HomeHistoryLast moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات...

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 3

83 / 100

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 3

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 3

سو کسی محفوظ جگہ پر جا کر تحریک کی کمان سنبھالنے کا عزم لیے مولانا عبدالعزیز نے فرار ہونے کا ایک پروگرام بنایا۔ایسا تھا کہ چار جولائی دوہزار سات کی رات جو طالبات سرنڈر کر کے جامعہ حفصہ مدرسے سے باہر آ رہی تھیں اور انھیں ان کے والدین لینے کے لیےآئے ہوئے تھے، ان خواتین میں ان طالبات میں ایک لمبے قد کی عورت بھی جا رہی تھی۔

اس سر سے پاؤں تک سیاہ برقعے میں ملبوس خاتون پر ایک پولیس اہلکار کو شک گزرا۔ اس اہلکار نے جب ایک خاتون کی مدد سے بلند قامت خاتون کا برقعہ الٹ کر دیکھا تو یہ مولانا عبدالعزیز غازی تھے جو عورت کے بھیس میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھیں دیکھتے ہی فوری طور پر سیکیورٹی اداروں نے گرفتارکیا اور اپنی تحویل میں لے لیا۔

اگلے دن انھیں ٹی وی پر پیش کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اسلام میں بھیس بدل کر فرار ہونے کی اجازت ہے اور جو کچھ انھوں نے کیا وہ جہاد سمجھ کر کیا وہ اس پر شرمندہ ہرگز نہیں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ طالبات کو ان کی بیوی جو کہ مدرسے کی پرنسپل بھی تھیںوہ باہر جانے سے روک رہیں تھی اور طالبات سے پیار سے کہتی تھیں کہ یہ قربانی کا وقت ہے یہ جہاد کا وقت ہے،

آپ جائیں نہیں بلکہ رکیں۔دوستو تحریک کے سربراہ عبدالعزیز کی برقعے میں گرفتاری نے القاعدہ اور لال مسجد کے اندر موجود جنگجوؤں کے مورال کو بہت نقصان پہنچایا۔ پھر انھیں جس طرح پی ٹی وی پر دوبارہ برقعے میں پیش کیا گیا اس سے ہزیمت اور بھی زیادہ ہوئی۔

عبدالعزیز کی گرفتاری کے بعد اب مسجد کے اندر ان کے بھائی عبدالرشید جنگجوؤں اور طلبہ کی ترجمانی اور قیادت کر رہے تھے۔ پورے ملک سے علما کرام انھیں پیغامات بھیجتے رہے کہ وہ غیر مشروط سرنڈر کر دیں انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا، وہ انھیں بچا لیں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ مولانا عبدالرشید کو اس موقعے پر وزیرستان سے تحریک اسلامی ازبکستان کے لیڈر قاری طاہر نے ذاتی طور پر فون کیا۔

انھوں نے غازی عبدالرشید کو کہا کہ آپ کو آخری گولی تک مقابلہ کرنا ہے۔ اگر آپ نے اب ہتھیار ڈال دئیے تو اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ عبدالرشید غازی نے اسی مشورے کے مطابق عمل کیا۔دوسری رات کو پھر آپریشن ہوا ستائیس طلبا کی جانیں چلی گئیں درجنوں نے غیر مشروط سرنڈر کیا لیکن ان میں غازی عبدالرشید اور غیرملکی جنگجوشامل نہیں تھے۔

باہر کھڑے والدین جن کے بچے ابھی باہر نہیں آئے تھے موت و حیات کی کشمکش میں تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ان کے بچے انھیں اندر سے بتا رہے ہیں کہ انھیں باہر نہیں آنے دیا جا رہا۔ سیکیورٹی آفیسرز بتا رہے تھے انھوں نے بیس لوگوں کو اندر بھیجا تھا لیکن ان کے بچوں کو اندر موجود لوگوں نے باہر نہیں آنے دیا۔انھی حالات میں تیسرے دن بھی آپریشن جاری رہا۔

غازی عبدالرشید اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسجد کے تہہ خانے میں محصور ہو چکے تھے لیکن ٹیلی فون پر میڈیا اور وزیرستان میں کچھ لوگوں سے رابطے میں تھے۔ لالمسجد میں مورچے بنائے ہوئے جنگجوؤں کی فائرنگ مسلسل جاری تھی۔ اس فائرنگ کا نشانہ بنےایس ایس جی کمانڈر لیفٹینٹ کرنل ہارون الاسلام ان گولیوں نے ان سے ان کی زندگی چھین لی۔

آپریشن کا آؤٹ لیش اسلام آباد سے باہر بھی اب آنے لگا تھا۔ جنگجو سمجھ رہے تھے کہ لال مسجد کے خلاف آپریشن چینی دباؤ پر کیا گیا ہے۔ غالباً اسی لیے آپریشن کے پانچویں دن پشاور میں چار چینی انجینیرز کو قتل کر دیا گیا۔ چھٹے دن چوہدری شجاعت حسین، سربراہ حکمران پارٹی آخری کوشش کے طور پر مولانا عبدالرشید سے لال مسجد میں ملے۔

انھیں ہتھیار ڈالنے اور پرامن راستہ دینے پر بات کی گی۔ لیکن بقول چوہدری شجاعت حسین، مولانا عبدالرشید اس وقت بھی اپنے غیر ملکی ساتھیوں کے لیے محفوظ راستہ مانگ رہے تھےاب ظاہر ہے یہ مطالبہ حکومت ماننے کے موڈ میں نہیں تھی۔ انھیں حکومت کو وہی غیر ملکی جگنجو ہی تو مطلوب تھےدوسری طرف بقول مولانا عبدالرشید، محفوظ راستہ دینے پر بھی ااتفاق ہو گیا تھا.

چوہدری شجاعت سے میٹنگ کے دوران لیکن ان کے مطابق اختلاف صرف راستہ دینے کے طریقے پر تھا۔ لیکن مولانا کے بیان سے لگتا ہے کہ انھیں تو محفوظ راستہ مل رہا تھا لیکن ان کے غیر ملکی ساتھیوں کو نہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ بھی اسی کو طریقے میں اختلاف کہہ رہے ہوں۔ بہرحال جو بھی تھا یہ آپریشن جاری رہا۔

اس دوران کراچی سے پاکستان کے معزز ترین بزرگ سماجی رہنما عبدالستار ایدھی اور عالم دین مفتی رفیع عثمانی لال مسجد کے باہر پہنچ گئےوہ امن کی اپیل کرتے رہے لیکن نہ تو آپریشن رکا اور نہ ہی مولانا اور ان کے ساتھیوں نے غیرمشروط ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی۔ آپریشن سائلنس کی ساتویں رات شروع ہوئی تو کمانڈوز مسجد اور مدرسے کے اندر پہنچ چکے تھے۔

وہ اس آخری تہہ خانے کے دروازے پر تھے جہاں مولانا عبدالرشید اور ان کے ساتھی مورچہ بنائے ہوئے تھے۔ وہ موبائل فون پر اس وقت بھی وزیرستان میں اپنے ساتھیوں اور میڈیا سے رابطے میں تھے۔ وہ ہتھیار ڈالنے پر اس وقت بھی تیار نہیں تھے۔ سو فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ کچھ خودکش حملوں جیسے زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

صبح ہونے تک ستر جنگجو اور آٹھ پاک فوج کے جوان گولیوں کا نشانہ بن کر زندگیاں گنوا چکے تھے۔ لیکن آخری دن مرنے والوں کی تعداد بعد میں ایک سو دس کنفرم ہوئی۔ مسجد کے مہتمم مولانا عبدالرشید غازی بھی انھی میں شامل تھے۔ دوستو ان کے علاوہ تہہ خانے میں جن لوگوں کی لاشیں ملیں ان میں افغانی جنگجوؤں کے علاوہ پندرہ غیرملکی اور بھی تھے.

جن میں سے بارہ چینی شہری ایغور جنگجو تھے۔لال مسجد پر مکمل قبضے کے بعد حکومت کی طرف سے جب صحافیوں کو وزٹ کروایا گیا تو وہاں بڑی تعداد میں اسلحہ، راکٹ لانچرز، دستی بم، دسیوں کلاشن کوفیں، ہزاروں گولیاں اور گیس ماسکس کے علاوہ پٹرول بمز بھی تیار حالت میں رکھے ہوئے تھے۔ مدرسے اور مسجد کی دیواروں اور چھتوں پر گولیوں کے نشانات تھے۔

چھتوں پر ایسے نشانات بھی تھے جو خودکش حملوں کے بعد دیکھے جاتے ہیں۔ آپریشن کے بعد ایسے الزامات بھی سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ لال مسجد کو کلیئر کروانے کیلئے فاسفورس بموں کو استعمال کیا گیا۔ اس سب کے باوجود روزنامہ جنگ میں صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق لال مسجد سے وہ بارودی سرنگیں اور یرغمالی نہیں ملے جن کا ذکر حکومت بار بار اپنے الزمات میں دہرایا کرتی تھی۔

دوستو لال مسجد کے اس آپریشن سائلنس کی کامیابی کے بعد القاعدہ اور مولانا عبدالعزیز کی توقعات کے بالکل برعکس، کسی ایک بھی مدرسے کے طلبہ نے طالبان سٹائل میں مسلح بغاوت شروع نہیں کی۔ یہاں تک کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے اٹھارہ مدارس سے بھی ایسی کوئی آواز بلند نہیں ہوئی جس کی آس پر القاعدہ کے شیخ عیسیٰ اور مولانا عبدالعزیز نے اس ساری مہم جوئی کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔ایک خط کو اپنی منزل تک پہنچنے میں 68 سال لگ گئے ۔۔ 

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments