HomeHistoryLast moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات...

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 1

84 / 100

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 1

Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 1
Last moments of Lal Masjid | لال مسجد آپریشن کے آخری لمحات | Part 1

دوستو چھ اپریل دو ہزار سات کے اعلان شریعت کے بعد سے اب تک چینی مساج سینٹر پر حملہ لال مسجد انتظامیہ کی سبسے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ وہ بھلا کیسے؟ برقعہ پہنے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے عالم دین کون تھے؟ غازی عبدالرشید کے تہہ خانے پر جب پاک فوج پہنچ گئی تو انھیں فون پر ہتھیار ڈالنے سے کس نے منا کیا؟ لال مسجد آپریشن کیسے مکمل ہوا اور اس کے کیا نتائج نکلے؟

میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی ہسٹری آف پاکستان سیریز کی اس قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گےدوستو چینی مساج سینٹر پر ہونے والی کارروائی لال مسجد کے تحت اسلام آباد میں چلنے والے امربالمعروف و نہی عن المنکر سکواڈ نے کی تھی۔ یہ سکواڈ مولانا کے نفاذ شریعت منصوبے کا حصہ تھا۔

اس منصوبے کے تحت چند ہفتے قبل بھی لال مسجد کے نوجوان چند پولیس افسران و مبینہ طور پر ایک قحبہ خانے سے پکڑ کر لائے تھے۔لیکن وہ چاروں پولیس افسران مقامی تھے، پاکستانی تھے۔ وہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں بنے، لیکن اب چائنیز کو مارنا، پکڑنا اور اغوا کر کے بند کر دینا لال مسجد منتظمین کی بہت بڑی غلطی بنے والی تھی۔جب لال مسجد کے لوگ یہ کارورائی کر رہے تھے تو یہ وہی دن تھے.

جب چینی شہر بیجنگ میں اولمپکس دوہزار آٹھ کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ چین ان اولمپکس کو اپنے لیے جدید تاریخ کا ایک سنگ میل سمجھتے تھے۔ وہ اس میں کوئی بھی بدنظمی، ہنگامہ یا دہشتگردی برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔لیکن اس میں بدنظمی کا خدشہ انھیں بہرحال تھا۔

چین میں معلومات کافی خفیہ رکھی جاتی ہے لیکن بعد کی خبروں میں چینی حکومت نے تسلیم کا کہ انھیں اولمپکس کی کامیابی میں سب سے زیادہ خطرہالقاعدہ سے منسلک چینی ایغور مسلمانوں کی تنظیم سے تھا اولمپیکس کے دوران ہی ان کے یہ خدشے درست بھی ثابت ہوگئے تھے جب چین کے ایک مغربی صوبے میں بم حملوں سے آٹھ سیکیورٹی چینی اہلکار ہلاک کر دیے گئے۔

چین نے اس خبر کو دوران اولمپکس کافی خفیہ رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ پھر بھی لیک ہوگئی تھی۔ اولمپکس سے پہلے ہی ایغور مسلمز سے منسلک تنظیم ترکستان اسلامک پارٹی کی طرف سے دھمکیوں کی وڈیوز اور بیانات آنا بھی شروع ہو گئے تھے۔ چینی ایکسپرٹس کے خیال میں چینی میں موجود القاعدہ ایسٹس کے لیے اولمپکس خود کو مشہور کروانے کا بہترین موقع تھا اس لیے وہ اس موقع پر جو بھی ان سے بن پڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سب کچھ سے بچنے کے لیےچینی حکومت نے ایغور جنگجوؤں کے لیے ناقبل رحم ’’ابسولوٹلی نو مرسی‘‘ کی پالیسی اپنا رکھی تھی۔ جیسا کہ بعد کی لیک فائلز سے یہ ثابت بھی اب ہو چکا ہے۔ اب سینکیانگ چونکہ پاکستان کے بارڈر پر ہے اس لیے چینی سیکیورٹی ادارے پاکستان سے مسلسل رابطے میں تھے۔

کیونکہ اسی صوبہ میں اس تنظیم کے زیادہ اراکین موجود تھے پھر اولمپکس میں پاکستانیوں کی بھرپور شرکت کے لیے بھی چین کئی طرح سے پاکستان سے تعاون کر رہا تھا۔ اب دیکھئے کہ ایک طرف تو یہ چین کی ضرورت تھی، تو دوسری طرف ٹھیک انھی دنوں پاکستان کو بھی چین کی اشد ضرورت تھی۔ دوہزار پانچ میں بھارت اور امریکہ کی نیوکلئیر ڈیل ہوئی تھی۔

جس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پاکستان نے بھی ایک نیوکلئیر ڈیل پر کام شروع کیا۔ اس ڈیل کے پاک چین معاہدے کے تحت چین پاکستان کے چشمہ نیوکلئیر پلانٹ کو اپ گریڈ کر رہا تھا۔ ان سب معاملات پر میٹنگز انھی دنوں میں ہو رہی تھیں جب لال مسجد کے برقعہ سکواڈ نے سات چائنیز کو اغوا کر لیا تھا۔ چین میں یہ معاملہ بے حد سنجیدگی سے لیا گیا۔

یہاں تک کہ عوامی سطح پر بھی یہ وہاں موضوع بحث تھا۔ عوام کے ایک سیکشن کی طرف سے چینی کیمونسٹ پارٹی یعنی حکمران پارٹی کو ان کے فارن آفس میں کیلشیم کی گولیوں کا ایک پیکٹ بھی بھیجا گیا۔ یعنی طنزیہ طور پر کسی چینی نے کیلشیم کی گولیاں بھیج کر اپنی حکومت سے کہا تھا کہ اگر آپ میں اپنے شہریوں کو بیرون ملک بچانے کی ہمت نہیں تو یہ طاقت کی گولیاں کھا لیجئے، شاید اس سے طاقت آ جائے۔

چینی حکومت اور خاص طور پر پاکستان میں چینی سفیر ’’لیوجا ہوئی‘‘ اس بارے میں بہت حساس تھے۔ لال مسجد سے کچھ ہی فاصلے پر اپنے دفتر میں موجود چینی سفیر مسٹر لیوجاہوئی فوراً متحرک ہوگئے۔ انھوں نے اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز سے بات کی،

مولانا فضل الرحمان سے بھی مدد کی درخواست کی لیکن آخر میں ان کے کام آئے ق لیگ کے لیڈر سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین۔ چوہدی شجاعت حسین مبینہ طور پر اس چینی کلینک کے کلائنٹ بھی رہ چکے تھے جن کے لوگوں کو اغوا کیا گیا تھا۔ چوہدری شجاعت حسین نے ان کی مدد کی اور چینی سفیر کی براہ راست بات لال مسجد کے منتظم مولانا عبدالرشید غازی سے کروا دی۔

عبدالرشید غازی نے چینی سفیر کو یقین دلایا کہ مساج سینٹر کی خواتین کو کچھ نہیں کہا جائے گا اور جلد رہا کر دیا جائے گا۔ انھوں نے اغوا کی گئی چینی خواتین سے سفیر کی بات بھی کروا دی۔ اس وعدے کے باوجود اسلام آباد کے پولیس آفیشلز، وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر جنرل پرویز مشرف کی مسلسل کوششوں سے چینی مغویوں کو رہا ہونے میں پانچ گھنٹے مزید لگے۔

اس دوران چینی صدر ہوجن تاؤ مسلسل صدر مشرف سے رابطے میں رہے اور اپنے آفس میں مسلسل بریفنگ لیتے رہے۔ لال مسجد نے چینی خواتین اور ملازمین کوچھوڑا تو ایک لکھی ہوئی پریس کانفرنس کی۔ اس لکھی ہوئی پریس کانفرنس سے لگتا تھا کہ لال مسجد کے اندر کوئی بورڈ یا شوریٰ موجود ہے جس نے اس پریس کانفرنس کا ٹیکسٹ، اس کا متن اپروو کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ہم مخلوط مساج سینٹرز کو بند کرنے کی یقین دہانی اور پاک چین دوستی کو مدنظر رکھتے ہوئے نو چینی باشندوں کو چھوڑ رہے ہیں۔ انھوں نے غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان سینٹرز میں خواتین مردوں کا مساج کرتی ہیں جو کہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔پریس کانفرنس کے بعد چائنیز خواتین کو سرسے پاؤں تک سیاہ برقعے پہنا کر چینی سفیر کی طرف رخصت کر دیا گیا.

چینی خواتین رہا ہو گئیں لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اسی دن بیجنگ میں پاکستانی وزیرداخلہ کی چینی پبلک سکیورٹی منسٹر ’’یویانگ کانگ‘‘ سے ملاقات تھی۔ یہ میٹنگ اگلے سال چین میں ہونے والے کھیل کے عالمی مقابلوں، یعنی بیجنگ اولمپکس کے سلسلے میں تھی۔ اس میٹنگ میں چینی منسٹر نے کچھ سخت مطالبات کیے۔

یہ مطالبات کیا تھے ان کا پاکستانی وزیر داخلہ نے تو تذکرا نہیں کیا لیکن اس ملاقات کے بعد ستائیس جون کو ان چینی منسٹر نے جو باتیں سرعام کیں وہ بہت سخت تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے پاکستان ان دہشتگردوں اور ان تنظیموں کے خلاف سخت ایکشن لے گا جنھوں نے چینی شہریوں پر تشدد کیا اور ان مجرموں کو سخت سزا دے گا۔پھر یہیں پر بس نہیں ہوا۔

شاید اس سے طاقت آ جائے۔چینی حکومت اور خاص طور پر پاکستان میں چینی سفیر ’’لیوجا ہوئی‘‘ اس بارے میں بہت حساس تھے۔ لال مسجد سے کچھ ہی فاصلے پر اپنے دفتر میں موجود چینی سفیر مسٹر لیوجاہوئی فوراً متحرک ہوگئے۔

انھوں نے اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز سے بات کی، مولانا فضل الرحمان سے بھی مدد کی درخواست کی لیکن آخر میں ان کے کام آئے ق لیگ کے لیڈر سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین۔ چوہدی شجاعت حسین مبینہ طور پر اس چینی کلینک کے کلائنٹ بھی رہ چکے تھے جن کے لوگوں کو اغوا کیا گیا تھا۔

چوہدری شجاعت حسین نے ان کی مدد کی اور چینی سفیر کی براہ راست بات لال مسجد کے منتظم مولانا عبدالرشید غازی سے کروا دی۔ عبدالرشید غازی نے چینی سفیر کو یقین دلایا کہ مساج سینٹر کی خواتین کو کچھ نہیں کہا جائے گا اور جلد رہا کر دیا جائے گا۔ انھوں نے اغوا کی گئی چینی خواتین سے سفیر کی بات بھی کروا دی۔

اس وعدے کے باوجود اسلام آباد کے پولیس آفیشلز، وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر جنرل پرویز مشرف کی مسلسل کوششوں سے چینی مغویوں کو رہا ہونے میں پانچ گھنٹے مزید لگے۔ اس دوران چینی صدر ہوجن تاؤ مسلسل صدر مشرف سے رابطے میں رہے اور اپنے آفس میں مسلسل بریفنگ لیتے رہے۔ لال مسجد نے چینی خواتین اور ملازمین کوچھوڑا تو ایک لکھی ہوئی پریس کانفرنس کی۔

اس لکھی ہوئی پریس کانفرنس سے لگتا تھا کہ لال مسجد کے اندر کوئی بورڈ یا شوریٰ موجود ہے جس نے اس پریس کانفرنس کا ٹیکسٹ، اس کا متن اپروو کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ہم مخلوط مساج سینٹرز کو بند کرنے کی یقین دہانی اور پاک چین دوستی کو مدنظر رکھتے ہوئے نو چینی باشندوں کو چھوڑ رہے ہیں۔

انھوں نے غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان سینٹرز میں خواتین مردوں کا مساج کرتی ہیں جو کہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔پریس کانفرنس کے بعد چائنیز خواتین کو سرسے پاؤں تک سیاہ برقعے پہنا کر چینی سفیر کی طرف رخصت کر دیا گیاچینی خواتین رہا ہو گئیں لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔

اسی دن بیجنگ میں پاکستانی وزیرداخلہ کی چینی پبلک سکیورٹی منسٹر ’’یویانگ کانگ‘‘ سے ملاقات تھی۔ یہ میٹنگ اگلے سال چین میں ہونے والے کھیل کے عالمی مقابلوں، یعنی بیجنگ اولمپکس کے سلسلے میں تھی۔ اس میٹنگ میں چینی منسٹر نے کچھ سخت مطالبات کیے۔

یہ مطالبات کیا تھے ان کا پاکستانی وزیر داخلہ نے تو تذکرا نہیں کیا لیکن اس ملاقات کے بعد ستائیس جون کو ان چینی منسٹر نے جو باتیں سرعام کیں وہ بہت سخت تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے پاکستان ان دہشتگردوں اور ان تنظیموں کے خلاف سخت ایکشن لے گا جنھوں نے چینی شہریوں پر تشدد کیا اور ان مجرموں کو سخت سزا دے گا۔پھر یہیں پر بس نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments