HomeHistoryHistory of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence |...

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 4

83 / 100

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 3

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 3

یہ ساری ہنگامہ آرائی صرف دو منٹ جاری رہی۔ دو منٹ کے اندر اندر ساری جگہ خالی ہو چکی تھی۔ جب ذرا حالات نارمل ہوئے تو سڑک پر کم از کم سات پولیس اہلکاروں اور چار مزدوروں کی لاشیں پڑی تھیں۔ جبکہ دونوں طرف سے زخمی ہونے والے درجنوں میں تھے۔دو منٹ کا کھیل تو دوستو ختم ہو ا، لیکن ٹریجڈی یہاں ختم نہیں ہوئی۔

پولیس کو ابھی اس حملہ آور کی تلاش تھی جس نے ان پر پہلا ڈائنامائیٹ یا بم پھینکا تھا۔ وہ شخص اور اس کے ساتھی تو پولیس کے ہاتھ نہیں آئے لیکن پولیس نے آٹھ ایسے افراد کو دھر لیا جو مزدوروں کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ ان میں آگسٹ سپائیز بھی شامل تھا۔ ان لوگوں کو ڈائنامائیٹ حملے کا ذمہ دار قرار دے کر مقدمہ چلایا گیا۔

اگرچہ عدالت میں ان پر یہ جرم ثابت نہیں ہو سکا لیکن پھر بھی انھیں تشدد پھیلانے کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی گئی سپائیز سمیت چار مزدور رہنما پھانسیوں پر جھول گئے۔ باقی چار میں سے ایک نے خودکشی کر لی اور تین کی سزائیں بعد میں معاف کر دی گئیں۔

سپائیز اور اس کے ساتھی جنہیں پھانسی دی گئی تھی انہیں شکاگو کے فاریسٹ پارک قبرستان میں ٓدفن کر دیا گیا۔ ان کی قبروں پر ایک یادگار بنائی گئی جسے ’’ہے مارکیٹ مارٹرز مانیومنٹ‘‘ کہا جاتا ہے یا آپ اسے ’’گھاس منڈی کی یادگارِ شہداء‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس یادگار میں دکھایا گیا ہے کہ ایک گرتے ہوئے مزدور کے سامنے ایک عورت کھڑی ہے جو پولیس کی گولیاں روکنے کی بظاہر کوشش کر رہی ہے۔ آگسٹ سپائیز مر تو گیا لیکن اس سے منسوب ایک تاریخی جملہ آج بھی اس یادگار پر لکھا ہوا ہے۔ وہاں لکھا ہے کہ ایک دن آئے گا جب ہماری خاموشی ان آوازوں سے زیادہ طاقتور ہو گی جنہیں آج تم دبانے کی کوشش کر رہے ہو۔

دوستو سپائیز نے سچ کہا تھا۔ امریکی پولیس اور سرمایہ دار طبقہ مزدوروں کو خاموش نہ کروا سکا۔ مزدوروں کی تحریک جاری رہی اور تقریباً تیس برس بعد مزدور اپنا سب سے بڑا مطالبہ منوانے میں کامیاب ہو گئے انیس سو سولہ، نائنٹین سکسٹین میں امریکی حکومت نے ایک قانون ایڈم سن ایکٹ منظور کیا۔

اس قانون کے تحت ریلوے مزدوروں کے ورکنگ آورز آٹھ گھنٹے مقرر کر دیئے گئے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد جلد ہی ریلوے کے علاوہ دیگر پرائیویٹ کمپنیز میں بھی ملازموں کو آٹھ گھنٹے کام کا حق دے دیا گیا۔ یوں مزدوروں کی جدوجہد کئی جانیں لے کر اور دہائیوں کی کوششوں کے بعد کامیاب ہو گئی۔

مائی کیوریس فیلوز مزدوروں نے اپنے مطالبات کی جنگ تو جیت لی لیکن وہ چار مئی کے سانحے کو نہیں بھولے۔ یہ حادثہ مزدوروں پر ہونے والے اُن مظالم میں سے ایک تھا جن کی یاد میں آج یکم مئی کو لیبر ڈے منایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سب تو بہت بعد میں ہوا لیکن گلڈڈ ایج یعنی اٹھارہ سو ستر کی دہائی سے انیس کے دور کا اختتام ایک جنگ پر ہوا۔

آپ ہسٹری آف امریکہ کے دوسرے سیزن کی تیسری قسط میں منرو ڈاکٹرائن کے بارے میں جان چکے ہیں۔اسی منرو ڈاکٹرائن کے تحت امریکہ نے یورپی طاقتوں کو شمالی اور جنوبی امریکہ میں مداخلت سے دور رہنے کی وارننگ دی تھی۔ تو اب یہ ہوا کہ اٹھارہ سو اٹھانوے میں امریکہ نے منرو ڈاکٹرائن کے تحت ایک ہمسایہ ملک پر حملہ کر دیا۔

امریکہ کی یہ جارحانہ جنگ اس کے سپر پاور بننے اور دنیا کی سب سے بڑی ملٹری پاور بننے کی طرفایک بڑی چھلانگ تھی۔ لیکن یہ چھلانگ تھی کیا دوستو امریکی ریاست فلوریڈا کے نیچے یہ بڑے بڑے جزائر پر مشتمل ملک، کیوبا ہے۔ کیوبا کا علاقہ کولمبس کے زمانے سے ہی یعنی تقریباً چار سو برس سے اسپین کی کالونی تھا۔

لیکن اٹھارہ سو پچانوے، ایٹین نائنٹی فائیو میں وہاں آزادی کی تحریک شروع ہو گئی۔ مقامی لوگوں نے سپینش آرمی سے لڑنا شروع کر دیا کہ وہ ان کا علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ اب اسپینش فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ امریکہ کو اس لڑائی سے پریشانی تھی کیونکہ اس نے کیوبا میں مختلف شعبوں میں پانچ کروڑ، ففٹی ملین ڈالرز کی انویسٹمنٹ کر رکھی تھی۔

اس کے علاوہ امریکہ اور کیوبا کے درمیان دس کروڑ، ہنڈرڈ ملین ڈالرز کی سالانہ تجارت بھی ہوتی تھی۔ لیکن کیوبا میں لڑائی کی وجہ سے امریکہ کی تجارت اور انویسٹمنٹ دونوں تباہ ہو رہی تھی۔ چنانچہ امریکہ نے کیوبا کی لڑائی میں غیر جانبدار رہنے کے بجائے پارٹی بننے کا فیصلہ کرلیا۔

ویسے بھی امریکی میڈیا اور عوام کیوبا کے باغیوں کے ساتھ تھے اور امریکی حکومت پر زور دیتے تھے کہ وہ کیوبا میں مداخلت کر کے انہیں آزادی دلوائے۔ امریکہ نے اس دباؤ کے تحت یا اپنے فائدے کے تحت ایک اپنا جنگی جہاز ’’یو ایس ایس مین‘‘ کیوبا کے موجودہ دارالحکومت ہوانا کی بندرگاہ پر بھیج دیا۔

امریکہ نے یہ جنگی جہاز بھیجنے کا بہانہ یہ بنایا کہ اس جہاز کو بھیجنے کا مقصد کیوبا میں امریکی شہریوں اور ان کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔ لیکن جب یہ جہاز ہوانا کی بندرگاہ پر پہنچا تو وہاں قدرت کے نامعلوم خزانے سے ایک بڑا پتھر لڑھک گیا۔ہوا یہ کہ پندرہ فروری، اٹھارہ سو اٹھانوے، ایٹین نائنٹی ایٹ کی رات جب امریکی جہاز کا زیادہ تر عملہ سو رہا تھا تو اچانک جہاز پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

ایک خوفناک دھماکہ سے جہاز میں آگ لگ گئی۔ اب یہ کسی نے جہاز پر تارپیڈو فائر کیا تھا یا کچھ اور ہوا تھا، کوئی سمجھ نہیں پایا۔ بس دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ پانی میں آگ لگ گئی ہے اور جہاز کا عملہ جانیں بچانے کی ناکام کوششیں کرتا ہوا سمندر میں ڈبکیاں کھا رہا ہے۔ اس حادثے میں عملے کے تقریباً چار سولوگوں میں سے دو سو ساٹھ جان سے چلے گئے۔

تاہم جہاز کے کیپٹن سمیت باقی لوگ زندہ بچ رہے۔ اگرچہ اس جہاز کو پوری طرح سمندر میں غرق ہونے میں کافی وقت لگا لیکن یہ اس بری طرح تباہ ہو چکا تھا کہ اسے بچانے کی کوشش فضول تھی۔ جہاز کے کیپٹن نے موقع ملتے ہی فوری طور پر امریکہ ٹیلیگرام بھیجا اور جہاز کی تباہی کی اطلاع دی۔

امریکہ خبر پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ امریکہ بھر کے اخبارات میں یہ خبر فرنٹ پیج کی ٹاپ ہیڈلائن بن گئی اور اسپین پر دھوکے بازی کا الزام لگا دیا گیا۔ دا ایوننگ ٹائمز نے لکھا کہ یو ایس ایس مین کو اسپین نے تباہ کیا ہے۔ اخبار نے جہاز کے کیپٹن ’’سیگز بی‘‘ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جہاز کو تارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

اخبار نے یہ بھی لکھا کہ اڑھائی سو امریکی سیلرز شارک مچھلیوں کی خوراک بن گئے ہیں اور یہ حب الوطنی کا مسئلہ ہے۔ اخبارات نے ایسا ماحول بنا دیا کہ امریکہ میں اسپین سے بدلہ لینے کے نعرے لگنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments