HomeHistoryHistory of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence |...

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 2

83 / 100

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 2

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 2

یہ امریکہ ہے سو جب صدر گارفیلڈ نے سیاسی بھرتیوں سے انکار کیا تو انھی کی پارٹی کے اسٹالورٹس، گارفیلڈ کے خلاف ہو گئے۔ اسٹالورٹس کو لیڈ کرنے والے ’’سینیٹر روسکو‘‘ نے تو گارفیلڈ کے خلاف بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا۔ اب تو دوستو ریپبلکن پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی۔ اتنی پھوٹ اور پھر اتنی نفرت پھیلی کہ ایک اسٹالورٹ نے اپنے صدر کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

صدر گار فیلڈ کے سپورٹرز میں ایک وکیل بھی شامل تھا جس کا نام چارلز گیٹو تھا۔ یہ شخص بھی ایک اسٹالورٹ تھا اور سرکاری نوکری کا خواہش مند تھا۔ لیکن جب صدر گارفیلڈ نے میرٹ کے بغیر نوکریاں دینے سے انکار کر دیا تو چارلز کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔

صدر سے یہی مایوسی چارلز گیٹو کو اس غصے تک لے گئی جس میں اس نے نئے امریکی سربراہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چارلز نے سب سے پہلے تو یہ کیا کہ ایک ریوالور خریدا جس کا دستہ ہاتھی دانت سے بنا ہوا تھا۔ یہ ایک برٹش بل ڈاگ ریوالور تھا۔ چارلز کو لگتا تھا کہ صدر کے قتل کے بعد جب یہ ریوالور کسی میوزیم میں رکھا جائے گا تو خوبصورت لگے گا۔

چارلز کئی ہفتوں تک اس ریوالور سے فائرنگ کی پریکٹس بھی کرتا رہا۔ دوستو ان دنوں امریکی صدر کی کوئی خاص سیکیورٹی نہیں ہوتی تھی۔ امریکی صدر برائے نام سیکیورٹی کے ساتھ عام لوگوں ہی میں گھومتا پھرتا تھا اس لیے اس وقت اسے نشانہ بنانا آج کی نسبت بہت آسان تھا۔

امریکن سول وار کے دوران امریکی صدر ابراہم لنکن بھی ہلکی پھلکی سیکیورٹی ہی رکھتے تھے لیکن سول وار کے بعد جب ان کی سیکیورٹی کم ہوئی تو آپ جانتے ہیں وہ بھی قتل ہوئے تھے اس کی ساری کہانی آپ ابراہم لنکن کی شاندار اور دلچسپ بائیوگرافی میں دیکھ چکے ہیں۔ اسی طرح گارفیلڈ بھی دوستو اپنے ساتھ سیکیورٹی نہیں رکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گارفیلڈ نے ایک بار لکھا تھا کہ موت تو قتل ہونے سے بھی آ سکتی ہے اور آسمانی بجلی گرنے سے بھی، دونوں سے بچنا ایک جیسا مشکل ہے۔ سو اس پرزیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ پریذیڈنٹ گارفیلڈ کا یہی تجاہل عارفانہ ان کو موت کے قریب لے آیا۔ دو جولائی اٹھارہ سو اکاسی، ایٹین ایٹی ون کو گارفیلڈ وائٹ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر واقع ایک ریلوے اسٹیشن پر پہنچے۔

یہ ریلوے اسٹیشن اب موجود نہیں ہے اور اس کی جگہ دیگر عمارتوں نے لے لی ہے۔ لیکن اٹھارہ سو اکیاسی میں یہ ریلوے اسٹیشن یہیں موجود تھا۔ گارفیلڈ موسمِ گرما گزارنے کیلئے امریکی علاقے نیو انگلینڈ جا رہے تھے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ ٹرین پر سوار ہوتے تاک میں بیٹھے قاتل چارلز نے ان کی کمر کا نشانہ لے کر دو گولیاں داغ دیں۔

پہلی گولی تو ان کے دائیں بازو کو محض چھوکر ہی گزر گئیلیکن دوسری گولی ان کی کمر میں گہری اتر گئی۔ اس گولی سے وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ چارلز نے گولیاں مارنے کے بعد بھاگنے کی کوشش کی لیکن اسٹیشن پر موجود لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ امریکی صدر کو زخمی حالت میں پہلے وائٹ ہاؤس منتقل کیا گیا اور پھر نیو جرسی کے علاقے ’’ایلب ررن‘‘ میں پہنچا گیا۔

وہاں وہ تقریباً تین ماہ تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ ڈاکٹروں کی سر توڑ کوششوں کے باوجود ان کا زخم خراب ہوتا چلا گیا اور آخر ستمبر اٹھارہ سو اکاسی، ایٹین ایٹی ون میں ان کی موت ہو گئی۔ بیس ستمبر کے روز اخبارات نے ان کی موت کا اعلان کردیا۔

وہ جگہ وہ ریلوے اسٹیشن جہاں ان پر حملہ ہوا تھا وہاں اب ریلوے اسٹیشن تو نہیں ہے لیکن جب تک وہ تھا وہاں زمین پر ایک سنہری ستارہ نشان کے طور پر موجود رہا۔ اور جس جگہ انھوں نے آخری سانسیں لیں وہاں یہ ایک یادگاری تختی آج بھی نسب ہے۔

دوستو صدر گارفیلڈ پر قاتلانہ حملے کے بعد اخبارات میں چارلز کے کارٹونز شائع ہوئے جن میں وہ ایک ریوالور اور ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے وائٹ ہاؤس کے باہر کھڑا دیکھایا گیا۔پوسٹر پر لکھا تھا نوکری دو گے یا اپنی جان۔ کچھ کارٹونز میں چارلز کو ایک کلاؤن، مسخرے کے روپ میں بھی دکھایا گیا جو لاء اینڈ آرڈر کو اپنے پاؤں تلے روند رہا تھا اور نوکری کا مطالبہ کر رہا تھا۔

بہرحال گارفیلڈ کی موت کے بعد چارلز پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے پھانسی کی سزا دی گئی۔ مائی کیوریس فیلوز گارفیلڈ تو امریکی سول سروس کو ٹھیک کرنے سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے لیکن ان کی موت رائیگاں نہیں گئی۔

گارفیلڈ کے قتل کے بعد امریکی عوام سپوائلز سسٹم کے اس قدر خلاف ہو گئے کہ امریکی حکومت کے پاس اس سسٹم کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ گارفیلڈ کی موت کے دو برس بعد اٹھارہ سو تراسی میں امریکی کانگریس نے ’پینڈلیٹن سول سروس‘ ایکٹ منظور کر لیا۔

اس ایکٹ کے تحت یہ طے کیا گیا کہ اب ایک سول سروس کمیشن امیدواروں کی صلاحیتوں کی جانچ کر کے انہیں نوکری دے گا۔ پینڈلیٹن ایکٹ امریکہ کے اندر کرپشن کے خلاف بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا۔ اس ایکٹ کے تحت امریکہ میں پہلی بار میرٹ پر سرکاری ملازمین کی بھرتیاں شروع ہوئیں اور کرپشن کم ہونے لگی۔

آج امریکہ کے سرکاری ادارے جو ہمیں مضبوط نظر آتے ہیں تو اس کی بنیاد پینڈلیٹن سول سروس ایکٹ کے ذریعے ہی رکھی گئی تھی۔ یوں دوستو گارفیلڈ نے اپنی زندگی قربان کر کے پیٹرونیج سسٹم کے خاتمے کی شروعات تو کر دی تھی لیکن سرکاری اداروں کو پوری طرح کرپشن سے پاک ہونے کیلئے ابھی بہت وقت درکار تھا۔

اس لئے پینڈلیٹن سول سروس ایکٹ کے بعد بھی مزدوروں کا استحصال جاری رہا۔ جب مزدوروں نے دیکھا کہ واشنگٹن میں بیٹھے سیاستدان ان کی مدد نہیں کر رہے تو انہوں نے اپنی مدد آپ کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے سرمایہ داروں کے خلاف تحریکوں کا آغاز کر دیا اور ان تحریکوں کا مرکز بنا واشنگٹن سے گیارہ سو کلومیٹر دور واقع شہر شکاگو۔ گلڈڈ ایج یعنی اٹھارہ سو ستر کی دہائی سے انیس سو تک کے دور میں مزدوروں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ ان کے کام کا وقت یعنی ورکنگ آورز آٹھ گھنٹے کئے جائیں۔

اس کیلئے انہوں نے پورے امریکہ میں ایک تحریک شروع کر رکھی تھی جسے ایٹ آور ڈے موومنٹ بھی کہتے تھے۔ اس موومنٹ میں شکاگو کے مزدور پوسٹرز ڈیزائن کرتے، مظاہرے کرتے اور اپنی آواز اٹھاتے تھے۔ یہ تحریک دو دہائیوں کے قریب چلتی رہی لیکن مزدوروں کو اس تحریک کا کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آ رہا تھا۔

سرمایہ دار یا حکمران طبقے میں سے کوئی بھی ان کی بات سننے یا ماننے کو تیار نہیں تھا۔ چنانچہ یہ مزدور کسی بڑے ایکشن کا اب منصوبہ بنانے لگے۔ ان مزدوروں کی کمان کرنے والوں میں ایک جرمن امیگرنٹ آگسٹ اسپایئز بھی شامل تھا۔ وہ ایک شعلہ بیان مقرر تھا اور ایک اخبار ’’اربیٹر زائی تونگ‘‘ بھی شائع کرتا تھا۔

اس کے اخبار میں مزدوروں کے حق میں آرٹیکلز لکھے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ سپائیز مزدوروں کی تحریک میں عملی طور پر بھی حصہ لے رہا تھا۔ وہ جہاں تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوتا اپنے الفاظ سے لوگوں کے جذبات میں آگ لگا دیتا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا آج بھی اس پہاڑ پر بت بنے کھڑے ہیں

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments