HomeHistoryLast moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات...

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 2

79 / 100

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 2

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 2
Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 2

بلکہ چینی صدر ہوجن تاؤ نے یہی پیغام صدر جنرل مشرف کو فون کال کر کے دیا۔ اس کے بعد چینی مسلح افواج پیپلز لبریشن آرمی کے سینئر آفیشلز نے بھی جنرل پرویز مشرف کو فون کر کے سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ اب یوں تھا کہ پاکستان کو چینی حکومت نہ صرف یہ الزام دے رہی تھی کہ وہ چین مخالف دہشتگردوں کو برداشت کر رہے ہیں .

بلکہ چینی اسٹیبلشمنٹ کا یہ بھی ماننا تھا کہ چینی مساج سنٹر پر حملہ دراصل لال مسجد میں موجود ان ایغور جنگجوؤں کا تھا جو چین کو دہشتگردی کے جرائم میں مطلوب تھے۔جنرل مشرف نے اس کے بعد ایک فیصلہ لیا ہو سکتا ہے یہ فیصلہ انہوں نے چینی دباؤ پر لیا ہو یا ہو سکتا ہے انہوں نے یہ فیص خود لے کر چینی دباؤ کو بہانہ بنایا ہو۔

لیکن جنرل مشرف نے لال مسجد واقعے کے مہینوں بعد جب ایمرجنسی لگائی تو اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ انھیں چینی باشندوں کے اغوا پر بہت شرمندگی ہوئی تھی اور انھیں چینی لیڈرز سے ذاتی طور پر معافی مانگنا پڑی تھی کہ اتنے اچھے دوستوں کے ساتھ ہمارے ہاں اتنا برا سلوک ہوا۔وجہ جو بھی ہو جنرل مشرف نے تین جولائی دوہزار سات کو سیکورٹی اداروں کو لال مسجد کا گھیراؤ کرنے کا حکم دے دیا۔

رینجرز اور پولیس نے لال مسجد اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کا محاصرہ کر لیا۔ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ تین سے پانچ ہزار طلبہ و طالبات اندر موجود تھے، کچھ غیر ملکی جنگجو بھی تھے۔ ان سب نے محاصرے سے پہلے ہی مسجد اور مدرسے کے اوپر مورچے بنا لیے، کلاشنکوفوں کا منہ باہر کی طرفکر کے انھوں نے دھمکی دی کہ اگر ان پر حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور جواب دیں گے۔

حکومت نے لال مسجد انتظامیہ سے کہا کہ اگر غازی برادارن خود کو، طلبہ و طالبات کو اور اپنے غیر ملکی ساتھیوں کو حکومت کے حوالے کر دیں تو انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جو لوگ حکومت کو مطلوب ہیں ان کے علاوہ باقی تمام طلبہ و طالبات کو پرامن طور پر گھر جانے دیا جائے گا۔

مولانا حضرات کو بتایا گیا کہ ان کے مدارس بھی علما کے ایک بورڈ کے سپرد کر دئیے جائیں گےحکومت ان کو اپنی تحویل میں نہیں ل گی۔ یہ پیغامات چوہدری شجاعت حسین کے ذریعے بھی پہنچائے گئے۔ چوہدری شجاعت حسین کے مطابق لال مسجد منتظمین ہر بات پر مان گئے تھے لیکن جو بات وہ نہیں مان رہے تھے وہ تھی ان کے غیر ملکی ساتھیوں کی حوالگی۔

لال مسجد والے اپنے غیر ملکی جنگجوؤں کو اپنے ساتھیوں کو محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے اور حکومت یہ راستہ دینے پر تیار نہیں تھی۔ وہ انھیں ہر صورت گرفتار کرنا چاہتی تھی۔ جب مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوئے تو اس دوران اندر موجود طلبا کے والدین بڑی تعداد میں مسجد ک باہر سیکیورٹی حصار کے قریب آ کر بیٹھ چکے تھے۔

وہ اپنے بچوں کو ہر صورت ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ سو حکومت نے طلبا و طالبات کو باہر نکلنے کا وقت دیا اور کہا کہ جو گھر جانا چاہے وہ تلاشی دے کر اور نام پتہ ریکارڈ کرو اکر جا سکتا ہے۔ سو پہلے چند دن میں ہزاروں طالبہ و طالبات اپنے والدین کے ساتھ گھروں کو چلے گئے۔ جو چلے گئے وہ تو چلے گئے لیکن جو باقی رہ گئے انھوں نے الجہاد الجہاد کے نعرے لگاتے ہوئے پوزیشنز سنبھال لیں۔

خندقیں کھود لی گئیں کلاشنکوفیں نصب کر دیں گئیں اور ماسک پہن کر آنسو گیس سے نمٹنے کی تیاری بھی کر لی گئی۔ دیکھنے والے حیران تھے کہ ایک مسجد میں اتنا اسلحہ اور تربیت یافتہ جنگجو کہاں سے آ گئے۔ ادھر سیکیورٹی فورسز نے بھی ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے مورچے بنا لیے تھے پاک فوج کے جوان اسلحے سمیت، بکتر بند گاڑیاں دوڑاتے ہوئے لال مسجد کے باہر پہنچ گئے۔

تین جولائی دوہزار سات کی رات آپریشن سائلنس، پورے شور و غوغہ کے ساتھ شروع کر دیا گیا۔اس آپریشن کو آپریشن سائلنس کا نام دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے لال مسجد کے اردگرد کے علاقے میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود جامعہ حفصہ اور لال مسجد سے نوجوانوں کے لٹھ بردار گروہ باہر نکلے اور انھوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا۔انھوں نے مسجد کے قریب گرلز سکول، محکمہ ماحولیات اور سٹیٹ بلڈنگ میں پٹرول بمز پھینک کر آگ لگا دی۔ مولانا عبدالعزیز نے لاؤڈ سپیکر پر جہادی ترانے اور اعلانات کا سلسلہ جو پہلے سے جاری تھا اسے تیز تر کر دیا۔

اس طرح وہ اپنے ہزاروں طلبا کو جوش دلا رہے تھے، جہاد اور شہادت پر ابھار رہے تھے۔ مولانا کے مطابق ان کے طلبا نے خودکش حملے بھی شروع کر دئیے تھے، جن میں سے ایک محکمہ ماحولیات کے دفتر میں کیا گیا۔ اس حملے میں سات پولیس اہلکاروں جان سے چلے گئے۔

رات بھر اسلام آباد گولیوں کی آوازوں اور دھماکوں سے گونجتا رہا اور جب صبح کے اخبارات چھپے تو مختلف ذرائع سے مرنے والوں کی تعداد بارہ سے بیس تک بتائی گئی۔ جبکہ چار سو زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔ مرنے والوں میں جامعہ کے طلبا کے علاوہ دو رینجرز اہلکار، ایک صحافی اور ایک تاجر بھی شامل تھا۔

اب حالات نازک دیکھتے ہوئے فوج کے کمانڈوز کو طلب کر لیا گیا۔ یہ ایس ایس جی کمانڈوز تھے۔ اتنی ٹینس صورتحال میں بار بار جامعہ میں موجود طلبا کو موقع دیا جاتا رہا کہ وہ قطار بنا کر باہر آئیں تاکہ انھیں تلاشی اور ریکارڈ رکھنے کے بعد جانے دیا جائے۔ یہ پیغام باہر سے مسلسل اندر بھیجا گیا کہ پرامن طور پر ہتھیار ڈالنے والوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔

سیکڑوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات پھر باہر آئے، کچھ زخمیوں اور لاشوں کو بھی باہر نکالا گیا۔ اس دوران مسجد اور مدرسے کا پانی اور بجلی بھی بند کر دی گئی تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ تنگ آ کر خود ہی باہر آ جائیں اور صرف وہ لوگ اندر رہ جائیں جن کے خلاف حقیقت میں آپریشن کیا جانا مطلوب تھا۔

حکومت نے ایک مرتبہ پھر خفیہ سفارتکاری کرتے ہوئے لال مسجد منتظمین کے قریبی جہادی ساتھی کالعدم حرکت المجاہدین کے سربراہ مولانہ فضل الرحمان خلیل کو اندر بھیجا۔انھوں نے مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھائی غازی عبدالرشید کو وارننگ دی کہ آپ لوگوں کے اقدامات نے لال مسجد کو انٹرنیشنل ہیڈلائن بنا دیا ہے۔ فوج ایکشن لینے پر مجبور ہے۔

انھوں نے سمجھایا کہ کسی بھی فوجی آپریشن سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ آپ پرامن طور پر ہتھیار ڈال دیں۔ انھوں نے گارنٹیدی کہ آپ کو چند ماہ عزت سے جیل میں رکھ کر رہا کر دیا جائے گا۔ لیکن دونوں بھائی اپنے پرانے ساتھی کے سمجھانے پر بھی نہیں مانے۔ وہ کسی صورت غیر ملکیوں کو حوالے کرنے پر تیار نہیں تھے۔

وہ مسلسل شریعت کے نفاذ اور غیرملکوں کو محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایسے میں یہ ہوا کہ مسجد کے اندر ایک مشاورت ہوئی۔ جس میں طے پایا کہ مولانا عبدالعزیز کسی طرح مسجد سے زندہ باہر نکل جائیں گے اور کسی دوسری جگہ سے پاکستان میں نفاذ شریعت کی تحریک کی قیادت کریں۔

دوستو وہ ایسا اس لیے کر رہے تھے کہ القاعدہ کے وہ رہنما جو اس ساری تحریک اور بندوبست کا ماسٹر مائنڈ تھےوہ مولانا عبدالعزیز کو پاکستان میں نفاذ شریعت کا فیس چہرہ بنانا چاہتے تھے۔

ان کے خیال میں وہ اپنے ہزاروں طلبہ اور سینکڑوں مدارس کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے پاکستان میں ایک ایسا ان رسٹ، ایسی بغاوت پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو القاعدہ کے لیے مددگار کا کام کرے گی اس سے القاعدہ کے خیال میں کم سے کم یہ تو ضرور ہو گا کہ ان کے خلاف کوئی سیکیورٹی ادارہ آپریشن نہیں کر پائے گا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔ ایک خط کو اپنی منزل تک پہنچنے میں 68 سال لگ گئے ۔۔

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments