HomeHistoryThe End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part...

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 3

82 / 100

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 3

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 3

سو انھوں نے نمائشی حثیت میں نواب کو بھی رکھا اور کار سرکار بھی خود چلائے وہ پٹنہ میں میر قاسم کو بھی ختم کرنا چاہتے تھے لیکن میر قاسم آسانی سے ہار ماننے والے نہیں تھے۔ لیکن جب میر قاسم نے انگریزوں سے جنگوں میں شکستیں کھانا شروع کیں اور اپنی حکومت کو ناکام ہوتے دیکھا تو اپنے وفاداروں کو ساتھ ملا کر انہوں نے گوریلا جنگ شروع کر دی۔

انھوں نے اودھ کے راجہ شجاع الدولہ اور شاہ عالم ثانی سے بھی تعاون مانگا۔ یہ تعاون انہیں ملا بھی لیکن پھر یہ ہوا کہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے شجاع الدولہ نے میر قاسم کو قید میں ڈال دیا۔ جس کے بعد شجاع الدولہ نے مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے ساتھ مل کر انگریزوں سے ایک فیصلہ کن جنگ بہرحال کی۔

لیکن یہ جنگ جسے جنگ بکسر کہتے ہیں شجاع الدولہ کی فوج نے زیادہ تعداد کے باوجود ہار دی کیونکہ ان کی فوج میں ڈسپلن اچھا نہیں تھا۔ چالیس ہزار ہندوستانی فوج جیت کے قریب پہنچ کر انگریزوں کا مال لوٹنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے لگی۔ جس سے یہ ہوا کہ انگریزوں کو پلٹ کر وار کرنے کا موقع ملا اور مال و دولت لوٹتی ہندوستانی فوج کو بھاگنا پڑا۔

جنگ بکسر کے بعد بنگال باقاعدہ طور پر انگریزوں کے قبضے میں آ گیا تھا۔ سترہ سو پینسٹھ، سیونٹین سکسٹی فائیو میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی نے انگریزوں سے معاہدہ سائن کیا جس کے تحت بنگال سے ٹیکس اب ایسٹ انڈیا کمپنی جمع کرے گی۔ یہ معاہدہ بنگال اور اوودھ کو انگریزوں کی جھولی میں ڈالنے والی بات تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ کرنے کے لیے انگلینڈ سے ایک بار پھرکرنل کلائیو ہی ہندوستان آئے تھے۔ اس معاہدے کے بعد صورتحال کچھ یوں تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے صرف اڑھائی سو کلرک بیس ہزار ہندوستانی سپاہیوں کی مدد سے مغل ایمپائر کے امیر ترین صوبوں، بنگال اور اوودھ پر حکومت کر رہے تھے۔

تجارت کے نام پر ہندوستان میں آنے والی یہ کمپنی اب یہاں کی مالک بن گئی تھی۔ بنگال پر ان کا مکمل قبضہ تھا اور میر جعفر علامتی نواب تھے۔ افیون کے نشے نے ان کی صحت کو اس بری طرح تباہ کیا کہ دوسری بار نواب بننے کے صرف دو سال بعد یعنی سترہ سو پینسٹھ، سیونٹین سکسٹی فائیو میں وہ انتقال کر گئے۔

انہیں مرشد آباد میں جعفر گنج قبرستان میں دفن کر دیا گیا جہاں ان کے خاندان کے باقی لوگ بھی دفن ہیں۔ ان کے محل کو آج بھی نمک حرام ڈیوڑھی کے ٹائٹل سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے اور پھر ان کی اولادوں کو علامتی طور پر نواب آف بنگال کا عہدہ دیا جاتا رہا۔ بعد میں اس عہدے کو نواب آف مرشد آباد کہا جانے لگا اور یہ ٹائٹل آج تک ان کے خاندان میں موجود ہے۔

دوہزار چودہ، ٹو تھاؤزنڈ فورٹین میں یہ ٹائٹل عباس علی مرزا کو ملا اور اس وڈیو کی اپ لوڈنگ ڈیٹ تک وہی نواب بہادر آف مرشد آباد کہلاتے ہیں۔ نواب سراج الدولہ کےبہت بڑے دشمن جگت سیٹھ خاندان کے لوگ تھے جن کے متعلق آپ جان چکے ہیں کہ انہیں میر قاسم نے قتل کروا دیا تھا۔ سراج الدولہ کے قاتل میر جعفر کے بیٹے میر میرن زخمی ہونے کے بعد آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہو چکے تھے۔

اسی طرح نواب سراج الدولہ کے خلاف جنگ کرنے والے انگریز کرنل لارڈ کلائیو کا انجام بھی اچھا نہیں ہوا۔ انہیں بھی کچھ عرصے بعد برطانیہ واپس بلوا لیا گیا تھا۔ وہاں ان پر کرپشن کے مقدمات چلے۔ ان مقدمات میں وہ سزا سے تو بچ نکلے لیکن بدنامی ان کے گلے کا طوق بن گئی۔

ان کے لیے انگلینڈ میں زندگی اتنی تلخ ہوئی کہ سترہ سو بہتر، سیونٹین سیونٹی ٹو میں انہوں نے چاقو سے اپنا گلا کاٹ کر زندگی ختم کر لی۔ اب رہ گئے سراج الدولہکے آخری دشمن وہ میر قاسم تھے جو انھیں گرفتار کر کے لائے تھے اور میر جعفر کے بعد کچھ دیر کے لیے نواب بھی بنے تھے۔

میر قاسم نواب سراج الدولہ کے دشمنوں میں سب سے زیادہ جیے لیکن یہ زندگی بھی کوئی زندگی تھی بھلا؟میر قاسم کو شجاع الدولہ نے انگریزوں سے معاہدے سے کچھ پہلے ہی رہا کر دیا تھا۔ لیکن اس وقت تک ہندوستان کے حالات بہت زیادہ بدل چکے تھے۔ میر قاسم تنہا تھے۔ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے۔

ان کے آخری دن بھیک مانگتے ہوئے گزرے۔ سترہ سو ستتر، سیونٹین سیونٹی سیون کے آس پاس جب وہ آگرہ کے قریب کہیں موجود تھے، انھیں موت نے آن لیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی لاش سامنے پڑی تھی اور ان کے بچوں کے پاس انھیں دینے کے لیے کفن کی رقم تک نہیں تھی۔

یعنی آخری آزاد نواب آف بنگال سراج الدولہ کے قتل کے صرف بیس سال بعد ان کا ایک بھی بڑا دشمن ایسا نہیں تھا جسے وہ کچھ ملا ہو جس کے لیے اس نے نواب سراج الدولہ سے دھوکا کیا تھا۔ سب کا انجام عبرتناک ہوا۔ دوسری طرف ہندوستان کے نوابوں اور راجوں نے وقت کے ساتھ آگے بڑھنے کا جو سبق نہیں سیکھا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خطہ اگلی دو صدیوں کے لیے انگریزوں کی کالونی بن گیا۔

اور اسی کالونیل دور کے اثرات آج تک یہاں کی بیورکریسی اور اسٹیبلشمنٹ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔دوستو یہاں سراج الدولہ اور میر جعفر سے منسلک جنگ پلاسی کی عبرت ناک سچی کہانی مکمل ہوتی ہے۔

آپ نے اس کہانی سے کیا سیکھا ہمیں کامنٹس میں ضرور لکھیے۔ اگر آپ نے تاریخ کےا س اہم ترین موڑ کی سچی کہانی شروع سے نہیں دیکھی تو اس پلے لسٹ پر ٹچ کر لیجئے یہاں دیکھئے اسپین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا تھا اور یہ رہی اس دور کی کہانی جب امریکی صدر چند سرمایا داروں کی کٹھ پتلی ہوا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments