HomeHistoryStory of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 2

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 2

83 / 100

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 2

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 2

اسامہ بن لادن سے ملاقات کے بعد جب وہ واپس آنے لگے تو مولانا عبداللہ کے بیٹے عبدالرشیدغازی نے اسامہ بن لادن کا گلاس میں باقی چھوڑا ہوا باقی پانی پینا شروع کر دیا۔ اسامہ بن لادن نے پوچھا کہ ’’آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟‘‘غازی عبدالرشید نے جواب دیا کہ میں بھی آپ جیسا مجاہد بننا چاہتا ہوں۔‘‘

ایسا کہا جاتا ہے کہ اس اہم ملاقات میں اسامہ بن لادن نے مولانا عبداللہ غازی کو کوئی خاص پیغام بھی دیا تھا جو انھوں نے اپنے خطبہ جمعہ میں نمازیوں تک یا کسی اور تک پہنچانا تھا۔ بہرحال دوستو وہ واپس آئے اور اپنے معمول کے کاموں میں مشغول ہو گئے۔

ایک دن وہ لال مسجد سے منسلک درس گاہ جامعہ فریدیہ سے گھر لوٹ رہے تھے کہ دروازے پر انھیں ایک نوجوان نے روکا۔ اس نے سلام کیا، ہاتھ ملایا اور پھر ریوالور نکال کر کئی گولیاں ان کے سینے میں اتار دیں۔ یہ منظر ان کی بہو، مولانا عبدالعزیز کی بیوی ام حسان دیکھ رہی تھیں۔ انھوں نے جوڈیشل کمیشن کو بعد میں بتایا کہ وہ مارنے والے کے پیچھے بھاگیں تھیں لیکن وہ ایک سفید کار میں فرار ہو گیا۔

ام حسان کے بیان کے مطابق انھیں اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ اسامہ بن لادن سے ملاقات میں کچھ پیغامات لے کر آئے تھے جنھیں پاکستانی خفیہ اداروں نے خفیہ رکھنے کے لیےکہا تھا۔ لیکن مولانا غازی نے اسامہ بن لادن کے پیغام کو لال مسجد میں دوران خطبہ جمعہ لوگوں کے سامنے آشکار کردیا۔

ان کی بہو کا الزام ہے کہ مولانا غازی کے قتل کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کرنے دی گئیجبکہ ان کے بیٹے مولانا عبدالرشید کو بھی ایجنسیز نے اٹھا لیا تھا۔ اس کے مقابلے میں دوسری طرف پاکستان میں یہ رائے عام تھی کہ انھیں کسی شیعہ ملی ٹینٹ گروہ نے قتل کروایا ہے کیونکہ مولانا عبداللہ اپنی تقریروں میں شعیہ علامہ کے خیالات پر سخت تنقید کرتے تھے۔

دوستو یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسی اور نوے کی دہائی میں پاکستان، سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ ہزاروں پاکستانی فرقہ وارانہ فسادات میں ایک دوسرے کے ہاتھوں اپنی قیمتی جانیں گنوا رہے تھے اور اس آگ کو ایک طرف سے سعودی عرب اور دوسری طرف سے ایران ہوا دیتا تھا۔

تو دوستو مولانا عبداللہ غازی چونکہ سعودی کیمپ میں تصور کیے جاتے تھے تو ان کے قتل کو بھی اس تناظر میں کچھ لوگوں نے دیکھا۔ ہاں یہ حقیقت اس کے علاوہ ہے کہ اس جرم کی تفتیش کبھی منطقی انجام تک نہیں پہنچی، کسی کو ان کے قتل کے الزام میں سزا نہیں ہوئی۔ بہرحال مولانا عبداللہ غازی کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان کے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے خطیب بنے۔

جبکہ ان کے چھوٹے بیٹے مولانا عبدالرشید جو ان کے ساتھ قندھار بھ گئے تھے وہ مسجد اور مدرسے کے معاملات سے دور رہتے تھے انہوں نے بھی یونیسکو کی ملازمت چھوڑ کر اپنے بھائی مولانا عبدالعزیز کے ساتھمدرسے کا انتظام سنبھال لیا۔ مرحوم سلیم شہزاد کے مطابق وہ یعنی غازی برادران کشمیر جہاد کے لیےلال مسجد سےنوجوان بھی فراہم کیا کرتے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ نائن الیون کا واقع ہو گیا۔ نائن الیوان کے بعد لال مسجد اور اسٹبلشمنٹ کے شدید اختلافات شروع ہوئے اور یہی سے کہانی بگڑنا شروع ہوئی۔ سات اکتوبر دوہزار ایک کو امریکہ نے طالبان کے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کو آپریشن انڈیورنس فریڈم اور اس جنگ کو وار اگینسٹ ٹیرر کا نام دیا گیا۔

جنرل مشرف کی قیادت میں پاکستان اس سو کالڈ وار اگینسٹ ٹیرر میں فرنٹ لائن اتحادی بن گیا۔ اب لال مسجد کو یہ بات کسی طرح قبول نہیں تھی۔ وجہ یہ تھی کہ جن لوگوں کے خلاف جنگ میںپاکستان امریکہ کا اتحادی بن رہا تھا وہ تو سارے کے سارے لال مسجد سے منسلک لوگ تھے۔ پچھلے بیس سال میں وہ لال مسجد کے مہمان یا میزبان بنتے رہے تھے۔

ان سب کے لیے یہیں سے لال مسجد ہی سے تو جہادیوں کی تازہ بھرتیاں ہوا کرتیتھیں اور ان دنوں تو یہ سب امریکی تعاون سے ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید، اسٹیبلشمنٹ کے اس پالیسی کے سخت ترین مخالف ثابت ہوئے۔

شروع میں تو انھوں نے تحفظ افغانستان کے نام سے ایک تحریک کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا لیکن اصل مسئلہ ہوا جنوبی وزیرستان کے سب سے بڑے علاقے وانا میں آپریشن کے وقت۔ آپ جانتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی حملے کے بعد وہاں سے بڑی تعداد میں القاعدہ اور طالبان رہنما پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آ گئے تھے۔

پاکستان نے ان کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو پاکستان میں بھی بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ صدر جنرل مشرف پر بھی دو بار خودکش حملے ہوئے۔ وہ تو بچ گئے لیکن ان حملوں میں بہت سی قیمتی جانیں چلی گئیں تھیں۔ ایسے میں پاکستان پر القاعدہ اور طالبان کے خلاف آپریشن کا دباؤ بھی عالمی سطح پر بہت زیادہ تھا۔

سو پاک فوج نے دوہزار چار میں جنوبی وزیرستانکے سب سے بڑے علاقے وانا میں آپریشن شروع کر دیا۔یہ آپریشن لال مسجد اور اسٹیبلشمنٹ کا بریکنگ پوائنٹ تھا۔ اس پوائنٹ کو القاعدہ نے ایک ترپ کے پتے کے طور پر سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ سو اسامہ بن لادن نے اب اسے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور القاعدہ کے ایک اہم رہنما کے ذریعے لال مسجد کے منتظم مولانا عبدالعزیز کو ایک اہم پیغام بھیجا۔

یہ پیغام کیا تھا؟القاعدہ کا پیغام مولانا عبدالعزیز کو مسجد میں ملا۔ اس پیغام میں اسامہ بن لادن کی طرف سے مولانا عبدالعزیز سے کہا گیا تھا کہ وہ پاک فوج کے وانا آپریشن کے خلاف فتویٰ دیں۔ دوستو مولانا عبدالعزیز نے یہ فتویٰ دیا۔ اس فتوے میں انھوں نے کہا کہ طالبان اور القاعدہ کے خلاف لڑتے ہوئے مارے جانے والے پاک فوج کے جوانوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ کیا جائے۔

فتوے میں لکھا گیا کہ ایسے فوجیوں کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائی جانی چاہیے اور انھیں شہید کے بجائے ہلاک لکھا جانا چاہیے۔ اس فتوے کو پاکستان بھر میں پھیلایا گیا اور پانچ سو دیگر علما سے بھی اس پر دستخط لیے گئے۔یہ فتویٰ دوستو ریاست کے خلاف کھلم کھلا بغاوت تھی۔

القاعدہ اس فتوے کے ذریعے یہ چاہتی تھی کہ پاکستانی فوج کے مذہبی جذبات کو اپنے حق میں جتنا ہو سکے استعمال کیا جائے تا کہ سیکیورٹی ادارے ان کے خلاف پوری طاقت سے آپریشن نہ کر سکیں۔س فتوے نے القاعدہ کی توقعات کے عین مطابق کام کیا۔

مرحوم صحافی سلیم شہزاد کے مطابق سیکیورٹی اداروں کے بہت سے لوئر رینک کے لوگ نان کمیشنڈ آفیسرز نے اپنے افسران کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور بہت سوں نے ملازمت سے ہی استعفے دے دئیے۔

اچھی خاصی تعداد ان کی بھی تھی جنھیں فوج نے ان کا رجحان دیکھتے ہوئے خود ٹرانسفر کر دیا یا ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے ان کے خلاف مختلف ایکشنز لیے۔ اس سب کے باوجود یہ ایک حقیقت تھی کہ پاکستانی ریاست دہشتگردوں، ان کے حمایتیوں اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سخت فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments