HomeHistoryHistory of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 1

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 1

83 / 100

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 1

History of Afghanistan E02 | Islam in Afghanistan | Part 1

یہ جون تھری ٹوئنٹی تھری بی سی کی بات ہے کہ فاتح عالم اسکندر اعظم بسترِ مرگ پر تھے۔ ان کے بستر کے گرد ان کے بہترین اور قابل جنرلز کھڑے تھے جن پر انہوں نے اپنی فوجی مہمات کے دوران بہت بھروسہ کیا تھا۔ لیجنڈ ہے کہ انہوں نے اسکندرِ اعظم سے پوچھا، ان جنرلز نے پوچھا کہ آپ اپنی موت کے بعد اپنا تخت کسے سونپنا چاہیں گے۔

اسکندر نے جواب دیا جو تم میں سب سے طاقتور ہے اس کو۔ دس اور گیارہ جون تین سو تئیس بی سی کی درمیانی رات اسکندر اعظم کا انتقال ہو گیا۔ یہ جو شکستہ دیواریں آپ سکرین پر دیکھ رہے ہیں یہ وہی محل ہے جس میں اسکندر اعظم نے ممکنا طور پر زندگی کی آخری سانسیں لی تھیں۔

اس محل کو بابل کے مشہور بادشاہ بخت نصر، نے تعمیر کروایا تھا، وہی بخت نصر جنہوں نے یروشلم فتح کر کے یہودیوں کو قیدی بنایا تھا اور ہیکلِ سلیمانی کو تباہ کر دیا تھا۔ لیکن جیسے آج بخت نصر کا محل تباہی و بربادی کی تصویر بنا ہوا ہے ویسے ہی اسکندر اعظم کے بعد ان کی سلطنت بھی پارہ پارہ ہو گئی۔ لیکن اس سلطنت کے خاتمے کے واقعات میں افغانوں نے کیا کردار ادا کیا۔

افغانستان پر اسلام کا پرچم کس نے لہرایا؟ موجودہ افغان ریاست کی بنیاد کیسے پڑھی؟ میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی ہسٹری آف افغانستان، دا گریو یارڈ آف ایمپائرز کی اس قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے۔ جب اسکندرِ اعظم کی موت ہوئی تو ان کی افغان بیوی، ملکہ رخسانہ امید سے تھیں، پریگننٹ تھیں۔

اسکندرِ اعظم کے قریبی ساتھیوں کو یقین تھا کہ ملکہ رخسانہ ایک بیٹے کو ہی جنم دیں گی جو کہ ان کے بعد ان کی سلطنت کا سکندراعظم کی سلطنت کا وارث ہو گا۔ لیکن کچھ ایسے لوگ ایسے بھی تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ رخسانہ چونکہ یونانی نہیں ہیں اس لئے ان کی اولاد اسکندر یونانی کی جائز وارث نہیں ہو سکتی۔

بات یہ تھی کہ یونانی اپنے علاوہ ہر قوم کو اور خاص طور پر ایشیائی لوگوں کو وحشی اور غیر مہذب، اَن سیویلائزڈ سمجھتے تھے۔ ملکہ رخسانہ بھی چونکہ یونانی نہیں تھیں اس لئے بہت سے یونانی کمانڈر اور اشرافیہ کے لوگ ملکہ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن یونانیوں میں چونکہ اولاد کو باپ سے منصوب کیا جاتا تھا،

اس لیے سب مخالفتوں کے باوجود تخت پر ملکہ رخسانہ اور ان کے ہونے والے بچے کا دعویٰ دوسرے دعووں کی نسبت سب سے مضبوط تھا۔ اسکندرِ اعظم نے یونانی فوج میں بڑی تعداد میں اب افغانوں کو بھی بھرتی کر لیا تھا اور یہ افغان فوجی ملکہ کے وفادار تھے اور وہ ملکہ رخسانہ کو سپورٹ کرتے تھے۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اگر رخسانہ بیٹے کو جنم دے بھی دیتیں تو وہ بچہ فوراً اس وسیع و عریض سلطنت کی حکمرانی کے قابل تو نہیں تھا۔ اسے وقت چاہیے تھا اور اس وقت میں کسی نے تو اس سلطنت کو گورن کرنا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بخت نصر کے محل میں اسکندر اعظم کی آخری رسومات ابھی جاری تھیں کہ ان کے جنرلز سر جوڑے بیٹھے تھے مگر سلطنت کے نئے وارث کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔

آخر بہت سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ملکہ رخسانہ کے ہونے والے بچے اور اسکندرِ اعظم کے سوتیلے بھائی ایرہائیڈیس جو کہ ذہنی معذور تھے انہیں مشترکہ طور پر سلطنت کا حکمران بنا دیا جائے۔ یعنی ان دونوں کو علامتی طور پر حکمران کی سیٹ پر بیٹھا دیا جائے لیکن سلطنت کا سارا انتظام اسکندرِ اعظم کے یہی کمانڈرز، جنرلز چلائیں۔

اس طرح یہ معاملہ طے کر لیا گیا۔ کچھ عرصے بعد دوستو رخسانہ نے یونانیوں کی توقع کے عین مطابق ایک بیٹے کو جنم دیا۔ اس بیٹے کو الیگزانڈر فور کا نام دیا گیا جبکہ اسکندر اعظم کے سوتیلے بھائی ایرہائیڈس کو فلپ تھری کا ٹائٹل مل گیا۔ ان دونوں کے نام پر یونانی جنرلز ملک کا انتظام سنبھالنے لگے اس ایمپئیر کو چلانے لگے۔

لیکن یہ بندوبست محض دو برس ہی چل پایا۔ جو یونانی ملکہ رخسانہ سے ان کے افغان بیک گراؤنڈ کی وجہ سے نفرت کرتے تھے وہ ان کے بیٹے الیگزانڈر فور کو دل سے حکمران تسلیم نہ کر سکے۔ کچھ جنرلز خود بھی بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہے تھے وہ ایک بچے اور ایک ذہنی معذور کے ماتحت نہیں رہنا چاہتے تھے۔

حکومتی معاملات چلانے کے حوالے سے بھی یونانی جنرلز میں سخت اختلافات تھے۔ اسکندرِ اعظم کی موت کے محض دو برس بعد تین سو اکیس بی سی میں ان کے درمیان اختلافات باقاعدہ خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گئے اور یونانی سلطنت میں سول وار شروع ہو گئی۔

یہ سول وار تقریباً چالیس برس تک جاری رہی اور جب ختم ہوئی تو اسکندرِ اعظم کی عظیم سلطنت کا زیادہ تر حصہ ان کے تین جنرلز میں تقسیم ہو چکا تھا۔ جنرل اینٹیگنس کا قبضہ اس ایمپائر پر تھا جس میں یونان شامل تھا۔ جبکہ مصر پر جنرل ٹولیمی کی حکمرانی تھی۔ ترکی، شام، ایران، عراق، افغانستان اور سینٹرل ایشیا کے علاقوں پر جنرل سلوکس نے سلوسڈ ایمپائر قائم کر لی تھی۔

یہ تینوں ایمپائر اسکندر اعظم کے جنرلز نے اپنے بل بوتے پر اس خانہ جنگی کے بعد قائم کئی تھیں۔ خانہ جنگی کے دوران ہی تین سو دس قبل از مسیح میں اسکندرِ اعظم کی افغان دلہن رخسانہ اور ان کے بیٹے الیگزانڈر فور کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ یوں اسکندرِ اعظم کی بلڈ لائن مٹ گئی تھی اور وہ افغان جو اسکندرِ اعظم کے بیٹے کے ذریعے پورے یونانی ایمپائر پر حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے اب وہ سیلیوکس ایمپائر کے قبضے میں ان کی غلامی میں جا چکے تھے۔

ساتھ میں یہ ہوا کہ یونانی سول وار ختم ہونے سے پہلے ہی موجودہ افغانستان کا ایک بڑا علاقہ یونانیوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ وہ اس طرح کہ تین سو اکیس بی سی میں جب یونانی سول وار شروع ہوئی تو اسی وقت افغانستان کے ہمسائے ہندوستان میں ایک بہت طاقتور سلطنت نے جنم لیا جس کا نام تھا موریہ ایمپائر۔

اس سلطنت کے بانی چندر گپت موریہ تھے۔ لیکن اس زمانے تک شمال مغربی ہندوستان یا موجودہ پاکستان کے بہت سے علاقے جنہیں اسکندرِ یونانی نے فتح کیا تھا وہ ابھی بھی یونانیوں کے قبضے میں تھے۔ یہاں کچھ یونانی فوج بھی تعینات تھی خاص طور پر ٹیکسلا میں جسے تکشلا بھی کہا جاتا ہے۔ چندر گپت موریہ کو ہندوستانی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی موجودگی ایک پل گوارہ نہیں تھی۔ اس کے علاوہ بھی وہ اپنی سلطنت کو بھی پھیلانا چاہتے تھے۔

چنانچہ انہوں نے ٹیکسلا پر حملہ کر کے یونانیوں کو شکست دی اور انہیں ہندوستان سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ یوں مغربی ہندوستان یونانیوں سے آزاد ہو گیا۔ یونانیوں کو شکست دینے کے بعد چندر گپت موریہ نے ہندوستان کے اور بہت سے علاقے فتح کر کے موریہ ایمپائر کو مستحکم کر لیا۔ انہوں نے پاٹلی پتر یا موجودہ پٹنہ کو اپنا دارالحکومت بنایا اور ہندوستان پر حکومت کرنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔ہ ایمرجنسی کی صورت میں آپ کا وٹس ایپ آپ کی لوکیشن بھی بتادے ۔

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments