HomeHistoryThe End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part...

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 1

83 / 100

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 1

The End of Mir Jafar | میر جعفر کا انجام | Part 1

بنگال کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا جا رہا تھا۔ سراج الدولہ قتل ہو چکے تھےاور ان کی جگہ بنگال کے تخت پرمیر جعفر کو بیٹھایا جا چکا تھا۔ ان کی حکومت سے کمپنی سرکار اور خوشامدی درباریوں دونوں کو بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ یہ لوگ ہر جگہ نواب میر جعفر کے قصیدے پڑھتے تھے اور بنگال کی ہر خرابی کا ملبہ پرانی حکومت پر یعنی نواب سراج الدولہ پرڈال دیتے تھے۔

لیکن جس میر جعفر کو انگریز اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے اقتدار تک لائے تھے وہ حیران کن حد تک نااہل ثابت ہوئے۔ صرف تین برس میں ہی انھوں نے بنگال کی اکانومی کو اس بری طرح برباد کیا کہ انہیں لانے والی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے انتخاب پر پچھتانے لگی۔

میر جعفر کے بارے میں ان کے سب سے بڑے سپورٹر کرنل کلائیو اپنے خطوط میں اب لکھنے لگے تھے کہ جس شخص کو ہم نے تخت پر بٹھایا ہے وہ مغرور، لالچی اور بات بات پر گالی دینے والاثابت ہورہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اب ایسٹ انڈیا کمپنی اور کرنل کلائیو نے میر جعفر کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ متبادل کون تھا؟

سراج الدولہ کو انگریزوں کے سامنے ترنوالہ بنا کر پیش کرنے والے میر قاسم کا انجام کیا ہوا؟ لارڈ کلائیو سے وقت نے کیا سلوک کیا؟ اور میر جعفر کے ساتھ کیا بیتی؟میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی منی سیریز سراج الدولہ اور میر جعفر کی کہانی کی آخری قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گےدوستو میر جعفر نے سراج الدولہ کے خلاف سازش کر کے اقتدار تو حاصل کر لیا تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ اس کے اہل ہرگز نہیں تھے۔

ان کے دور میں بنگال کے فوجیوں کو دس، دس ماہ تک تنخواہیں نہیں ملتی تھیں۔ فوجی جوان اور ان کے گھوڑے ہڈیوں کے ڈھانچےبنتے جا رہے تھے۔ حتیٰ کہ فوجی افسروں کی نئی وردیاں لانے کے لیے بھی بجٹ نہیں تھا اس لیے فوجی پرانی پیوند لگی وردیاں ہی پہن رہے تھے۔

بنگال جو سراج الدولہ کے دور میں ہندوستان کا امیر ترین صوبہ تھا وہ صرف تین سال میں ہی غریب ترین صوبہ بن چکا تھا۔ حالت یہ ہو گئی تھی کہ مرشد آباد میں بھی لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہو چکے تھے اور اس وجہ سے کتنے سفید پوش، سفید پوشی کا بھرم کھو چکے تھے، کوئی نہیں جانتا تھا۔ میر جعفر کے اس حد تک ناکامہونے کی ایک وجہ ان میں افیون لینے کی عادت بھی تھی۔

پھر انھیں ہیرے جواہرات جمع کرنے کا بھی بہت شوق تھا بلکہ وہ اپنا قیمتی وقت خواتین کا رقص دیکھنے میں گزارتے اور کار سرکار ان کا منہ دیکھتے رہتے۔ عام آدمی کے مسائل سے ان کی دلچسپی بہت واجبی اور سطحی سی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کو اقتدار میں لانے والے انگریز، نواب میر جعفر اور ان کے بیٹےمیر میرن سے تنگ آ چکے تھے۔

لارڈ کلائیو نے بھی میر جعفر کو دی اولڈ فول اور ان کے بیٹے میرن کو دا ورتھ لیس ینگ ڈاگ کہنا شروع کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ ان کے ایک درباری نے میر جعفر کو طنزاً کلائیو کا گدھا قرار دیا اور عوام میں اس نام کو بہت شہرت ملی۔ ایک طرف تو میر جعفر کی نااہلی سے بنگال تباہ ہو رہا تھا تو دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کے کارندے بھی بنگال کا سنہرا سونا دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔

انگریزوں نے بنگال کو ہر طرح کا ٹیکسدینا بند کر دیا تھا، ایک چھوڑ چار سو نئے ٹریڈ سنٹرزانہوں نے قائم کر لیے تھے۔ وہ بنگال کی ساری امپورٹ ایکسپورٹ پر قبضہ جما کر بیٹھ گئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بنگال کے مقامی لوگوں کی ایک فوج بیروزگار ہو چکی تھی اور ٹیکس نہ ملنے سے شاہی خزانے میں دھول اڑنے لگی تھی۔

میر جعفر کشکول ہاتھ میں لیے کبھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے در پر جاتے تو کبھی اپنے امیرترین مقامی مددگار جگت سیٹھ کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ لیکن دوستو نااہلی، ناکامی لاتی ہے اور آپ جانتے ہیں ناکامی یتیم ہوتی ہے۔ کوئی اسے اون کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ یہی میر جعفر کے ساتھ اب ہو رہا تھا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی انہیں قرض دینے پر تیار تھی اور نہ ہی جگت سیٹھ ان کے لیے اپنی تجوری کھول رہے تھے۔ بلکہ جگت سیٹھ نے تو انھیں ملنے تک ے انکار کر دیا تھا۔ میر جعفر کے بار بار کے تقاضوں سے پریشان ہو کر جگت سیٹھ کسی نامعلوم مقام پر روپوش ہو چکے تھے۔دوستو جب ریاستوں کیایسی صورتحال ہوتی ہے تو بغاوتیں سر اٹھانے لگتی ہیں۔

میر جعفر ان بغاوتوں کو کچلنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے کیونکہ وہ تو اپنی فوج کو تنخواہیں تک نہیں دے پا رہے تھے۔ ایسے میں بنگال کے علاقوں مدنا پور، پورنیا اور پٹنہ کے گورنرز نے میر جعفر کو حکمران ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر یہی نہیں دہلی سے مغل فوج نے میر جعفر پر حملہ کر دیا۔

مائی کیوریس فیلوز آپ جانتے ہیں کہ جس دور کی ہم بات کر رہے ہیں یعنی سترہ سو ستاون، سیونٹین ففٹی سیون کے بعد کی، اس دور میں مغل ایمپائر زوال کا شکار تھی۔ ہندوستان کے زیادہ تر علاقے مغل شہنشاہوں کے کنٹرول سے باہر نکل چکے تھے اور مغل حکمرانوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ ان علاقوں کو واپس لے سکیں۔

نواب سراج الدولہ کے نانا علی وردی نے بھی مغلوں کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر بنگال کو مغل کنٹرول سے آزاد کروا لیا تھا۔ لیکن میر جعفر نے بنگال کو اتنا کمزور کر دیا تھا کہ دہلی کے ناتواں حکمران بھی اسے ترنوالہ سمجھنے لگے تھے۔ سترہ سو انسٹھ، سیونٹین ففٹی نائن میں سلطنتِ دہلی کے ولی عہد شاہ عالم ثانی نے بنگال پر حملہ کر دیا۔

بنگال کی حدود میں داخل ہوتے وقت شاہ عالم نے اعلان کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان کے سب سے امیر صوبے بنگال کو دوبارہ مغل سلطنت کا حصہ بنایا جائے۔ جب میر جعفر کو مغلوں کے اس حملے کا علم ہوا تو وہ حواس باختہ ہو گئے۔ انہیں معلوم تھا کہ ان کی فوج اس حد تک کمزور ہو چکی ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی حملہ آور کا مقابلہ اب نہیں کر سکتی۔

چنانچہ انہوں نے مغلوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے پھر انگریزوں سے مدد مانگی۔ لیکن انگریزوں کی مدد سے پہلے ہی مغل فوج بنگال میں داخل ہو چکی تھی۔ ایک موقع پر مغل فوج پٹنہ پر قبضہ کرنے کے بہت قریب پہنچ گئی تھی لیکن شاہ عالم ثانی نے ارادہ بدل دیا اور بنگال کے دارالحکومت مرشد آباد کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments