HomeHistoryStory of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 3

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 3

82 / 100

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 3

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 3

سیاسی عدم استحکام اس لیے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت حالات کی وجہ سے ملک سے باہر رہنے پر مجبور تھی۔ جنرل مشرف کے ہاتھوں کی بنی مسلم لیگ ق، جس کی قیادت چوہدری شجاعت حسین کر رہے تھےوہ اپنے مذہبی ووٹ بنک کی وجہ سے کسی فوجی آپریشن کی حمایت سے کترا رہی تھی۔

مذہبی جماعتیں جیسا کہ جے یو آئی فضل الرحمان گروپ اور جماعت اسلامی پاکستان جس کے سربراہ قاضی حسین احمد تھے اس آپریشن کے ساتھ نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ تحریک انصاف کے عمران خان جن کی تنظیم ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں تھی، وہ بھی قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے خلاف تھے۔ تو دوستو یہی سب دیکھتے ہوئے آخر جنرل مشرف کو ایک ناپسندیدہ فیصلہ کرنا پڑا۔

انھوں نے پولیٹیکل یجنٹ کے ذریعے وزیرستان کے جنگجوؤں سے ایک امن معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے گواہ اور ضامن قبائلی عمائدین اور مقامی جرگہ تھا۔ آٹھ صفحات پر مشتمل یہ معاہدہ میران شاہ ایگریمنٹ یا وزیرستان معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چار صفحات پر معاہدے کی شرائط تھیں اور باقی چار صفحات پر فریقین کے دستخط تھے۔

سکرین پر آپ اسی میران شاہ معاہدے کی اصل کاپی دیکھ رہے ہیں۔ اس معاہدے کے مطابق وزیرستان سے تمام غیر ملکی جنگجوؤں کو نکالا جائے گا اور کوئی باامرمجبوری واپس نہیں جا سکتا تو اس کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔ دوسری طرف آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے تمام افراد کو رہا کر دیا جائے گا اور ان کا اسلحہ بھی واپس کر دیا جائے گا۔

پھر مزید یہ بھی طے پایا کہ ان رہا کیے گئے لوگوں پر آج سےپہلے کے کسی واقعے پر دوبارہ مقدمہ نہیں بنایا جائے گا۔ معاہدے میں لکھا گیا کہ پاکستانی فورسز ملٹری آپریشن بند کر دیں گی اور وزیرستان میں امن و امان سمیت تمام جھگڑے وہاں کی روایات کے مطابق حل کیے جائیں گے۔

دوستو جب یہ معاہدہ طے پا رہا تھا تو سیکیورٹی ادارے اور جنگجو دونوں یہ بات جان رہے تھے کہ یہ ایک عارضی معاہدہ ہے جس میں دونوں فریقین کو فی الحال کچھوقت مل جائے گا۔ چنانچہ اس وقت سے جنگجوؤں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ میران شاہ ایگریمنٹ کے باوجود نہ تو غیر ملکی جنگجو واپس گئےاور نہ ہی اُن لوگوں کی رجسٹریشن ہو سکی جو وجہ تنازعہ تھے۔

بلکہ اس کے الٹ یہ ہوا کہ القاعدہ اور ازبکستان کی جہادی تنظیم تحریک اسلامی ازبکستان نے تیزی سے بھرتیاں شروع کر دیں۔ ان کی آواز پر پاکستان کی بہت سی کالعدم تنظیموں کے کارکنوں نے لبیک کہا۔ حرکت جہاد اسلامی کے قائد الیاس کشمیری، جو کشمیر میں جہادی سرگرمیوں کے لیے وقف تھے، انھوں نے بھی افغانستان میں القاعدہ سے ہاتھ ملا لیا۔

وہ دوہزار سات کے قریب القاعدہ شوریٰ کے ممبر بھی بن گئے۔ اسی معاہدے کے درمیانی وقفے میں القاعدہ، تحریک طالبان اور ازبکستان اسلامک موومنٹ نے وزیرستان میں اپنے ٹریننگ کیمپس بنا لیے۔ وہ خود کو لمبی لڑائی کے لیے تیار کرنے لگے تھے۔

انھوں نے بمباری سے بچنے کے لیے پہاڑوں میں گہری، لمبی اور مضبوط سرنگیں بنانا شروع کر دیں تھیں اور وہاں زیادہ سے زیادہ اسلحہ جمع کرنے لگے تھے۔ خود کش بمبار بچوں کو تربیت دینے اور جذباتی کرنے کے لیے خوبصورت مناظر کے پوسٹرز اور خواتین کی تصاویر والے کمرے بھی تیار کر لیے گئے تھے۔

یہ الگ بات ہے کہ ان خواتین میں اکثر بھارتی اداکاراؤں کی تصاویر تھیں۔پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز اور سی آئی اے مسلسل صدر جنرل مشرف کو بتا رہی تھیں کہ معاملات بگڑ رہے ہیں فوری کچھ کرنا ہو گا۔ کیونکہ روز بروز جنگجوؤں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ دوہزار سات تک جنوبی اور شمالی وزیرستان میں پچاس ہزار سے زائد جنگجو جمع ہو چکے تھے۔

فاٹا کا یہ علاقہ، علاقہ غیر بن چکا تھا اور پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود یہاں پاکستانی ریاست کی رٹ ختم ہو چکی تھی۔ تحریک طالبان پاکستان کے بانی کمانڈربیت اللہ محسود نے اس علاقے کو امارات اسلامی وزیرستان کا نام دے کر اپنی اسلامی ریاست قائم کر لی تھی۔ کہا جاتا ہے کہالقاعدہ نے انھیں کئی ملین ڈالرز بطور قرض دئیے تھے۔

لقاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن، ان کے نائب ایمن الظواہری اور تحریک اسلامی ازبکستان کے سربراہ قاری طاہر بھی وزیرستان ہی میں تھے۔امریکہ اور پاکستانی انٹیلی جنس ان کے خلاف آپریشن چاہتی تھی تاکہ یہ لوگ پاکستان میں اپنے ایجنڈے پر عمل نہ کر سکیں۔

اسی لیے سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے حکومت پاکستان کو القاعدہ کے ان تمام ایسٹس کی تفصیلات فراہم کیں جو پاکستان میں موجود تھے۔ اب یہ ایسٹس کیا تھے؟غازی برادران سے مصری القاعدہ رکن شیخ عیسیٰ نے کیا مطالبہ کیا القائدہ کے رکن نے قاضی حسین احمد ڈاکٹر اسرار احمد اور حافظ سعید سے ملاقاتیں کیوں کی؟

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments