاحت کو مان لیا اور قیامِ پاکستان کے ساتھ پہلے ہی کی طرح مخلص رہے۔اس دوران دوستو ڈائریکٹ ایکشن ڈے آ گیا۔ہوا یہ کہ انیس سو چھیالیس میں قائداعظم نے سولہ اگست کو ڈائریکٹ ایکشن یا راست اقدام کا اعلان کیا۔مسلم لیگ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس روز ہندوستان بھر میں ہڑتال کرے اور پاکستان کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے جائیں۔

اس کا مقصد انگریزوں اور ہندوؤں دونوں پر ظاہر کرنا تھا کہ اب مسلم لیگ قیامِ پاکستان سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہے۔ شیخ مجیب نے ڈائریکٹ ایکشن میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سولہ اگست کو انہوں نے کلکتہ یونیورسٹی میں مسلم لیگ کا پرچم لہرادیا۔ اس دوران شہر میں ہندو مسلم فسادات بھی شروع ہوئے۔ ان فسادات کے دوران شیخ مجیب نے سینکڑوں زخمی اور بے گھر مسلمانوں کو اپنے کالج، اسلامیہ کالج میں پناہ دی۔

اس کے علاوہ انہوں نے کچھ اور جگہوں پر بھی مسلمانوں کیلئے مہاجر کیمپ قائم کئے۔ وہ اپنی جان پر کھیل کر مسلمانوں کے گھروں کی حفاظت بھی کرتے رہے۔ کلکتہ کے بعد شیخ مجیب بنگال کے دوسرے علاقوں میں بھی گئے اور وہاں بھی مہاجرین کی مدد کی۔ ایک موقع پر تو وہ چاول سے لدے ہوئے دوستو چھکڑے کو خود کھینچ کر ایک مہاجرین تک لے کر گئے تاکہ وہ کھانا کھا سکیں یہ ان کی ڈئڈیکیشن تھی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔ مونگ پھلی زیادہ کھاتے ہیں تو ہوشیار ہوجائیں ۔۔ یہ عادت آپ کی صحت کو کیا نقصان پہنچا سکتی ہے؟

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments