HomeHistoryHistory of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 3

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 3

83 / 100

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 3

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 3

اس حوالے سے ایک تاریخی قیاس آرائی یہ کی جاتی ہے کہ شاید مقامی لوگوں اور غیر ملکی حملہ آوروں کے اچانک حملے اس کے خاتمے کا باعث بنے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ یہ یونانی حکمران مسلسل حملوں اور جنگ و جدل سے تنگ آ کر افغانستان ہی کے ایک اور علاقےنورستان میں جا کرآباد ہو گئے تھے اور انہوں نے تخت چھوڑ دیا تھا۔

یہ لوگ انیسویں صدی کے آخر تک غیر مسلم ہی رہے۔ یہ ہندو مذہب کو بھی فالو کرتے تھے اور ان کی وجہ سے نورستان کا علاقہ کافرستان کہلایا جاتا رہا۔ جیسا کہ ہمارے پاکستان میں بھی وادی کیلاش کے علاقے کو کافرستان کہا جاتا ہے۔

تو اسی طرح نورستان کا علاقہ بھی کافرستان کہلاتا تھا لیکن پھر یہ ہوا کہ اٹھارہ سو نوے کی دہائی میں افغان بادشاہ عبدالرحمان نے اس علاقے پر حملہ کر دیا کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ اس حملے کے بعد یہاں کے لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کو مسلمان بنانے کے بعد اس علاقے کا نام کافرستان سے بدل کر نورستان کر دیا گیا یعنی نور کی سرزمین۔

تو بہرحال دوستو یونانی سلطنت کا خاتمہ تو نجانے کیوں ہوا لیکن اشوکا کے بعد زیادہ تر افغان عوام کم از کم ایک ہزار سال تک بدھ مت مذہب ہی کے پیروکار رہے۔ حالانکہ اس دوران ہندوستان کے بڑے حصے پر بدھ مت کی جگہ ہندومت نے لینا شروع کر دی تھی۔ افغانستان میں بھی ہندومت اور پارسی مذاہب کے پیروکار موجود تھے لیکن افغانستان کا اکثریتی مذہب بدھ مت ہی رہا۔

یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں بدھ مت کے تحت آرٹ اور کلچر کو فروغ ملا۔ یہاں مجسمے تراشے گئے، عبادت گاہیں قائم کی گئیں اور ان عبادت گاہوں میں بدھ مت کی مذہبی کتابوں کی تعلیم دی جانے لگی۔ صرف بلخ میں ہی ایک سو سے زائد بدھ عبادت گاہیں موجود تھیں جہاں طالبعلموں کے رہنے کا بھی انتظام تھا۔

اسی دور میں افغانستان کے علاقے بامیان میں بدھا کے وہ دیو قامت مجسمے بھی تعمیر کئے گئے جنہیں طالبان نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں تباہ کر دیا تھا۔ مختصر یہ کہ افغانستان میں بدھ مت کا عروج افغانستان کا ایک سنہری دور تھا۔ اس دور میں افغانستان کے رابطے چین اور ہندوستان سے مضبوط ہوئے۔

اس وقت چائنیز میں بھی بدھ مت تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اس لئے افغانستان سے بڑی تعداد میں افغانی مذہبی تعلیم کیلئے ہندوستان کے علاوہ چین بھی جایا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک افغان بدھ بھکشو ’’ہوئی شین‘‘ نے چار سو اٹھاون میں اپنے کچھ چائنیز ساتھیوں کے ساتھ ایک اجنبی سرزمین کا سفر کیا تھا جسے انہوں نے فیوزینگ کا نام دیا تھا۔ آج بہت سے ہسٹورینز کا ماننا ہے کہ ہوئی شین نے ممکنہ طور پر براعظم امریکہ کا سفر کیا تھا۔

کیونکہ کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے سے بھی کوئی ایک ہزار برس قبل افغان اور چائنیز بدھ بھکشوامریکی سرزمین کا مبینہ طور پر یہ سفر کر چکے تھے۔ لیکن چونکہ ان کے جانے کے بعد بھی امریکہ کا بیرونی دنیا سے کوئی مستقل رابطہ قائم نہیں ہو سکا اس لئے امریکہ کی دریافت کا سہرا بہرحال دنیا فی الحال کولمبس کے سر ہی دیتی ہے۔

دوستو موریہ اور یونانی ایمپائر کے بعد اگلے تقریباً سات آٹھ سو برس تک افغانستان میں جہاں بدھ مت امن کا درس دیتا رہا وہیں اس پر بیرونی قوتوں کے حملے بھی جاری رہے۔ سینٹرل ایشیا اور ایران میں جنم لینے والے ایمپائر افغانستان پر قبضے کی کوششیں کرتے رہے۔ چار سو ستائیس کے آس پاس تو یہاں سینٹرل ایشیا سے آنے والے وائٹ ہن قبائل بھی کچھ عرصے کیلئے حکمران رہے۔

لیکن اس سارے عرصے میں افغانستان کی اپنی کوئی تاریخی اہمیت نہیں تھی۔ اس کی حیثیت بس بڑے ایمپائرز کے ایک صوبے جیسی ہوتی تھی جو اسے صرف اس لئے اہمیت دیتے تھے کیونکہ یہ سینٹرل ایشیا، ایران اور ہندوستان کے درمیان ایک اہم پڑاؤ ہوا کرتا تھا۔ اس سے زیادہ افغانستان کی کوئی اہمیت ان ایمپئیرز میں نہیں تھی۔

لیکن پھر ساتویں صدی میں یہاں ایک ایسی طاقت نے قدم رکھا جس نے آنے والی صدیوں میں افغانستان کو خود ایک طاقتور سلطنت بننے میں مدد دی۔ یہ ایک ایسی طاقت تھی جس کے پاس ایک نظریہ بھی تھا اور تلوار بھی۔ اس طاقت کا نام تھا اسلام۔ ساتویں صدی میں جب خلفائے راشدین کے دور میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو اس وقت افغانستان ایران کی ساسانی سلطنت کے قبضے میں تھا۔

افغانستان کے علاوہ سینٹرل ایشیا کا بھی بہت بڑا رقبہ اسی ساسانی ایرانی سلطنت کا حصہ تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے چھے سو چھتیس اور چھے سو بیالیس، سکس تھرٹی سکس اور سکس فورٹی ٹو میں جنگِ قادسیہ اور نہاوند کے معرکوں میں ایرانیوں کو شکست فاش دی اور ایران اور عراق پر قبضہ کر لیا۔

ایرانی شہنشاہ یزد گرد فرار ہو کر افغانستان پہنچے اور انھوں نے بلخ میں پناہ لے لی۔ ان کا تعاقب کرتے ہوئے مسلم لشکر بھی افغانستان میں داخل ہوا اور مسلمانوں نے پہلے ہرات اور پھر بلخ پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ بلخ کو مسلمانوں نے شہروں کی ماں یا مدر آف سٹیز کا خطاب بھی دیا۔

چھے سو اکسٹھ، سکس سکسٹی ون میں جب امیر معاویہ نے اموی سلطنت قائم کی تو یہ وہ تھے جنہوں نے ہندوستان پر حملے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے سپہ سالار مہلب بن ابی صفرہ کو حکم دیا کہ وہ ہندوستان پر حملہ آوور ہو جائیں۔ مہلب بن ابی صفرہ اس وقت ایران اور سینٹرل ایشیا کے اس علاقے کو جسے خراسان کہا جاتا ہے وہاں موجود تھے۔

وہ فوراً لشکر لے کر ہندوستان جانے کے لیے کابل کی طرف چل پڑے۔ انہوں نے کابل سے ملتان تک کئی علاقوں پر حملے کئے اور مقامی حکمرانوں کو شکستیں دے کر کافی مالِ غنیمت حاصل کر لیا۔ اس کے بعد وہ افغانستان کے راستے ہی سینٹرل ایشیا واپس چلے گئے اور سمرقند پر قبضے کی مہم میں حصہ لیا۔

دوسری طرف مسلمانوں کے ایک اور لشکر نے ایرانی علاقے سیستان کی طرف سے پیش قدمی کر کے قندھار پر حملہ کیا۔ مسلم ہسٹورینز کے مطابق قندھار کے شہریوں نے حملہ آور لشکر کا بڑی دلیری سے مقابلہ کیا اور اس لڑائی میں مسلمانوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو فتح ہوئی اور قندھار پر ان کا قبضہ قائم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments