HomeHistoryHistory of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 2

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 2

83 / 100

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 2

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 2

لیکن موریہ ایمپائر کی بڑھتی ہوئی طاقت یونانیوں کو کھٹکنے لگی تھی۔ اسکندر یونانی کے سابق جنرل سلیوکس جنہوں نے سول وار کے دوران سلیوکس ایمپائر کی بنیاد رکھی تھی وہ افغانستان کے ایک بڑے حصے پر اب بھی قابض تھے۔ موریہ ایمپائر سے سب سے زیادہ خطرہ بھی وہی محسوس کرتے تھے۔

اس کے علاوہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مغربی، شمال مغربی ہندوستان جو موجودہ پاکستان ہے اس کے جو علاقے موریہ سلطنت نے چھینے ہیں وہ واپس لے لئے جائیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک بڑی فوج جمع کی اور تین سو پانچ سے تین سو ایک بی سی کے درمیان کسی وقت ہندوستان پر حملہ آور ہو گئے۔

لیکن اس حملہ میں انھیں منہ کی کھانا پڑی۔ چندر گپت موریا کی فوج نے سلیوکس یونانی کو زبردست شکست دے کر ہندوستان سے بھاگا دیا۔ سلیوکس جس راستے سے آیا تھا اسی راستے سے اپنا سا منہ لے کر لوٹ گیا۔ اس شکست کے بعد یونانیوں نے جنوب مشرقی افغانستان کا علاقہ جسے یونانی آراکوسیا کہتے تھے اسے موریہ ایمپائر کے حوالے کر دیا۔

جبکہ شمال مغربی افغانستان یونانیوں کے قبضے میں ہی رہا۔ اس کے علاوہ سلیوکس نے چندر گپت موریہ سے اپنی بیٹی کی شادی بھی کر دی۔ چندر گپت موریہ نے بھی سلیوکس کو پانچ سو ہاتھیوں کا تحفہ دے دیا۔ اس معاہدے کے بعد سلیوکس نے کبھی پھر ہندوستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھا۔

البتہ انہوں نے موریہ ایمپائر سے ملنے والے ہاتھیوں کو یونانی سول وار میں اپنے دشمنوں کے خلاف خوب استعمال کیا۔ تین سو ایک بی سی میں سلیوکس نے موجودہ ترکی میں اپنے حریف اینٹیگنس کی فوج کو شکست دی۔ اس لڑائی میں جنرل اینٹیگنس مارے گئے۔ اس جنگ کو اس تاریخی لڑائی کو بیٹل آف اِیپسس کہا جاتا ہے اور اس میں ہندوستانی ہاتھیوں نے ہی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔

جنرل اینٹیگنس کے بعد ان کے بیٹے ڈی میٹریاس دا فرسٹ نے مقدونیہ یا جسے میسی ڈونیا بھی کہتے ہیں وہاں حکومت جاری رکھی۔ مائی کیوریس فیلوز چندر گپت کی موت غالباً دو ستانوے بی سی میں ہوئی تھی۔ ان کی موت کے بعد موریہ ایمپائر کی افغانستان میں پیش قدمی جاری رہی۔

موریہ ایمپائر کے عروج کے دور میں قندھار اور کابل سمیت افغانستان کا ایک بڑا علاقہ اسی ہندوستانی موریا ایمپئیر کا حصہ بن گیا تھا۔ لیکن پھر دو سو اڑسٹھ بی سی میں موریہ ایمپائر میں ایک بڑی تبدیلی آئی جس نے ہندوستان کو تو متاثر کیا ہی لیکن افغانستان اور اس کی ثقافت پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا۔

اس تبدیلی کا نام تھا اشوکا۔ اشوکا، چندر گپت موریہ کے پوتے تھے اور انہوں نے محض بارہ برس کی عمر میں موریہ ایمپائر کا تخت سنبھالا تھا۔ وہ بھی فتوحات کے شوقین تھے لیکن پھر یوں ہوا کہ ان کا مقابلہ کلینگا نام کی ریاست سے ہوا جو موجودہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں واقع تھی۔

اس لڑائی میں اشوکا جیت تو گئے اور انہوں نے کلنگا پر قبضہ بھی کر لیا لیکن اس جنگ سے جو تباہی ہوئی تھی اسے دیکھ کر وہ بدل گئے۔ اس لڑائی میں کم از کم ایک لاکھ لوگ قتل ہوئے اور ڈیڑھ لاکھ بے گھر ہو گئے۔ اشوکا نے میدان جنگ کا ایک طویل چکر لگایا اور میلوں تک پھیلی لاشیں، چیختے زخمی اور انسانوں کے چیتھڑے بکھرے دیکھے تو انھیں جنگ سے نفرت ہو گئی۔

اس خوفناک جنگ نے اشوکا کے ذہن کو جنگ و جدل سے ہمیشہ کے لیے ہٹا کر امن اور انسانیت کی طرف مائل کر دیا۔ انہوں نے آئندہ ہتھیار اٹھانے سے توبہ کر لی اور بدھ مت اختیار کر لیا جس کی بنیاد ہی عدم تشدد یعنی نان وائلنس پر تھی۔ اب آپ جانتے ہیں کہ مذہب کے پھیلاؤ میں سب سے اہم کردار طاقتور بادشاہ ہی تو ادا کرتے ہیں۔ طاقتور بادشاہ اپنی پسند کے مذہب کو آسانی سے پھیلا لیا کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر رومن ایمپئیر میں رومن شہنشاہ کونسٹنٹائن نے عیسائیت اختیار کی اور اسے پھیلایا تھا۔ اسی طرح اشوکا نے بدھ مت اختیار کیا تو اپنی سلطنت کے کونے کونے میں بدھ مت کی تبلیغ شروع کروا دی۔ اشوکا کا ایک اہم قدم یہ تھا کہ انہوں نے بدھ مت کی تعلیمات کو تختیوں پر لکھوا کر اپنی سلطنت میں جگہ جگہ نصب کروایا ظاہر ہے ان کی سلطنت میں افغانستان کا بھی ایک بڑا علاقہ شامل تھا۔

چنانچہ اشوکا کی سرپرستی میں افغانستان میں بدھ مت تیزی سے پھیلنے لگا۔ آرکیالوجیکل ریسرچ کے دوران افغانستان سے ایسی بہت سی تختیاں برآمد ہو چکی ہیں جنہیں اشوکا کے زمانے میں لکھوایا گیا تھا۔ یوں اشوکا کی کوششوں سے بدھ مت نے افغانستان اور ہندوستان کے عوام میں اپنی جڑیں بہت گہری کر لیں۔

افغانستان میں کئی طاقتور سیاسی گروہوں نے بھی بدھ مت اشوکا کے بعد ہی اختیار کیا تھا۔ دوستو موریہ ایمپائر ایک سو پچاسی بی سی میں ختم ہو گیا۔ جبکہ افغانستان میں آباد ہو جانے والے مقامی یونانیوں نے رفتہ رفتہ سلیوکس ایمپائر کی جگہ لے لی اور خود اپنی ایک آزاد یونانی سلطنت قائم کر لی۔ یہ مقامی یونانی سلطنت جو افغانستان میں قائم ہو چکی تھی اسے گریکو بیکٹرین کہتے تھے۔

یہ یونانی حکمران اس کے یونانی حکمران پہلی صدی بی سی تک افغانستان پر حکومت کرتے رہے۔ اس سلطنت نے افغانستان میں یونانی کلچر کو بہت فروغ دیا۔ افغانستان کے موجودہ صوبے تخار میں انہوں نے اے خائی نوم نام کا ایک شہر بھی بسایا تھا جو ایک طویل عرصے تک ان کا دارالحکومت بھی رہا۔

اس شہر کی باقیات اب بھی موجود ہیں اور ان کی کھدائی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس شہر کو یونانی طرز پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں یونان جیسے تھیٹر اور عبادت گاہیں بھی موجود تھیں۔ لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ اس سلطنت کے بادشاہ ہرمائیس کے بعد اچانک سے اس سلطنت کا نام و نشان ہوا ہو گیا۔

یہ عجیب سی تاریخی الجھن ہے کہ افغانستان سے چالیس قبل از مسیح، فورٹی بی سی کے بعد اچانک سے یونانی سکوں کی جگہ مقامی بادشاہوں کے سکے ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ یونانی سلطنت ایک دم سے کہاں چلی گئی؟

یہ بھی پڑھیں۔۔معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے کے قریب

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments