HomeHistoryHistory of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence |...

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 5

83 / 100

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 5

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 5

ایک اخبار میں ایسا کارٹون بھی شائع ہوا جس میں امریکی جہاز اسپین کے شہنشاہ الفانسو تھرٹین پر ایک بم فائر کر رہا تھا۔ اور بم پر لکھا تھا ریٹریبیوشن یعنی انتقام جبکہ شہنشاہ اس بم کے آنے سے پہلے کیوبا میں ایک کھلونا کشتی سے کھیل رہا تھا۔

امریکی اخبارات نے تواسپین کے خلاف جنگ چھڑنے کے حق میں عوام کو لانے کے لیے یہ نعرہ بھی لگا دیا کہ ’’ریمیمبر دا مین، ٹو ہیل ود اسپین‘‘ یعنی امریکی جہاز مین کو یاد کرو اور اسپین کی پرواہ نہ کرو۔تو اب امریکی میڈیا اور پبلک میں انتقام کی باتیں ہونے لگیں جس کا فائدہ براہ راست امریکی اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا۔

امریکی حکومت نے جہاز کی تباہی کی تحقیقات کیلئے ایک کمیشن قائم کیا جس نے ایک ماہ کے قریب عرصے میں یہ رپورٹ دی کہ امریکی جہاز پر حملہ اسپین نے ہی کروایا ہے۔ اسپین کی حکومت نے امریکہ کے اس دعوے کو نہیں مانا اور یہ پیشکش کی کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کسی غیر جانبدار ملک سے کروانے پر تیار ہیں۔

برطانیہ، فرانس اور روس سمیت تمام عالمی طاقتوں نے بھی انسانیت کے نام پر امریکی صدر ولیم میکنلے سے اپیلیں کیں کہ وہ کیوبا میں مداخلت نہ کرے۔ امریکی صدر میکنلے کا جواب یہ تھا کہ اگر ہم نے کوئی مداخلت کی تو وہ انسانیت کے مفاد میں ہی ہو گی۔ کیتھولک فرقے کے سربراہ پوپ لیو تھرٹین نے بھی امریکہ اور اسپین کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی۔

لیکن امریکہ تو منرو ڈاکٹرائن کے تحت اسپین کو کیوبا میں ایک دشمن طاقت کے طور پر دیکھتا تھا۔ امریکہ کے خیال میں یہ بہت ضروری ہو گیا تھا کہ اسپین کو کیوبا سے نکالنے کیلئے طاقت استعمال کی جائے۔ چنانچہ اس نے جنگ نہ کرنے کی ہر اپیل اور ثالثی کی ہر پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے بیس اپریل کو انتہائی قدم اٹھا لیا۔

امریکن کانگریس نے اسپین سے مطالبہ کیا کہ وہ کیوبا سے فوری طور پر اپنی فوج ہٹا کر اسے آزادی دے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے امریکی صدر ولیم میکنلے کو بھی یہ اختیار دے دیا کہ وہ کانگریس کا مطالبہ منوانے کیلئے امریکن آرمی یا نیوی کو استعمال کر سکتے ہیں۔

امریکی کانگریس کا یہ اعلان اسپین کے معاملات میں کھلی مداخلت تھا اور اس اعلان نے اسپین کو بند گلی میں دھکیل دیا تھا۔ اب اسپین کے پاس امریکہ سے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ چنانچہ اس نے چوبیس اپریل کو امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ اگلے روز پچیس اپریل کو امریکی کانگریس نے بھی اسپین کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔

امریکن بحری بیڑے نے اسپین کی چار کالونیز پر دھاوا بول دیا۔ ان چار میں سے دو کالونیز امریکہ کے مشرق میں کیوبا اور پروٹوریکو تھیں جبکہ مغرب میں دوسری دو کالونیز فلپائن اور گوام تھیں۔ ان چاروں مقامات پر موجود اسپینش فورسز امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکیں اور بغیر کسی قابل ذکر مزاحمت کے شکست کھا گئیں۔

امریکہ نے اس ملٹری کیمپین میں کیوبا، پورٹوریکو، فلپائن اور گوام کو قبضے میں لے لیا۔ اٹھارہ سو اٹھانوے میں ایک معاہدے ’ٹریٹی آف پیرس‘ کے تحت سپین کیوبا، پورٹوریکو فلپائن اور گوام کے تمام علاقوں سے دستبردار ہو گیا۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے سپین کو دو کروڑ ڈالرز بھی ادا کیےجو اس انفراسٹرکچر کے لیے تھے جو وہاں سپین نے اپنے دور میں کھڑا کیا تھا۔

مائی کیورئیس فیلوز اس کے بعد کیا ہوا؟ اس کے بعد یہ ہوا کہ ان چاروں میں سے صرف ایک مقام کیوبا کو امریکہ نے انیس سو دو میں یعنی قبضے کے تقریباً چار سال بعد آزدی دے دی۔ باقی تینوں جگہوں پر امریکہ نے تسلط برقرار رکھا۔ ان میں سے دو جزیروں یعنی گوام اور پورٹوریکو پر تو امریکہ کا قبضہ آج تک قائم ہے۔

دوستو سپین تو ان چاروں علاقوں سے چلا گیا اور امریکہ کے لیے کیوبا،پورٹوریکو اور گوام کوئی بڑا مسئلہ ثابت نہیں ہوا۔ لیکن فلپائن میں یہ صورت حال نہیں تھی فلپائن پر قبضہ امریکہ کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا۔ یہاں کے شہریوں نے امریکی قبضے کو مسترد کردیا اور جنگ آزادی شروع کر دی۔

یہ لڑائی انیس سو دو، نائنٹین او ٹو تک جاری رہی۔ اس لڑائی میں چار ہزار سے زائد امریکی فوجی اور بیس ہزار سے زائد فلپائنی فریڈم فائٹرز مارے گئے۔ امریکیوں نے اس لڑائی میں لاتعداد فریڈم فائٹرز کو اور ان عام لوگوں کو بھی قتل کیا جو لڑائی میں شریک نہیں تھے اپنی عظیم الشان ملٹری مائٹ کی بدولت امریکی فوج جلد ہی فلپائنی فریڈم فائٹرز پر حاوی ہو گئی۔

بارود اور ٹکنالوجی کے سامنے فلپائنیوں کی انسانی ہمت جواب دینے لگی۔ فریڈم فائٹرز بے تحاشا مار کھانے کے بعد رفتہ رفتہ ہمت ہارنے لگے اور آہستہ آہستہ ہتھیار ڈالتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ انیس سو دو میں فلپائن میں جنگِ آزادی کی مسلح تحریک ختم ہو گئی۔ یوں فلپائن امریکہ کی باقائدہ کالونی بن گیا۔

امریکہ کو اس کیمپین میں مشرق اور مغرب کے چار میدانوں میں، اسپین جیسی طاقتور حکومت کے مقابلے میں فتح ملی تھی۔ پھر فلپائن کے مقامی باشندے بھی امریکی سامراج کا مقابلہ نہیں کر پائے تھے۔ اس سب نے امریکہ کی فوجی طاقت کا رعب دنیا پر بٹھا دیا۔ بلکہ اس کی طاقت اور بھی بڑھنے لگی۔

برطانیہ کے مقابلے میں اب دنیا امریکہ کو سپر پاور کے طور پر ابھرتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ کیوبا اور فلپائن کے بعد امریکہ نے جنوبی امریکہ نے جنوبی امریکہ کے کئی ملکوں میں بھی فوجی کارروائیاں اور کمانڈو ایکشن شروع کر دیئے۔ ان کمانڈو ایکشنز سے امریکہ کو کیا فائدہ ملا؟

امریکہ میں پیٹرونیج یا سپوائلز سسٹم تو ختم ہو گیا تھا لیکن سرمایہ داروں کی اجارہ داری، مناپلی ختم نہیں ہو رہی تھیامریکہ نے یہ سنگ میل کیسے عبور کیا؟ سرمایہ داروں کی اندھی، شتربے مہار مناپلی کس کی جان لے کر ختم ہوئی ؟ کس نے یہ مناپلی ختم کی اور کیسے کی؟

وہ کیا لمحہ تھا جب امریکی مزدوروں سے کہا گیا کہ وہ کل سے کام پر نہ آئیں کیونکہ اب امریکہ میں کوئی کاروبار ہی نہیں ہو گا؟ اس کے علاوہ وہ کیا واقعات تھے جنھوں نے امریکہ کو پہلی جنگ عظیم میں دھکیل دیا تھا؟ یہ سب دوستو آپ دیکھیں گے ہسٹری آف امریکہ کے اس سیزن کی اگلی قسط میں ۔۔۔

اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کولمبس سے ہزاروں سال پہلے امریکہ کس نے دریافت کیا؟ تو ہسٹری آف امریکہ کا پہلا سیزن یہاں دیکھئے۔ شاہ فیصل نے کیسے سعودی عرب کو طاقتور ملک بنایا یہ یہاں جانئیے اور یہاں دیکھئے مسلم دنیا کی آپسی جنگ کی سچی الف لیلی

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments