HomeHistoryThe End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part...

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 2

83 / 100

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 2

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 2

مغل فوج کی پیش قدمیکی اطلاع جب میر جعفر کر ملی تو وہ سمجھ گئے کہ اب مقابلہ کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے میر میرن کی کمان میں ایک فوج مغلوں سے مقابلے کیلئے بھیج دی۔ جبکہ ابھی تک انگریز فوج نہیں پہنچی تھی۔ لیکن دوستو اس فوج کا برا حال ہوا اور یہ مار کھا کر واپس پلٹی۔ اس فوج کے کمانڈر میر میرن اس جنگ میں شدید زخمی ہو گئے۔

قریب تھا کہ مغل فوج مرشد آباد پر قبضہ کر لیتی اور انگریزوں کی بنگال میں لوٹ مار خطرے میں پڑ جاتی۔ لیکن ایسے میں انگریز فوج حرکت میں آئی۔ انھوں نے جدید طریقوں سے جنگ کرتے ہوئے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کو بنگال کی حدود سے باہر نکال دیا۔ دوستو اس لڑائی کے ختم ہونے سے پہلے نواب میر جعفر کو ایک گہرا زخم لگا۔ ان کے زخمی بیٹے میر میرن پر آسمانی بجلی گری اور وہ چل بسے۔

ان کی موت کے بعد ایسی افواہیں بھی پھیلیں کہ انہوں نے اپنی کسی لونڈی کی بہن کو قتل کروایا تھا۔ اس قتل کا بدلہ لینے کیلئے لونڈی نے ان کے خیمے کو آگ لگا کر انہیں جلا کر ہلاک کر دیا۔ بہرحال یہ آسمانی بجلی گرنے والا واقعہ تاریخ میں زیادہ اتھینٹک سمجھا جاتا ہے۔ اپنے جوان بیٹے کی موت، مغلوں کے حملے، انگریزوں کی لوٹ مار اور عوام میں بڑھتی بے چینی نے میر جعفر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

انہیں اچانک احساس ہونے لگا کہ وہ لارڈ کلائیو کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں اور بنگال ایسٹ انڈیا کمپنی کا غلام بن کے رہ گیا ہے۔ سو انھوں نے ایک بار پھر وہی کیا جو وہ اس سےپہلے نواب سراج الدولہ کے خلاف کر چکے تھے۔

انھوں نے ایک سازش تیار کی۔ انھوں نے کلکتہ کے قریب ہی موجود ایک ہالینڈ سے آئی تجارتی کمپنی یعنی ڈچ کمپنی سے رابطہ کیا اور انگریزوں کے خلاف فوجی مدد مانگی۔ ڈچ کمپنی نے میر جعفر سے ساز باز کی اور اپنی تقریباً ایک ہزار فوج کو کلکتہ کی طرف روانہ کر دیا۔ اس فوج نے چینسورہ میں ہیڈکوارٹر بنا کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف کارروائی کرنا تھی۔

لیکن لارڈ کلائیو کو اس فوج کی موومنٹ کا بروقت پتا چل گیا اور انہوں نے حملہ کر کے اس فوج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ میر جعفر کی اپنے سرپرستوں کے خلاف یہ سازش بری طرح ناکام ہو چکی تھیپہلے سے خراب تعلقات اور بھی بگڑ گئے تھے \انگریز میر جعفر کی جگہ کسی اور کو بنگال کے تخت پر بٹھانا چاہتے تھے لیکنمسئلہ یہ تھا کہ ان کا متبادل کون ہو؟

جتنی وفاداری سے میر جعفر نے نواب سراج الدولہ کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اتنا وفادار کوئی دوسرا ملنا ان کے نزدیک ابھی مشکل تھا۔ لیکن حالات ایسے تھے کہ اب انگریزوں کو اپنی چوائس بہرحال بدلنا تھی۔ یہ چوائس بدلنا انگریزوں کے کے لیے جلد ہی آسان ہو گیا۔

کیونکہ میر جعفر کو لانے والےکرنل کلائیو کو اس دوران انگلینڈ واپس بلا لیا گیا اور نئے انگریز گورنر ’’ہنری وینسی ٹارٹ‘‘ کو ان کی جگہ کلکتہ بھیج دیا گیا۔ نئے انگریز گورنر ہنری نے سیٹ سنبھالتے ہی اپنی نئی کٹھ پتلی کے لیے ایک ایسے شخص کو بلایا جو ان کے خیال میں انگریزوں کے کے لیے میر جعفر کا بہترین متبادل تھا۔ یہ شخص تھا میر قاسم۔

وہی میر قاسم جو سراج الدولہ کو دریا کنارے سے گرفتار کر کے لائے تھے۔میر قاسم سے تفصیلی ملاقات کے بعد کمپنی سرکار نے میر جعفر کو ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ لیکن کمپنی نے میر قاسم سے پہلے ہی اس طرح کے عہدوپیماں لئے جس طرح میر جعفر سے لئے تھے۔ یعنی میر قاسم نے میر جعفر کے خلاف سازش کیلئے انگریزوں کو بھاری رقم دینے کی حامی بھر لی۔

اس میں گورنر ہنری کو پچاس ہزار جبکہ ان کی کونسل کو ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ دینے کا وعدہ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سازش میں بھی ایک بار پھر بنگال کے تاجر جگت سیٹھ ہی اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ پہلے انہوں نے سراج الدولہکو ہٹانے کیلئے میر جعفر پر سرمایہ کاری کی تھی اور اب وہ میر جعفر کو ہٹانے کیلئے میر قاسم پر پیسہ لگا رہے تھے۔

دس جولائی سترہ سو اکسٹھ، سیونٹین سکسٹی ون کو مرشد آباد میں بنگالی فوج نے میر جعفر کے محل کو گھیر لیا۔ فوجی محل کی دیواروں پر چڑھ گئے اور محل کو پانی کی سپلائی بھی بند کر دی۔ اب میر قاسم محل کے اندر گئے اور نواب میر جعفر کو بتایا کہ آپ کی زندگی خطرے میں ہے آپ کچھ عرصے کیلئے شہر سے نکل جائیں۔

یوں میر قاسم، میر جعفر کو سمجھا بجھا کر محل سے باہر نکالا اور ایک کشتی میں بٹھا کر کلکتہ کی طرف روانہ کر دیا۔ اس کے بعد وہ محل میں داخل ہوئے اور خود تخت پر بیٹھ گئے۔ یوں خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر میر قاسم اقتدار پر قابض ہو چکے تھے اور میرجعفر کا مختصر دورِ حکومت ختم ہو چکا تھا۔

میر جعفر کو کلکتہ پہنچنے تک یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کے ساتھ کھیل کھیلا جا چکا ہے اور تخت و تاج ان کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل گیا ہےلیکن ظاہر ہے اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ وہ خاموشی سے کلکتہ چلے گئے۔ یہاں انگریزوں نے انہیں ریسیو کیا اور ایک حویلی میں نظر بند کر دیا۔

یوں میر جعفر کو مکھن سے بال کی طرح نکال دیا گیا اور انگریزوں کی آشیر باد سے میر قاسم کو حکومت مل چکی تھی۔ اب کمپنی سرکار اور بنگال کے عوام دونوں نے تمام تر امیدیں نئے نواب میر قاسم سے وابستہ کر لیں تھیں اور شروع کا کچھ عرصہ وہ ان سب امیدوں پر پورا بھی اترے۔ لیکن ہوا یہ کہ میر قاسم نے جیسے ہی بنگال کے معاشی حالات درست کیے انھیں انگریز اور جگت سیٹھ کھٹکنے لگے۔

سو انھوں نے انگریزوں اور جگت سیٹھ سے بغاوت کر دی۔ انھوں نے جگت سیٹھ کی دولت چھین کر ان کے خاندان کے ایک ایک بڑے کو قتل کروا دیا۔ انھوں نے انگریزوں کے خلاف بھی جنگ شروع کر دی۔ نواب میر قاسم نے اپنا دارالحکومت بھی مرشد آباد سے پٹنہ منتقل کر دیا تھا۔ سترہ سو تریسٹھ کی ایک لڑائی میں انھوں نے پٹنہ میں موجود انگریز فوج کو شکست دیاور ان کے فوجیوں کو گرفتار کر لیا،

جنھیں ایک روایت کے مطابق بعد میں مار بھی دیا گیا تھا۔ لیکن اس دوران انگریزوں نے یہ کیا کہ کلکتہ کے قلعے میں بند بوڑھے میر جعفر کو مرشد آباد کے خالی تخت پر لا کر ایک بار پھر نواب بنا دیا۔ لیکن دوستو نواب میر جعفر کا اس وقت بہت برا حال تھا۔ افیون کی لت نے انھیں کسی قابل نہیں چھوڑا تھا۔

وہ بمشکل تمام ہی کار سرکار انجام دے سکتے تھے۔ لیکن انگریزوں کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کیونکہ کار سرکار تو انھوں نے چلانے تھے انھیں نواب صرف ایک نمائشی حثیت میں چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments