HomeHistoryHistory of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence |...

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 3

83 / 100

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 3

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 3

اپریل اٹھارہ سو چھیاسی، ایٹین ایٹی سکس میں شکاگو کے مزدوروں نے اعلان کر دیا کہ جب تک آٹھ گھنٹے کا ٹائم ٹیبل لاگو نہیں کیا جاتا کوئی مزدور کام پر نہیں آئے گا۔ یعنی مکمل ہڑتال کی جائے گی۔ ہڑتال کے شیڈول کے تحت یکم مئی کے روز شکاگو میں پینتیس ہزار مزدور ہڑتال پر چلے گئے۔

ان مزدوروں نے شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا اور ہر فیکٹری میں جا کر مزدوروں کو ہڑتال کے لیے قائل کرنے لگے۔ یوں فیکٹریز میں کام دھندہ چوپٹ ہوگیا۔ امریکہ کی پروڈکشن مشین سست پڑنے لگی اور سرمایادار کا منافع بھی متاثر ہونے لگا۔

فیکٹری مالکان نے دو روز تک تو یہ سب صبر سے برداشت کیا لیکن تیسرے دن انہوں نے ہڑتالی مزدوروں کو کام سے نکال دیا اور ان کی جگہ نئے مزدور بھرتی کرنا شروع کر دیئے۔ ویسے بھی دوستو امریکہ میں ان دنوں بیروزگاری بڑھ رہی تھی۔ ایک مزدور کی ڈیمانڈ کرو تو ہزار ملتے تھے۔ چنانچہ فیکٹری مالکان کو جلد ہی ہڑتالی مزدوروں کی جگہ کام کرنے کے لیے نئے مزدور ملنا شروع ہو گئے۔

شکاگو کی ایک فیکٹری ’’میکارمک ریپر ورکس‘‘ کے مالکان نے بھی اسی طریقے سے نئے مزدور بھرتی کئے اور ہڑتال کی وجہ سے بند پڑی فیکٹری پھر سے چلنے لگی۔ جیسے ہی ہڑتالی مزدوروں کو پتا چلا کہ ان کے مطالبات تو کیا مانے جاتے انھیں نوکریوں سے ہینکال باہر کیا گیا ہےتو وہ مشتعل ہو گئے۔

دیکھتے ہی دیکھتے کوئی تین ہزار مزدوروں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا اور میکارمک ریپرز کی طرف بڑھنے لگا۔ اس ہجوم کو سپائیز اور اس کے ساتھی لیڈ کر رہے تھے۔ جب یہ ہجوم فیکٹری کے سامنے پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ فیکٹری کے دروازے بند تھے اور باہر مسلح پولیس اہلکار تعینات تھے۔ سپائیز نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اس نے ہجوم کے سامنے ایک پرجوش تقریر کی۔

اس نے مزدوروں کو اتنا بھڑکایا کہ مزدورغصے میں فیکٹری پر چڑھ دوڑے۔ انہوں نے فیکٹری کے گیٹ اور دوسرے حصوں کو توڑنا شروع کر دیا۔ جواباً پولیس نے بھی فائرنگ کر دی اور چھے مزدوروں کی جان چلی گئی۔ خون خرابہ شروع ہوا تو ہجوم پسپا ہو گیا۔

اس ٹریجڈی کے بعد زیادہ تر مزدور تو اپنے گھروں کو چلے گئے لیکن اسپایئز گھر نہیں گیا بلکہ سیدھا اپنے اخبار کے دفتر پہنچا۔ یہاں اس نے ایک پمفلٹ شائع کیا۔ اس پمفلٹ میں اس نے پولیس والوں کو سرمایہ داروں کے بلڈ ہاؤنڈز، شکاری کتے قرار دیتے ہوئے مزدوروں کو بدلہ لینے پر اکسایا۔

اس نے مزدوروں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ تم نے برسوں تک ذلت اور ناانصافی برداشت کی ہےتم نے محنت کرتے ہوئے اپنی جانیں دی ہیں، غربت اور بھوک کی تکالیف برداشت کی ہیں تم نے اپنے بچوں کو فیکٹری مالکان کیلئے قربان کر دیا ہے آخر کیوں؟ صرف اس لئے کہ تم اپنے سست اور چور مالکان کے لالچ کی تسکین کر سکو۔

یہ پمفلٹ انگلش اور جرمن دونوں زبانوں میں شائع کیا گیا تھا۔ اس پمفلٹ نے مزدوروں کو اتنا بھڑکایا کہ وہ انتہائی قدم اٹھانے کیلئے تیار ہو گئے۔ انہوں نے اگلے روز یعنی چار مئی کو شکاگو کی ’’ہے مارکیٹ‘‘ یعنی گھاس منڈی میں میٹنگ کرنے کا منصوبہ بنایا اور تمام مزدوروں سے کہا کہ وہ اس میٹنگ میں شریک ہوں کیونکہ اس میں اہم ترین فیصلے کئے جائیں گے۔

چار مئی کو اس حوالے سے ایک پوسٹر بھی شائع ہوا جس میں لکھا تھا کہ میٹنگ آج رات ساڑھے سات بجے ہو گی۔پوسٹر میں مزدوروں سے کہا گیا تھا کہ تم لوگ مسلح ہو کر یعنی اسلحہ لے کر پوری قوت کے ساتھ میٹنگ میں پہنچو۔ تاہم دوستو اس پوسٹر کے چھپنے کے کچھ وقت بعد ایک دوسرا پوسٹر شائع کیا گیا جس میں مسلح ہونے والی بات نکال دی گئی تھی۔

اب دیکھئے کہ میکارمک فیکٹری کی فائرنگ والے واقعے کی وجہ سے شکاگو کا ماحول پہلے سےسُپر چارج تھا۔ مزدور بھڑکے ہوئے تھے۔ پولیس کو بھی احساس تھا کہ اگر اس میٹنگ کو اب روکا گیا تو خون خرابہ ہو جائے گا۔ چنانچہ شہر کے میئر نے ناصرف یہ کہ میٹنگ کی اجازت دے دی بلکہ پولیس کو بھی اس میں مداخلت کرنے سے روک دیا۔

اس انتظام کے بعد سرکار کو لگتا تھا کہ مزدوروں کے جذبات مینیج ہو گئے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ چار مئی کو ہے مارکیٹ میں مزدور جمع ہوئے۔ مزدور قائدین کیلئے جو اسٹیج بنایا گیا تھا وہ بھی ایک گھاس لے جانے والی ایک گاڑی ہی تھی۔ اسی پر کھڑے ہو کر انھیں تقریر کرنا تھی۔

آج عین اسی جگہ ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے جو بالکل اسی انداز میں ڈیزائن ہے جیسے یہ مزدور قائدین تقریر کرنے کے لیے جمع تھے۔ تو عین اس جگہ جہاں یہ آج یادگار ہے وہیں گھاس کی وہ گاڑی کھڑی تھی جس پر سے مزدور لیڈرز پولیس کے خلاف تقریریں کر رہے تھے۔ ان کے سامنے ہزاروں کا پرجوش مجمع تھا مزدوروں کا ایک سمندر تھا جو پولیس کی کارروائیوں پر بپھرا ہوا تھا۔

اس ہجوم سے کچھ فاصلے پر پولیس بھی موجود تھی مگر وہ کوئی مداخلت نہیں کر رہی تھی۔ مزدوروں کا محبوب لیڈر ’’آگسٹ سپائیز‘‘ بھی یہیں تھا۔ اب یوں تھا کہ اس بے پناہ چارج ہجوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو پولیس سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے بیتاب تھے۔ ان کے حساب سے آج پولیس سے بدلہ چکانے کا سنہری موقع تھا۔

انہوں نے پولیس سے نمٹنے کی تیاری بھی کر لی تھی۔ اب یہاں ایک راز تھا جو وہاں موجود لوگوں میں سے بہت ہی کم لوگوں کو پتہ تھا۔ وہ راز یہ تھا کہ جو لوگ پولیس سے دو دو ہاتھ کرنا چاہتے تھے ان کے ہاتھ میں ڈائنامیٹ تھا، بارود تھا۔ گاڑی پر کھڑے مزدور لیڈرز تقریریں کر رہے تھے اور پولیس بھی ایک طرف خاموش کھڑی تھی کہ اچانک ہنگامہ ہو گیا۔

ہوا یہ کہ ایک مزدور لیڈر تقریر کے دوران پولیس کے خلاف شعلہ جوالہ بن گیا۔ جوش خطابت میں اس نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اب تو بھلے قانون کا گلا ہی گھونٹ دینا چاہیے۔ کیونکہ ہمیں ایسا قانون نہیں چاہیے جو مزدوروں پر گولی چلائے۔ یہ الفاظ سنتے ہی کوئی دو سو کے قریب پولیس اہلکار ہجوم کی طرف بڑھے اور مزدوروں سے کہا کہ وہ اپنی میٹنگ یہاں ختم کر دیں۔

پولیس کی پیش قدمی دیکھ کر جوشیلا ہجوم بپھر گیا۔ یہی وہ موقع تھا جس کا کچھ لوگوں کو شاید انتظار تھا۔ اچانک ہجوم سے ایک بم اچھالا گیا جو پولیس پر گرا اور دھماکے سے پھٹ گیا۔ کان پھاڑ دینے والی آواز آئی اور بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس والوں نے بدحواس ہو کر یا ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائر کھول دیا۔

جب پولیس والوں کی گولیاں ختم ہو گئیں تو بھگڈر ابھی تک قائم تھی سو انہوں نے اپنی گنز کو ری لوڈ کیا اور پھر فائرنگ کی ہجوم کی طرف سے بھی کچھ لوگوں نے پولیس پر فائر کھولا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments