HomeHistoryHistory of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 4

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 4

83 / 100

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 4

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 4

یوں دوستو خلافتِ راشدہ سے شروع ہونی والی فتوحات کا سلسلہ اموی دور میں تکمیل کو پہنچا اور افغانستان پہلی بار مسلمانوں کے کنٹرول میں آ گیا۔ افغان عوام نے مسلم اثر میں آتے ہی اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔ افغانستان میں رہنے والے مختلف قبائل خواہ وہ پارسی تھے، یا بدھ مت یا ایک بدھ مت سے ملتے جلتے مذہب شامانی سے تعلق رکھتے تھے وہ اپنے اپنے مذاہب کی پریکٹس کرتے رہے۔

خاص طور پر افغانستان کے خانہ بدوش قبائل اسلامی تعلیمات سے بالکل بھی آگاہ نہیں ہوئے تھے۔ اموی سلطنت کے خاتمے تک یہی صورتحال رہی۔ لیکن سات سو پچاس کے آس پاس جب اموی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور اس کی جگہ عباسی سلطنت قائم ہوئی تو صورتحال بدل گئی۔

عباسیوں نے ایرانی آرٹ اور کلچر کو اپنا لیا اور اپنی سلطنت میں بڑے پیمانے پر خوبصورت مساجد اور محل وغیرہ تعمیر کروانا شروع کر دیئے۔ بلخ اور ہرات جو کہ اس زمانے میں افغانستان کے اہم ترین شہر تھے وہاں بھی مساجد اور بڑے بڑے محل تعمیر کروائے گئے۔ ان مساجد کے ذریعے اسلام کی تبلیغ زورو شور سےشروع ہوئی اور افغانوں کی بڑی تعداد نے اب یہ نیا مذہب اختیار کرنا شروع کر دیا۔

وہ وقت اور آج کا وقت دوستو اب گزشتہ ایک ہزار برس سے زیادہ ہو چلا ہے اور اسلام ہی افغانستان کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اس وقت افغانستان میں غیر مسلموں کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے، ایک فیصد سے بھی کم۔ لیکن دوستو جو افغانستان اُموی اور عباسی دور میں موجود تھا وہ ایک بڑی طاقت نہیں تھا بلکہ بڑی سلطنتوں کا ایک چھوٹا سا صوبہ ہی تھا۔

افغانستان کو پہلی بار تاریخ میں ایک طاقت کے طور پر متعارف کروانے کا سہرا جاتا ہے ایک ترک سردار کے نام۔ اس سردار کا نام تھا محمود غزنوی۔ اگر عباسی سلطنت افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط رکھتی تو شاید تاریخ میں محمود غزنوی کا نام تک نہ ہوتا۔ لیکن عباسی سلطنت اپنے قیام کی پہلی صدی یعنی آٹھ سو پچاس سے پہلے ہی کمزور پڑنا شروع ہو گئی تھی۔

عباسیوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر سینٹرل ایشیا میں بغاوتیں شروع ہو گئیں اور نئی سلطنتیں قائم ہونے لگیں۔ افغانستان ایک بار پھر ایک سے دوسری سلطنت کے ہاتھوں میں منتقل ہونے لگا۔ آٹھ سو انیس، ایٹ نائنٹین میں سینٹرل ایشیا میں ایک نئی سلطنت قائم ہوئی، سامانیان یا سامانی سلطنت۔ یہ سلطنت نو سو ننانوے تک یعنی تقریباً دو سو برس قائم رہی۔

افغانستان بھی اسی سلطنت کا حصہ تھا۔ نو سو اسی کی دہائی، نائن ایٹیز میں افغانستان کے سامانی گورنر ایک سابق ترک غلام تھے جن کا نام تھا سبکتگین۔ لیکن یہ کوئی عام ترک غلام نہیں تھے بلکہ ان کا شجرہ نسب ایران کی ساسانی سلطنت کے آخری حکمران یزد گرد تک جا پہنچتا تھا۔ وہی یزد گرد جن کے تعاقب میں مسلمانوں نے افغانستان فتح کیا تھا۔

یزد گرد کی اولادوں نے ایران سے پسپا ہونے کے بعد سینٹرل ایشیا میں رہائش اختیار کی تھی اور وہاں مقامی ترک قبائل سے شادیاں کر لی تھیں۔ انہی شادیوں کے نتیجے میں جو نسل آگے بڑھی اسی میں سبکتگین بھی شامل تھے۔ تو اب یہ سبکتگین جن کی رگوں میں قدیم ایرانی اور ترک خون دوڑ رہا تھا وہ سامانیوں کی طرف سے خراسان کے گورنر تھے جس میں ایران اور افغانستان کا بڑا علاقہ شامل تھا۔

انہی کے بیٹے تھے ابوالقاسم محمود جو بعد میں محمود غزنوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ نو سو ستانوے میں جب سبکتگین کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے محمود غزنوی ان کی جگہ حکمران بنے۔ انہوں نے سامانی سلطنت سے بغاوت کر کے افغانستان کو ایک آزاد سلطنت بنا دیا اور غزنی کو اپنا دارالحکومت بنایا۔

انہوں نے یمین الدولہ ابوالقاسم محمود بن سبکتگین کے ٹائٹل سے اپنے سلطان ہونے کا اعلان کر دیا۔ ہسٹورین محمد حبیب کے مطابق محمود غزنوی ہی وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا ٹائٹل اختیار کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مسلم حکمران جو عباسی خلافت سے الگ ہوئے تھے وہ عام طور پر امیر یا ملک وغیرہ کہلاتے تھے۔

جبکہ مصر کے فاطمی حکمرانوں اور اندلس کے اموی حکمرانوں نے اس زمانے میں خلیفہ کا ٹائٹل اختیار کر رکھا تھا۔ تو سلطان محمود غزنوی اسلامی تاریخ کے پہلے ہی سلطان تھے۔ پھر ان کی قیادت میں افغان سلطنت نے اتنی ترقی کی کہ یہ اپنے دور کی سب سے بڑی اور طاقتور اسلامی سلطنت بن گئی۔ حتیٰ کہ ہزاروں میل دور بغداد میں بیٹھے عباسی خلفاء بھی اس کی طاقت کا لوہا مانتے تھے۔

عباسیوں نے محمود غزنوی کو ایک بار بطور تحفہ شاہی لباس یعنی شاہی خلعت بھی بھیجی تھی۔ اس سلطنت کے دور میں ایک اور کام بھی ہوا ایک بہت ہی اہم کام جس نے افغانستان میں رہنے والی ایک قوم کو نئی زندگی دے دی۔ وہ کام تھاافغانستان میں بولی جانے والی ایک زبان پشتو کو دیوناگری کی جگہ عربی رسم الخط میں لکھنے کا کام۔

اس کے نتیجے میں پشتو زبان کو بہت ترقی ملی کیونکہ افغانستان کے حکمران عربی رسم الخط، عربی ٹیکسٹ کو اپنا چکے تھے اور وہاں کسی بھی زبان کی ترقی عربی کے الفاظ میں لکھے بغیر ممکن نہیں تھی۔ یوں پشتو کے رسم الخط کی تبدیلی نے پشتو بولنے والوں کو افغانستان میں اپنی الگ پہچان بلکہ سیاسی طاقت بننے کا موقع بھی فراہم کر دیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پشتون تھے کون؟ کیا واقعی جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ پشتونوں کی ہسٹری چھے ہزار برس پرانی ہے، ایسا ہی ہے؟ چنگیز خان اور مغلوں نے افغانستان سے کیا سلوک کیا؟ ماڈرن افغانستان آج کا افغانستان کیسے قائم ہوا؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے مگر پسٹری آف افغانستان دا گریو یارڈ آف ایمپائرز کی اگلی قسط میں۔ ضرور دیکھئے گا۔

اور اس دوران آپ کے پاس وقت ہے تو سلطنت عثمانیہ کی تاریخ یہاں جان سکتے ہیں۔ یہاں دیکھئے کہ محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملوں کی کہانی کیا تھی؟ اور یہ رہی اسپین میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی مکمل داستان۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments