HomeHistoryHistory of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence |...

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 1

83 / 100

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 1

History of America S02 E05 | Labor Day and Cuba’s Independence | Part 1

یہ شکاگو کی گھاس منڈی ہے اور یہاں ایک تاریخ رقم ہے۔ اب ذرا یہاں دیکھئے۔ یہ بحر اوقیانوس کا ساحل ہے اور اس ساحل پر یہ نیوجرسی کی خوبصورت سٹیٹ کا ’’ایلب ررن‘‘ ٹاؤن ہے۔ یہاں ایک امریکی صدر نے اپنے اصولوں کی خاطر آخری سانسیں لیں تھیں۔ وہ اصول کیا تھے اور گھاس منڈی میں مزدوروں نے کیا تاریخ رقم کی تھی؟

اور ہسٹری کا وہ کون سا واقعہ تھا جس نے امریکہ کو دنیا کی ملٹری پاور کے طور پر متعارف کروا دیا تھا؟میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی ہسٹری آف امریکہ سیریز کی اس قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گےاٹھارہ سو ستر کی دہائی سے انیس سو تک کے دور کو امریکہ کی گلڈڈ ایج کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسا دور جس پر سونے کا ملمع چڑھا کر جھوٹی چمک دھمک پیدا کی ہو۔

یہ گلڈڈ ایج کی ٹرم دوستو طنزیہ طور پر استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اس دور کے امریکہ کی دو تصویریں تھیں۔ ایک وہ چکاچوند والی ترقی یافتہ تصویر تھی جس میں امریکہ آگے بڑھتا پھلتا پھولتا نظر آ رہا تھا۔اس تصویر میں یہ تھا کہ وہاں ٹیلفون ایجاد ہو چکا تھااستعمال ہو رہا تھا، شہروں کی گلیاں برقی قمقموں کی روشنی سے جگمگا رہیں تھیں.

پہلی بار لوگ سڑکوں پر چار پہیوں والی موٹریں چلتی دیکھ رہے تھے ہوائی جہاز اڑانے کے تجربات کی خبریں بھی تصویری اخبارات کی زینت بنتی رہتی تھیں۔ اس تصویر میں امریکہ حقیقت میں ایک نیشن بنتا ہوا ایک ٹکنالوجی نیشن بنتا نظر آرہا تھا کیونکہ امریکہ کی ایکسپورٹس بہت تیزی سے بڑھ رہی تھیں۔ اور اتنی بڑھ رہیں تھیں کہ امریکہ میں دنیا کی تیس فیصد پراڈکٹس تیار کرنے لگا تھا۔

ذہانت، انوویشن اور مقابلے کے رجحان نے امریکہ کو دنیا کا نمبر ون پروڈیوسر نمبر ون ایکسپوٹر بنا دیا تھا اور برطانیہ جو اس وقت سپر پاور تھا وہ پروڈکشن میں دوسرے نمبر پر چلا گیا تھا۔ لیکن یہ صرف ایک تصویر تھیاس تصویر کے پیچھے ایک اور تصویر بھی تھی۔

یہ تصویر ایک بدنما داغ کا منظر تھا۔ منظر یہ تھا کہ وہ لوگ جو اس امریکی چکاچوند کی بنیاد تھےجو اس سنہری دور کی بنیاد تھے جو اپنا خون پسینہ بہا رہے تھے یعنی مزدور، وہ بہت زیادہ استحصال کا ظلم کا شکار تھے۔ اسی لیے بظاہر اس گولڈن ایجن کو کچھ لوگ طنزاً گلڈڈ ایج کہتے تھے، یعنی نقلی چمک دمک والی ترقی۔

کیونکہ اس دور میں وہ مزدور جو یہ سب پراڈکٹس تیار کر رہا تھا روزانہ بمشکل ڈیڑھ ڈالر کماتا تھا یعنی آج کے حساب سے دیکھیں تو صرف دو سو پینتیس روپے روز کے اور مہینے کا حساب کریں تو چھے سے سات ہزار روپے۔ اسی استحصال کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کی اس وقت کی ترقیاس کا پروڈکشن میں نمبر ون مقام مزدوروں کے استحصال پر کھڑا تھا۔

اب یہ استحصال کیوں ہو رہا تھا؟ دوستو اس کی ایک بے ڈھنگی سی وجہ تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ان دنوں امریکہ میں دھڑا دھڑ فیکٹریز لگ رہی تھیں اس لئے عوام کی اکثریت انہیں فیکٹریز میں ملازمت کرلیا کرتی تھی۔ پھر یورپ سے بھی ہزاروں مرد اور عورتیں روزگار اور بہتر زندگی کا خواب لے کر امریکہ میں آ رہے تھے۔

یہ لوگ بھی امریکی فیکٹریوں میں سستے داموں پر بھی کام کرنے کو تیار ہو جاتے تھے اسی لیے سرمایہ داروں کے استحصال کا نشانہ بنتے تھے۔ کیونکہ مزدور لاتعداد مہیا تھے، اس لیے فیکٹری مالکان کو کسی کے آنے جانے کی پروا ہی نہیں تھی۔

سو وہ مزدوروں سے بے تکان دس سے سولہ گھنٹے مسلسل کام لیتے اور تنخواہ کے نام پر آپ جان چکے ہیں کہ یومیہ ڈیڑھ ڈالر دیتے یہ سب کر کے فیکٹری مالکان ہفتے میں ایک چھٹی دیتے اور اپنے تئیں حاتم طائی کی قبر پر لات رسید کر دیتے۔ اس استحصال اور کم تنخواہوں کی وجہ سے مزدوروں کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ وہ گھروں کے کرائے تک افورڈ نہیں کر پا رہے تھے۔

یہ استحصال کھلے عام ہو رہا تھا اور انھیں کوئی انصاف نہیں ملتا تھا۔ اس کی وجہ تھی وجہ یہ تھی کہ جس نے انصاف کے لیے راہ ہموار کرنا تھی یعنی امریکی سیاسی نظام وہ خود ایک کرپٹ بنیاد پر کھڑا تھا۔ امریکہ کے سرکاری ادارے کرپٹ تھے۔ امریکی سیاستدان اور سرکاری افسران رشوت لے کر سرمایہ داروں ہی کے مفادات کا تحفظ کرتے تھے۔

اس کرپشن کی وجہ یہ تھی کہ امریکی سرکاری ملازمین میرٹ پر بھرتی نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ پیٹرونیج یا سپوائلز سسٹم یا مال غنیمت کے اصول پر بھرتی ہوتے تھے۔ اب یہ سسٹم کیا تھا؟امریکہ میں ایک نعرہ مشہور تھا کہ سپوائلز یعنی مال غنیمت، فاتح کی ملکیت ہوتا ہے۔ اس نعرے کی بنیاد پر ہی ایک نظام بنایا گیا تھا جسے عرف عام میں سپوائلز سسٹم کہتے تھے۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ میں جو سیاستدان جو پارٹی الیکشن جیت کر پاور میں آئے گی وہ اپنے سپورٹرز کو سرکاری ملازمتیں دیں۔ مطلب میرٹ کوئی نہیں تھا ہر بھرتی سیاسی بنیادوں پر ہونا ہوتی تھی جس کا فیصلہ جیتنے والی جماعت کرتی تھی۔ یعنی جو پارٹی الیکشن جیتے گی اس کے حامیوں کو سرکاری نوکریاں ملیں گی اور مخالفین سمیت باقی سب کے ہاتھ میں صرف مایوسی آئے گی۔

تو ہوتا یوں تھا کہ جو سیاستدان الیکشن جیت لیتا وہ اپنی پسند کے لوگوں کو ملازمتیں اور دوسری مراعات دے دیتا اور ان کی کرپشن سے آنکھیں بند کر لیتا کیونکہ وہ تو ان کے سپوٹرز تھے۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے یہ لوگ بعد میں سرمایہ داروں کے آلہ کار بن جاتے اور مزدوروں کا استحصال روکنے کے بجائے سرمایا داروں کے مددگار بن جاتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ امریکی عوام میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا تھا کہ سرکاری نوکریوں یعنی سول سروسز میں فوری طور پر اصلاحات کی جائیںریفارمز کی جائیں تاکہ سرمایہ دار اور طاقتور سیاستدان اس نظام کو اپنے مفادات کیلئے استعمال نہ کر سکیں۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ تھا کہ سیاستدان تو خود اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھو رہے تھے وہ بھلا ریفارمز کیلئے کیوں تیار ہوتے؟

لیکن پھر ایسا ہوا کہ طویل انتظار کے بعد آخایک ایسا امریکی صدر آ ہی گیا جس نے سیاسی دباؤ کی پرواہ نہیں کی اور سپوائلز سسٹم کو چیلنج کر دیا۔ اس صدر کا نام تھا جیمز اے گارفیلڈ۔ گار فیلڈ اٹھارہ سو اکاسی، ایٹین ایٹی ون میں امریکہ کے صدر بنے۔ ان کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی تھا کہ سرکاری اداروں کی کرپشن روکنے کیلئے سول سروس میں ریفارمز کیسے کی جائیں۔

وہ سب سے پہلے سپوائلز سسٹم کو ختم کرنے اور سول سروس میں ریفارمز کرنے کا ارادہ کر کے آئے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے سپورٹرز کو سیاسی بنیادوں پر نوکریاں دینے سے انکار کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپوزیشن کے علاوہ ان کی اپنی جماعت، یعنی ریپبلکن پارٹی کے لوگ بھی ان کے خلاف ہو گئے۔ جو ریپبلکنز سیاسی بنیادوں پر نوکریوں کے حق میں تھے انہیں اسٹالورٹس کہا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments