HomeHistoryStory of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 1

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 1

83 / 100

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 1

Story of Lal Masjid | لال مسجد کی کہانی | Part 1

پاک افغان سرحد اور خصوصاً وزیرستان کا علاقہ دوہزار ایک کے بعد القاعدہ اور اس سے منسلک تنظیموں کا گڑھ بن چکا تھا۔ اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الظواہری بھی دوہزار تین سے چار کے درمیان یہیں پناہ گزین تھے۔ اسی سال القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاک فوج نے وزیرستان میں پہلا ملٹری آپریشن شروع کیا تو القاعدہ کے ٹریننگ کیمپس تباہ ہونے لگے۔

اس کے جواب میں القاعدہ نے پاکستان کے لیے ایک خطرناک پلان بنایا۔اس پلان پر عمل درآمد کے لیے ایک ایسے مذہبی سکالر کو چنا گیا جو مصری صدر انورالسادات کا تختہ الٹنے میں ملوث رہے تھے اور یہی ان کے قتل میں معاونت کے الزام میں گرفتار بھی رہ چکے تھے۔ یہ شیخ عیسیٰ المصری تھے۔

یہ اسی کی دہائی میں سویت روس کے خلاف جہاد میں افغانستان میں اسامہ بن لادن کے ساتھی رہے تھے۔ اس کے بعد انیس سو نوے میں وہ یمن میں بھی مذہبی تعلیم دیتے رہے تھے۔ افغان جہاد کے بعد انھوں نے اسامہ بن لادن کی کافی قربت حاصل کر لی تھی اور القاعدہ کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی بن گئے تھے۔ دوہزار تین میں القاعدہ نے انھیں پاکستان میں لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھیں ایک ماسٹر پلان پر پاکستان کے اندر عمل کروانا تھا۔ یہ ماسٹر پلان کیا تھا؟لال مسجد کا اس سارے پلان سے کیا تعلق تھا؟میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی ہسٹری آف پاکستان سیریز کی اس قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے. فیصل مسجد کے قیام سے بیس سال پہلے صدر جنرل ایوب خان کے حکم پر اسلام آباد کے بیچوں بیچ ایک مسجد تعمیر کروائیگئی۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہو رہا تھا۔ اور اس کے لیے اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر کام جاری تھا۔ جہاں آج پارلیمنٹ ہے اس کے اور لال مسجد جہاں آج ہے ان کے درمیان کوئی عمارت نہیں تھی۔ اس ابتدائی سٹرکچر کے ارد گرد دور دور تک جھنڈ تھے یا جھاڑیاں تھیں اور ان کے پیچھے مارگلہ کی سبز چوٹیاں پہرے داروں کی طرح کھڑی تھیں۔

اس مسجد میں امامت کے لیے جنرل ایوب خان نے کراچی کی تاریخی دینی درس گاہ جامعہ بنوریہ کے علامہ یوسف بنوری صاحب سے تعاون مانگا۔ علامہ یوسف بنوری نے پنجاب کے ضلع راجن پور کی تحصیل رجھان کے ایک مولانا عبداللہ غازی کی خدمات جنرل ایوب کے حوالے کر دیں۔

مولانا عبداللہ غازی، مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود کے شاگرد تھے۔ سو ہوا یہ کہ انیس سو پینسٹھ میں لال مسجد کا انتظام اور امامت مولانا عبداللہ غازی کے سپرد کر دی گئی۔ شروع میں اس کا رقبہ اس سے کم تھا جتناآج ہے یعنی زیادہ نہیں تھا۔

تاہم اس کی اہمیت یہ تھی کہ اسلام آباد کے تقریباً تمام سیاسی لیڈرزفوجی افسران، گریڈ ایک سے بائیس تک کے افسران ان کے اہل خانہ سب یہیں نماز ادا کرنے کے لیے آتے تھے۔ یہیں نماز جمعہ کا خطبہ سنتے تھے اور اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کے لیے یہیں بھیجا کرتے تھے۔

اب یہی وہ وجہ تھی کہ یہاں آنے والے زیادہ تر افسر اور ان کے اہل خانہ کا تعلق لال مسجد اور اس کے خطیب مولانا عبداللہ غازی سے بنتا چلا گیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے ان کااثرورسوخ اور طاقت بڑھنا شروع ہوئی۔ لال مسجد کو طاقتور بنانے میں دوسری اہم وجہ اس کا آج کا جغرافیہ ہے۔

آج جی سکس میں جہاں لال مسجد قائم ہے اس کے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ادارے، آئی ایس آئی کا ہیڈکوارٹر ہے تین کلومیٹر سے کم فاصلے پر پارلیمنٹ اور اس سے بھی کم فاصلے پر وزارت خارجہ اور فارن افیئر کے دیگر دفاتر ہیں۔ دنیا بھر کی ایمبسیز یعنی سفارت خانے بھی اسی جگہ کے ساتھ ہی قائم ہیں۔

یہ لوکیشن بھی دوستو لال مسجد کو بہت اہمیت کی حامل بنا دیتی ہے۔ فیصل مسجد، لال مسجد کے بیس سال بعد انیس سو چھیاسی میں مکمل ہوئی تھیاس سے بہت بڑی تھی، لیکن سیاسی اثرورسوخ میں فیصل مسجد آج بھی لال مسجد کا مقابلہ نہیں کرتی۔تو دوستو کہا جاتا ہے کہ لال مسجد کے اس اثرورسوخ اور لوکیشن کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ہر دور میں خوب استعمال کیا۔

جب وزیراعظم بھٹو کے خلاف ستتر میں، سیونٹی سیون میں تحریک چلی، جسے تحریک نظام مصطفیٰ کا نام دیا گیا تھا اس میں بھی لال مسجد کے مدارس اور مولانا عبداللہ غازی پیش پیش تھے۔ یقیناً آپ جانتے ہوں گے کہ اس تحریک کے نتیجے میں نظام مصفطیٰ تو نہیں آیا تھا لیکن جنرل ضیا الحق کامارشل لا آ گیا تھا۔

پھر جب جنرل ضیاالحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو انھوں نے جن لوگوں کو اپنا دست و بازو بنایا لال مسجد کے مولانا عبداللہ غازی ان کی صف اول میں شامل تھے۔ انھی ماہ و سال میں جنرل ضیاالحق نے انھیں فنڈز فراہم کیے اور مسجد کو وہ توسیع دی گئی جو آج آپ دیکھتے ہیں۔

البتہ مسجد کے بالکل ساتھ خواتین کی درسگاہ جامعہ حفصہ اور چند کلومیٹر پر ای سیون میں لڑکوں کے لیے جامعہ فریدیہ کی عمارتیں ستر کی دہائی میں بن چکی تھیں، لیکن ضیاالحق کے دور میں انھیں مزید اپ گریڈ کیا گیا۔ پھر دوستو یہی نہیں جنرل ضیا الحق نے مولانا عبداللہ غازی کو رویت ہلال کمیٹی کا چیرمین بھی بنا دیا۔ یہ عہدہ پاکستان میں مذہبی کے ساتھ ساتھ سیاسی طاقت کا حامل بھی تصور کیا جاتا ہے۔

اس سے آگے بڑھ کر یہ ہوا کہ حالات نے لال مسجد کو افغانستان میں سوویت روس کے خلاف چلنے والے جہاد میں ایک لانچنگ پیڈ کی حیثیت دے دی۔ اب یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ سویت روس کے خلاف افغان جہاد امریکہ اور سعودی عرب کے دس ارب ڈالرز کی مدد سے لڑا گیا تھا۔

اس جنگ میں دنیا بھر سے مسلم نوجوانوں کو اسلام کے نام پر جذباتی کر کے سوویت روس کے خلاف افغانستان لایا جاتا تھا۔ لیکن افغانستان لے جانے سے پہلے انھیں پشاور کے یونیورسٹی ٹاؤن کی طرح اسلام آباد کی لال مسجد میں بھی ٹھہرایا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان جہاد کے نو سالوں میں لال مسجد کے رابطے دنیا بھر کے جہادی نیٹ ورکس سےبن چکے تھے۔

اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سمیت افغان مجاہدین اور پھر بعد میں طالبان کے رہنماؤں کا بھی لال مسجد آنا جانا معمول کی بات تھی۔دوستو مولانا عبداللہ غازی کردار کے بھی غازی تھے۔ وہ خود بھی جہاد کرنے افغانستان گئے اور سوویت روس کے خلاف مجاہدین کے ساتھ مل کر لڑے۔ اسامہ بن لادن سے قریبی تعلق ہونے کے کے باعث وہ سوویت افغان جنگ کے بعد بھی افغانستان کا سفر کرتے رہے۔

ایسا ہی ایک سفر انھوں نے اکتوبر انیس سو اٹھانوے، نائنٹین نائٹی ایٹ میں کیا۔وہ اپنے بیٹے عبدالرشید کے ساتھ بلوچستان سے منسلک افغان صوبے قندھار گئے۔ یہاں انھوں نے القاعدہ اور طالبان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments